• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فریحہ تحریم

کھانے پینے کی ’’پیکٹ مصنوعات‘‘ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لہٰذا، اب یہ جاننا بہت ضروری ہوگیا ہے کہ آپ جو کھا رہے ہیں، درحقیقت اس سے آپ کا جسم کیا حاصل کررہا ہے۔ پیکٹ کے پیچھے درج نیوٹریشن فیکٹس یا غذائی معلومات کا لیبل اس غذا کا ایک شفّاف آئینہ ہوتا ہے۔

یہ لیبل دراصل ہمیں اس غذا سے متعلق تمام تر معلومات فراہم کرتا ہے اور عالمی قوانین کے مطابق ہر کمپنی پر یہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے صارفین کولا زماً بتائے کہ پر اڈکٹ کی تیاری میں کیا کیا اور کس مقدار میں شامل کیا گیا ہے۔

ایک عام نیوٹریشن لیبل کو کیسے پڑھا اور سمجھا جاتا ہے، آئیے، جانتے ہیں۔نیوٹریشنل لیبل پڑھنے کی شروعات ہمیشہ سب سے اوپر لکھی ہوئی سطر سے کریں، اسے سرونگ سائز یا خوراک کی مقدار کہا جاتا ہے۔

سرونگ سائز کیا ہے ؟

اس کا مطلب وہ مقدار ہے ،جو کمپنی کے مطابق ایک عام انسان کو ایک وقت میں کھانی چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایک بسکٹ کا پیکٹ خریدتے ہیں تو اس کے اوپر لکھا ہوتا ہے۔ سرونگ سائز : 55 گرام، سرونگ پر کنٹینرز 3: ۔یہاں سرونگ پر کنٹینر کا مطلب ہے کہ اس پورے پیکٹ کے اندر کل تین سرونگز موجود ہیں۔ یعنی وہ پورا پیکٹ ایک انسان کے تین بار کھانے کے لیے یا پھر تین لوگوں کے لیے ہے۔اس کے نیچے واضح الفاظ میں کیلوریز لکھی ہوتی ہیں۔

کیلوریز دراصل اس توانائی کا نام ہے، جو وہ غذا کھانے سے آپ کے جسم کو ملتی ہے۔ عام طور پر لوگ کسی بھی چیز کا پورا پیکٹ ایک ہی نشست میں کھا جاتے ہیں اور پھر لیبل پر نیچے لکھی ہوئی کیلوریز، مثال کے طور پر 150 دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے صرف 150 کیلوریز لی ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اگر آپ نے پورا پیکٹ اکیلے کھا لیا ہے تو آپ نے ایک نہیں، تین سرونگز کھا ئی ہیں اور اب لیبل پر نیچے لکھی ہوئی چیزوں کو تین سے ضرب دے کرحاصل کردہ کیلوریز کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ لیبل پردرج معلومات کبھی 100 گرام یا ملی میٹر کے حساب سے بھی لکھی ہوتی ہیں۔ اگر آپ 100 گرام سے کم یا زیادہ مقدار کھا رہے ہیں، تو لیبل پر لکھی ہوئی کیلوریز کی مقدار نہ دیکھیں۔

مثال کے طور پر، اگر آپ 30 گرام کا چپس کا ایک پیکٹ کھا رہے ہیں، تو اس کی معلومات کو اپنے کھائے گئے حصّے کے حساب سے کم کر کے دیکھ لیں۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ جتنا حصّہ آپ کھا رہے ہیں، پیکٹ پر لکھی ہوئی تمام اشیاء (کیلوریز، چربی اور چینی) کا حساب اسی تناسب سے لگا ئیں ،تاکہ آپ کو اپنی خوراک کی اصل غذائیت کا صحیح اندازہ ہو جائے۔

لیبل پر نیچے غذائی اجزا کا تفصیلی حصّہ ہوتا ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے ہم غذائی اجزا کو دو بڑے حصّوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلی وہ چیزیں جنہیں ہم نے کم سے کم کھانا ہے اور دوسری جنہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا ہے۔

مجموعی چر بی، سوڈیم اور شامل کردہ چینی (وہ چینی جو کمپنی نے ذائقہ بڑھانے کے لیے شامل کی ہے) ان تمام چیزوں کو کم ہونا چاہیے، جب کہ غذائی فائبر، پروٹین، وٹامن اور منرل زیادہ ہونے چاہئیں۔ پیکٹ کے پیچھے نیچے کی جانب عام طور پر پوٹاشیم، وٹامن ڈی، کیلشیم اور آئرن لکھے ہوتے ہیں۔

کیلشیم اور وٹامن ڈی: ہڈیوں اور دانتوں کے لیے۔

آئرن: خون کی کمی دور کرنے کے لیے۔

پوٹاشیم: بلڈ پریشر کنٹرول میں رکھنے کے لیے۔ یہ سوڈیم کے الٹ کام کرتا ہے۔

اس کے علاوہ کچھ نیوٹریشن لیبل پر آپ کو ڈیلی ویلیو کے ساتھ فی صد کے نشانات نظر آئیں گے ۔ یہ فی صد ہمیں بتاتی ہے کہ اس غذا کی ایک سرونگ کھانے سے آپ کے پورے دن کی ضروریات کا کتنا فی صد حصہ پورا ہو رہا ہے۔ یہ حساب 2000 کیلوریز پر مشتمل خوراک کے معیار پر لگایا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی دودھ کے ڈبے پر لکھا ہے کہ اس میں 25 فی صد کیلشیم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اگر اس کا ایک گلاس پی لیں تو آپ کے پورے دن کی کیلشیم کی ضرورت کا 25 فی صد پورا ہو جائے گا، باقی 75 فی صد دن کے دوسرے کھانوں سے پورا کرنا ہوگا۔ اس کو مزید سمجھنے کے لیے ماہرینِ غذائیت نے بہت آسان اصول بنایا ہے، جسے 5 اور 20 کا اصول کہتے ہیں۔

اگر کسی جز کی ڈیلی ویلیو 5 فی صدیا اس سے کم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس غذا میں وہ چیز بہت ہی کم مقدار میں ہے۔ اور اگر 20 فی صد یا اس سے زیادہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ غذا اس جز سے بھرپور ہے۔

اس اُصول کو اس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کچھ چیزوں یعنی کہ چربی، نمک یا چینی کے لیے ہمیشہ کوشش کریں کہ ان کی مقدار5 فی صد یا اس سے کم ہو اور فائبر ، پروٹین اور وٹامنز کے لیے کوشش کریں کہ ان کی مقدار 20 فی صد یا اس سے زیادہ ہو، تا کہ آپ بھرپور غذائیت حاصل کر سکیں۔

نیوٹریشنل لیبل کے نیچے یا اس کے آس پاس ایک اور فہرست ہوتی ہے۔ جسے اجزاء کی فہرست کہا جاتا ہے۔ اس میں اجزاء کو ہمیشہ وزن کے حساب سے ترتیب وار لکھا جاتا ہے۔ یعنی جو چیز اس خوراک کو تیاری میں سب سے زیادہ استعمال ہوئی ہے، اس کا نام سب سے پہلے آئے گا۔

مثا ل کے طور پر آپ نے مارکیٹ سے کیچپ خریدا ہے، جب آپ اس کے اجزا ءکی فہرست دیکھتے ہیں تو اس کے اجزا کے لیبل پر پانی، چینی، ٹماٹو پیسٹ اور نمک لکھا ہوتا ہے، چوں کہ چینی کا نام ٹماٹو پیسٹ سے پہلے لکھا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کیچپ میں ٹماٹر سے زیادہ چینی شامل کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں، بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہر کمپنی کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اپنے پیکٹ پر الرجی پیدا کرنے والے اجزاء واضح طور پر لکھیں، کیوں کہ دنیا بھر میں ایسے بہت لوگ ہیں، جنہیں مختلف غذاؤ ں سے الرجی ہوتی ہے، کچھ لوگوں کو معمولی الرجی ہوتی ہے، جب کہ بعض کو شدید ہوتی ہے۔

الرجی والے اجزاء کو عموماً دو طریقوں سے لکھا جاتا ہے۔ اگر کسی بسکٹ میں انڈے یا دودھ شامل ہو تو اجزاء کی فہرست میں ان کو واضح کیا جاتا ہے اورجن بسکٹس میں گندم، دودھ اور انڈے شامل ہوں، اُن پر بھی لکھا جاتا ہے، تا کہ جن افراد کو ان چیزوں سے الرجی ہے، وہ یہ بسکٹ نہیں کھائیں۔

دوسرا جملہ جو الرجی کے متعلق اکثر پیکٹس پر لکھا ہوتا ہے کہ، ’’اس میں گندم کے اجزاء شامل ہو سکتے ہیں یا یہ اس فیکٹری میں بنا ہے، جہاں گندم والی چیزیں بنتی ہیں‘‘۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پراڈکٹ کی ترکیب میں تو وہ چیز شامل نہیں ہے، لیکن یہ جس مشین یا فیکٹری میں بنا ہے، وہاں گندم سے بنی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ اگر کسی کو الرجی بہت زیادہ شدید ہے، تو اُسے ایسی چیزیں خریدنے سے بالکل پرہیز کرنا چاہیے، کیوں کہ مشینوں پر رہ جانے والے معمولی سے ذرّات بھی اُس شخص کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں، جسے گندم سے الرجی ہے۔

آپ جب بھی کوئی غذائی اشیاء خریدیں تو اس کے پیچھے دی گئی اجزاءکی معلومات کو ایک مرتبہ لازماً پڑھیں، کیوں کہ ان سے متعلق جاننا آپ کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ آپ کی صحت پر ان کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

(مضمون نگار، جامعہ کراچی میں، فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی طالبہ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید