سید معراج جامیؔ
کسی شخص کے لیے اِس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے کہ اُس کا ددھیال مولوی نظام الدین نظامی (فارسی شاعر) کا خاندان ہو اور ننھیال شمس العلماء، مولوی ذکاء اللہ خان کا گھرانا۔ ہم نے اس مضمون کا عنوان ’’تابشؔ نغمہ سنج‘‘ مسعود الحسن تابشؔ دہلوی کی ایک غزل کے مقطعے سے لیا ہے۔ پورا شعر کچھ یوں ہے۔ ؎ اُس صبا دامن کی محفل میں ہوں تابشؔ نغمہ سنج…کیوں نہ پہنچیں دُور تک شعلے میری آواز کے۔
یہ غزل مسعود تابشؔ دہلوی کے پہلے مجموعۂ کلام ’’مہرِنیم روز‘‘ میں شامل ہے۔ تابشؔ دہلوی کراچی میں اُردو ادب و شاعری کی آبرو اور شعرائے کرام کے سلطان تھے کہ اُن کا سراپا دیکھنے والوں کے دِل مسخّر کردیتا تھا۔ اُن سے ہماری نیازمندی ہمارے استادِ گرامی، فداؔ خالدی دہلوی کے رباعیات کے مجموعے، ’’آتشِ خوابیدہ‘‘ کے سبب ہوئی۔
استادِ محترم نے ہمیں اپنی رباعیات کا یہ مجموعہ دینے اُن کے ہاں بھیجا۔ کتاب لےکر ناظم آباد میں واقع اُن کےگھرگئے، تو انہوں نے نہایت عزت واکرام سےڈرائنگ میں بٹھایا اورچائے پیش کی اور بس… پھر اُن سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یاد رہے، اُن سے ملاقات کے لیے جانے والے ہر شخص کواُن کے ہاں، ایک کپ چائے ضرور پینی پڑتی تھی اور یہ چائے تابشؔ صاحب کی چائے نہیں چاہ ہوتی تھی۔
ہم نے اس مضمون کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے کے لیے مسعود الحسن تابشؔ دہلوی کی شخصیت اور شعری و ادبی خدمات سے متعلق اُن کے ہم عصر مشاہیرِ ادب کے چند کلمات بھی منتخب کیے ہیں، مگر اس سے قبل اتنا عرض کردیں کہ صرف صنفِ نازک ہی نہیں، حضرات بھی اپنی ظاہری خُوب صُورتی کی وجہ سے مرکزِ نگاہ بن سکتے ہیں اور اگر ایسے احباب باطنی طور پر بھی ہیرے کی مانند شفّاف ہوں، تو پھر وہ محبوبیت کے درجے پر فائز ہو جاتے ہیں۔ تابشؔ دہلوی کی شکل و صُورت تو دل میں کُھب جانے والی تھی ہی مگر ان کی صُحبت بھی کسی ملکۂ صبا کی قُربت سے کم نہ تھی، جب کہ سونے پر سہاگا اُن کی شاعری تھی کہ جس کا ایک زمانہ معترف ہے۔
مسعود الحسن تابشؔ دہلوی کی شخصیت اورشاعری سے متعلق سب سے پہلے مولانا ماہرؔالقادری کے خیالات ملاحظہ فرمائیں۔ ’’ تابشؔ کی شاعری میں چھیڑ چھاڑ، لمس و تقبیل اورسطحی اشارے کنارے نہیں ہیں۔ رمزیت اور اشاریت بے شک ہے، مگر وہ سنجیدہ ہے۔ یہی باوقار سنجیدگی ان کے کلام کی امتیازی خصوصیت ہے، جہاں تک زبان کا تعلق ہے، تو ایک دہلوی شاعر کے کلام میں رچاؤ پایا جانا ہی چاہیے۔ وہ نشست و برخاست، گفتگو، لباس اور رہن سہن میں ایک خاص سج دھج رکھتے ہیں اور ان کی شاعری میں بھی یہی رکھ رکھاؤ ملتا ہے۔
تابشؔ کا یہ شعر ؎ ساقی تو ہی روکےگا اس گردشِ دوراں کو… آخر تِرے ہاتھوں سے پیمانہ گزرتا ہے۔ اُردو زبان کے عظیم اشعارمیں شمار ہونا چاہیے۔‘‘ اب ماہر القادری کی رائے کی روشنی میں تابشؔ دہلوی کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔ ؎ اِس طرح سُنتا ہوں مَیں ایک ایک کی رُودادِ غم… جس طرح کوئی سُنائے میرا افسانہ مُجھے۔ ؎ اِک تعلق تو ہے قائم تابشؔ اہلِ دہر سے… دوست کوئی ہو نہ ہو، تیرا کوئی دشمن تو ہے۔ ؎ تِری تجلّی، مِری تمنّا، کبھی حقیقت، کبھی فسانہ… چُھپے تو سر بستہ رازِ ہستی، کُھلے تو ہے سَربہ سَرزمانہ۔
ڈاکٹر محمد احسن فاروقی تابشؔ دہلوی کے دوسرے مجموعہ کلام، ’’چراغِ صحرا‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ ’’تابشؔ صاحب کی غزلیں جس کمال کے ساتھ اُن کی انفرادیت کی آئینہ دار ہیں، وہ اس دَور کے بہت کم شاعروں کے حصّے میں آیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ ایسی صُحبتوں میں اب تک رہے ہیں، جن کو ہماری تہذیب کا بہترین نمونہ کہنا چاہیے اور ان کی شاعری تہذیب یافتہ ادب کی بہترین مثال ہے۔
صحت، متانت، توازن، نفاست اس کی وہ صفات ہیں، جو سب سے پہلے ہمیں متاثر کرتی ہیں۔ تابشؔ صاحب مشاعروں کے شاعر نہیں ہیں، کیوں کہ اُن کی شاعری ایک دَم سے بھڑکا دینے والی نہیں۔ وہ پہلے دعوتِ فکر و نظر دیتی ہے اور پھر اپنے حُسن کا وہ عالم دکھاتی ہے، جس میں فکر ایسے لطیف لباس میں ملبوس نظر آتی ہے کہ جس کے رنگ کی ہم آہنگی عام نظر کے بس کی با ت نہیں ہے۔‘‘
مسعود الحسن تابش ؔصرف شاعر ہی نہیں بلکہ شاعر گَر بھی تھے، نیز شاعری کے جملہ اوصاف اور زبان وبیان کے بڑے اچھے پارَکھ بھی تھے۔ ہمیں یاد ہے، جب ہم ان کے ساتھ مشاعرے پڑھتے تھے، تو وہ ہم جیسے نوجوانوں کے کلام میں زبان وبیاں کے سُقم کو مشاعرے کے بعد ہم پر واضح کرتے، بَھرے مشاعرے میں دیگر بہ زعمِ خود استاد شعراء کی مانند ٹوک کر اپنی بڑائی کا مضحکہ خیز مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔
اُنہوں نے نوجوان شعراء کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی اور ان کے بہتر شاعر بننے کے لیے اپنا فیض بھی عام کیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُن کے تیسرے شعری مجموعے، ’’ماہِ شکستہ‘‘ کا ’’حرفِ آغاز‘‘ نوجوان شعراء کی تربیت کے لیے ہدایات پر مشتمل ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔ ’’شاعری لفظوں کا کھیل ہے اور وہی شاعر اچّھا ہے جو اس کھیل کے تمام داؤ گھات جانتا ہو، اس کھیل کے اصول و قواعد سے آشنا ہو اور ان کو برتنے کا سلیقہ بھی رکھتا ہو۔
الفاظ بہ ذاتِ خود بے جان ہوتے ہیں، ان کے استعمال کی نئی نئی جہتیں، نئے نئے معنی اور مفاہیم جنم دیتی ہیں اور لہجے کا اُتار چڑھاؤ بھی مافی الضمیر ادا کرنے کے نئے نئے اسلوب تراشتا ہے۔ قدیم شعراء زبان وبیان کے بڑے اچّھے پارَکھ تھے۔ وہ اپنے شاگردوں سے روز شعر کہلواتے اور روز رد کرتے۔ اس طرح وہ اپنے شاگردوں کو الفاظ کے مناسب اور دُرست استعمال کی تربیت دیتے اور مفاہیم کی نو بہ نو جہتوں سے آشنا کرتے، جب کہ آج کا شاعر ان قدیم شعراء کے کلام کو دقیانوسی قرار دے کر قابلِ اعتناء نہیں سمجھتا۔
یہی وجہ ہے کہ جو ذخیرۂ الفاظ اور اُن کے دروبست کا جوسلیقہ ان شعراء کو میسّر تھا، وہ اس سے یک سَر محروم ہے۔ جدید شعراء کا المیہ ان کے کلام کی یک سانیت ہے اور کون سی غزل کس شاعر کی ہے، یہ سراغ لگانا تک مشکل ہوگیا ہے، حالاں کہ شاعری میں اپنی شناخت کے لیے اسلوب کی انفرادیت کے ساتھ اپنے مضامین، اپنا ذخیرۂ الفاظ، استعارے اور اپنی تشبیہات نہایت ضروری ہیں، ورنہ شاعر کو کوئی انفرادی مقام حاصل نہیں ہو سکے گا اور شاعری محض نقّالی کی بھونڈی مثال ثابت ہوگی۔‘‘
انھوں نے نوجوان شعراء کا یہ المیہ پہلی بار بیان نہیں کیا بلکہ اس بات کا رونا ہر صاحبِ علم و فن روتا رہا ہے، مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ سارے نوجوان شعراء ہی ’’ایک لکیر‘‘ کو پِیٹ رہے ہیں بلکہ آج بھی بعض شعراء اپنے معنی خیز کلام، منفرد زبان وبیان اور خیالات کی بلندیٔ پرواز کے سبب اُردو ادب کی دُنیا پر چھائے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں ضرورت صرف مطالعے اور مجاہدے کی ہے۔
مسعود الحسن تابشؔ نے اپنے ساتویں مجموعۂ کلام، ’’دھوپ چھاؤں‘‘ کا انتساب اپنے استادِ گرامی، فانیؔ بدایونی کے نام کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’جنہوں نے مُجھے یہ سبق بھی دیا کہ ’’درد کو روحانی بنانا ترقّی ہے۔‘‘ اہلِ علم بہ خوبی جانتے ہیں کہ یہ کون سا درد ہے، جس کو روحانی بنانا اشد ضروری ہے اور اس درد کو اوجِ کمال تک پہنچانے سے کون سی ترقّی حاصل ہوتی ہے۔‘‘ تابشؔ صاحب ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ اُنہوں نے صراطِ مستقیم سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور رسول اللہﷺ سے اُن کی محبّت وعقیدت بہت قوی ہے۔
گرچہ اُن کا ایک ہی نعتیہ مجموعہ، ’’تقدیس‘‘ منظرِ عام پر آیا، مگر اس کی پاکیزگی پر سبھی نے عقیدت بَھرے جذبات کا اظہار کیا۔ اس ضمن میں مولانا منتخب الحق فرماتے ہیں کہ ’’ تابشؔ دہلوی سکّہ بند ادیبوں کی صف میں ممتاز حیثیت کے مالک ہیں۔ جس طرح اُن کی شخصیت باوقار ہے، اُسی طرح اُن کا تخلیق کردہ ادب بھی معتبر ہے، وہ دہلی کے رہنے والے ہیں اور اپنے پورے وجود میں اُس کی نمایندگی کرتے ہیں۔ اُنہیں زبان وبیان پر حاکمانہ قدرت حاصل ہے۔
کلام غلطیوں سے پاک ہے، جب کہ وہ معنی آفرینی کے دل دادہ ہیں اور بہت سوچ سمجھ کر اس وادیٔ پُرخار سے گزرتے ہیں۔ شعر کے باطنی حُسن کے ساتھ ساتھ ظاہری نمود کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ جہاں تک مَیں نے ان کا افکار کا مطالعہ کیا ہے، مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ وہ دہلی اور لکھنؤ دونوں ہی مکتبۂ فکر کی مثبت نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ شاعر تو غزل کے ہیں، لیکن دیگر اصنافِ سُخن پر بھی حاوی ہیں، چناں چہ انہوں نے نعت، منقبت، رباعی، نظم اور ایک مرثیہ بھی کہا ہے اور اُن کا کمالِ فن یہ ہے کہ انہوں نے ہر جگہ اپنی انفرادیت برقرار رکھی۔‘‘
تابشؔ دہلوی نے ایک مرثیہ بھی رقم کیا اور اس کی داد علاّمہ سیّد محمّد رضی مجتہد نے ان الفاظ میں دی کہ ’’ تابشؔ دہلوی کی ذات صحافت وادب میں جانی پہچانی ہے۔ اصنافِ ادب اور شعر وسُخن میں موصوف کو استادانہ حیثیت حاصل ہے۔ ان کے کلام کا کچھ حصّہ طبع ہو چُکا ہے اور اب نعت، منقبت، سلام اور مرثیے کا مجموعہ طبع ہوا ہے۔ اس میں جا بہ جا تاریخی حقائق کی طرف اشارے بھی ہیں اور اخلاق و سیرت کے پاکیزہ رُخ بھی۔ نیز، ان کے اشعار میں زندگی کے شعلے اور ذہنِ جدید کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں۔‘‘
ہمیں 1990ء میں حیدرآبادی مشاہیر کے تذکرے پر مبنی کتاب، ’’پھول بن‘‘ ملی، جس کے تذکرہ نگار سکندر نامی ہیں۔ اس تذکرے کی فہرست میں حیدرآبادی مشاہیر کے ساتھ مسعود الحسن تابشؔ کا بھی نام تحریر ہے۔ دراصل اُنھوںنے ایک طویل عرصہ حیدرآباد میں گزارا کہ وہ وہاں ریڈیو پاکستان سے وابستہ تھے۔ اِسی لیے سکندر نامی نے اپنے حیدرآبادی احباب کے تذکرے میں اُن کا نام بھی شامل کردیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو لوگ اپنے وطنِ مالوف کے باشندوں کے دِلوں میں گھر کر جاتے ہیں، تو پھر وہ وطن بھی اُن کا اپنا وطن ہو جاتا ہے۔
ہم اس مضمون میں مسعود الحسن تابشؔ سے متعلق ایک اور واقعے کا بھی ذکر کرنا چاہتے ہیں، جوہماری طرح یقیناً قارئین کے لیے بھی اچنبھے کا باعث ہوگا، گرچہ اس حوالے سے ہمیں اُنھوںنے کبھی خُود بتایا اور نہ کسی تیسرے فرد نے ہم سے اس بات کا ذکر کیا، لیکن سیّد مظفر حسین نے اپنی تصنیف، ’’عرض و سماع‘‘ میں آل انڈیا ریڈیو کے حوالے سے یہ واقعہ قلم بند کر رکھا ہے۔ واقعہ کچھ یوں تحریر ہے کہ ’’دہلی کے ایک اناؤنسر مسعود تابش تھے، جو شاعر بھی تھے اور اُنہیں سہرے کہنے کا بھی بہت شوق تھا۔
جب بھی کہتے تھے اور آج بھی کہتے ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر، سیّد رشید احمد کی شادی کے موقعے پر بھی اُنہوں نے سہرا پیش کیا تھا۔ غزل بھی اچّھی کہتے تھے۔ اکہرے بدن اور دُہری آواز کے مالک مسعود تابش بہت اچھی اناؤنسمنٹ کرتے تھے( دُہری آواز سے مُراد بھاری آواز ہے)۔ مسعود تابش کا ایک بڑا کمال علمِ نجوم میں اُن کی دسترس بھی تھا۔ بہت سے لوگ اُن کو ہاتھ دکھاتے تھے اور ماشاء اللہ وہ بھی خُوب ہاتھ دیکھتے تھے۔
ہمارے ایک پروگرام پروڈیوسر تھے، شمشیر سنگھ بترا، وہ بی بی سی لندن جانے کے نہایت مشتاق تھے، چناں چہ انہوں نے اس کے لیے کوشش کی اور ایک روز مستقبل میں بی بی سی جانے کے بارے میں کچھ جاننے کے لیے تابشؔ کے آگے اپنا ہاتھ پھیلا دیا۔
تابشؔ بھائی نے بہت غور سے ہاتھ دیکھا اور فرمایا۔ ’’بترا صاحب! لندن اور بی بی سی تو آپ ضرور جائیں گے، مگر ابھی نہیں، بہت عرصے بعد۔‘‘ بترا نے مُسکراتے ہوئے جیب سے بی بی سی کا خط نکال کر تابشؔ بھائی کو دکھایا۔ لکھا تھا۔ ’’تیار ہوجائیے، اس ہفتے کے آخر تک آپ کو ٹکٹ وغیرہ مل جائے گا۔‘‘ تابشؔ صاحب نے خط پڑھ کر ایک مرتبہ پھر بترا کا ہاتھ دیکھا اور کہا ’’بترا! جو مَیں نے کہا ہے، وہ دُرست ہے، یہ خط غلط ہے۔‘‘
بترا کو یقین نہ آیا، تابشؔ کا بھی اور اُن کے علمِ نجوم کا بھی۔ لیکن تین دن بعد شمشیر سنگھ بترا کو بی بی سی سے دوسرا خط ملا۔ لکھا تھا، ’’ہمیں افسوس ہے، آپ فی الحال بی بی سی نہیں آرہے۔ لندن میں مقامی طور پر کسی صاحب کو رکھ لیا گیا ہے۔‘‘پھر شمشیر سنگھ بترا کوئی بارہ سال بعد لندن روانہ ہوئے اور یوں مسعود الحسن تابشؔ کی پیش گوئی دُرست ثابت ہوئی‘‘۔
تابشؔ صاحب گرچہ اب ہم میں موجود نہیں ہیں، مگر اُردو ادب کے شائقین جب تک ہیں اور اُردو شاعری پڑھتے رہیں گے، تابشؔ دہلوی کو دِل سے یاد کرتے رہیں گے۔ خصوصاً اُن کے یہ اشعار کیا ادبی ذوق رکھنے والوں کو یونہی سرسری گزر جانے دیں گے ؎ کُھلا ہے بہت پیچ و خم سے کُھلا ہے… مگر عُقدۂ زیست ہم سے کُھلا ہے… ہوئی ہے گھٹن دُور آہوں سے میری… کہ یہ حبس بھی میرے دَم سے کُھلا ہے۔
؎ مال دُنیا کا خسارے کا ہے سودا پھر بھی… ہر طرح گرم یہ بازارِ زیاں رکھنا ہے… فیصلہ اب یہ مکینوں ہی کو کرنا ہوگا… گھر کو گھر رکھنا ہے یا گھر کو مکاں رکھنا ہے۔ ؎ یہ مجھ سے کس طرح کی ضد دلِ برباد کرتا ہے… مَیں جس کو بُھولنا چاہوں، اُسی کو یاد کرتا ہے… طریقے ظلم کے صیاد نے سارے بدل ڈالے… جو طائر اُڑ نہیں سکتا، اُسے آزاد کرتا ہے۔ ایسے خرد افروز اشعار سے تابشؔ دہلوی کے مجموعہ ہائے غزل سجے ہوئے ہیں مگر ان اشعار کو سنانے والے تابشؔ صاحب اب نہیں رہے۔ ایسے موقعے پر غالبؔ کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ ؎ مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم… تُونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے۔