٭ انسان وہ لڑائی کبھی نہیں جیت سکتا، جس میں دشمن اُس کے ’’اپنے‘‘ ہوں۔
٭ شام زندگی کی ہو یا دُکھوں کی، آخر ڈھل ہی جاتی ہے۔
٭ ایک دن ہم سب ایک دوسرے کو یہ سوچ کر کھو دیں گےکہ جب وہ یاد نہیں کرتا، تو مَیں بھی کیوں یاد کروں۔
٭ زمین عقل مندوں سے تو بھر گئی، مگر درد مندوں سے خالی ہے۔
٭ جو تعلیم ہمیں مسجد تک نہ لے جاسکے، وہ جنّت تک کیسے لے جائے گی۔
٭ انسان کی عقل صرف اتنی ہے کہ اُسے ’’جانور‘‘ کہا جائے تو ناراض اور ’’شیر‘‘ کہا جائے تو خوش ہوجاتا ہے۔
٭ لوگوں سے یاد نہ کرنے کا شکوہ مت کرو، کیوں کہ جو انسان اپنے رب کو بھول سکتا ہے، وہ سب کو بھول سکتا ہے۔
٭ جب انسان پر اچھا وقت آتا ہے تو وہ بھولنے والی چیزوں میں سب سے پہلے اپنی اوقات بھولتا ہے۔
٭ کبھی بھی اپنی زبان سے کسی کے عیب بیان نہ کرو کہ عیب تم میں بھی ہیں اور زبان لوگوں کے بھی پاس ہے۔
(مہرمنظور جونیئر، ساہی وال، سرگودھا)