ایڈولف ہٹلر 20اپریل 1889ء کو آسٹریا - ہنگری (موجودہ آسٹریا) میں واقع بروناؤ نامی قصبے کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوا۔ اُس کے والد کا نام الوئس ہٹلر تھا۔ ایڈولف ہٹلر چھے بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھا۔ جب ہٹلر کی عُمر تین سال تھی، تب اس کے خاندان نے جرمنی کی طرف نقل مکانی کی اور وہاں آباد ہوگیا۔ ہٹلر نے یہیں اپنے تعلیمی سلسلے کا آغاز کیا۔
چند سال بعد اُس کے والد نے ملازمت کوخیرباد کہہ کرزمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر کھیتی باڑی شروع کردی۔ والد کے انتقال کے بعد پڑھائی میں ہٹلر کا دل نہ لگا اور اُس نے اپنا تعلیمی سلسلہ ترک کر دیا۔ اس واقعے کو چند سال ہی گزرے تھے کہ نامساعد حالات کے سبب ہٹلر نے مصوّری کو اپنا ذریعۂ معاش بنا لیا۔ تاہم، کچھ ہی عرصےبعد وہ اس پیشے سے بھی اکتا گیا اور اُس نے اکیڈمی میں داخلے کی درخواست دے دی، جو انتظامیہ کی جانب سے رد کر دی گئی۔
1907ء ہٹلر کے لیے نہایت بُرا سال ثابت ہوا، کیوں کہ اس میں اس کی والدہ کا انتقال ہوا اور پھر جمع پونجی ختم ہونے کے باعث اُسے یتیم خانوں میں رہنا پڑا۔ اُس دَورمیں جرمنی نسل پرستی، مذہبی تعصّبات کاشکار تھا اور مقامی باشندوں کو یہودی آبادکاروں کے زیرِ تسلّط ہونے کا خوف لاحق تھا۔ ان حالات کے پیشِ نظر ہٹلر کے دل ودماغ میں یہودیوں کے لیے معاندانہ جذبات پیدا ہوئے۔ پھر1913ء میں جب اُسے اپنے والد کی جائیداد میں سے حصّہ ملا، تو وہ میونخ چلا گیا۔
یہاں وہ پہلی جنگِ عظیم میں جرمنی کی طرف سےایک عام سپاہی کی حیثیت سےلڑا، لیکن فوج میں مزید ترقّی حاصل نہ کرسکا، کیوں کہ اُس کے افسران کے مطابق اُس میں قائدانہ صلاحیتوں کی کمی تھی۔ 1919ء میں ایڈولف ہٹلر جرمنی کی ’’ورکرز پارٹی‘‘ کا رُکن بنا، جوبعدازاں ’’نازی پارٹی‘‘ کہلائی۔ 1921ء میں ہٹلر پارٹی کا صدر منتخب ہوا اور 1930ء میں ہونے والے انتخابات میں یہ جرمنی کی دوسری بڑی جماعت بن گئی۔ 1933ء کےعام انتخابات میں ورکرز پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی، مگرسب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے صدر نے ہٹلر کوحکومت بنانے کی دعوت دی اور ہٹلر مملکت کے سب سے اعلیٰ عُہدے تک جا پہنچا۔
چانسلر بننے کے بعد ہٹلر نے سب سے پہلے ’’نازی پارٹی‘‘ قائم کی اور اس مقصد کے حصول کے لیے اُس نے اپنے مخالفین کو خاموش کروانے کا ہر حربہ آزمایا۔ بعد ازاں، ایڈولف ہٹلرنےپارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد 27 نکاتی ایجنڈا جاری کیا، جس میں یہودیوں کے شہری حقوق کا خاتمہ بھی شامل تھا۔ اس کےعلاوہ اس نےامتیازی سلوک پر مبنی پالیسی اختیار کی، جس نے جرمنی کے مختلف نسلی و سیاسی گروہوں کو شدید متاثر کیا۔
1939ء میں ہٹلرکی جانب سے پولینڈ پر لشکر کَشی دوسری عالمی جنگ کے آغاز کا باعث بنی۔ اس دوران ہٹلر ’’جرمنوں کے قائد‘‘ کے نام سے معروف ہوگیا اوراُس نے تیزی سے بڑھتی آبادی اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیلنے کے باوجود عوام کو جنگ میں فتح کےذریعے جرمنی کی عظمتِ رفتہ کی واپسی کے خواب دکھانا شروع کردیے۔ اس دوران ہٹلرکی جانب سے کی گئی تقاریر کا خلاصہ یہ تھا کہ جرمنی یورپ پر سبقت حاصل کرے گا اور اُن تمام وسائل پر قابض ہوگا کہ جو جرمن قوم کو مغرب پر حُکم رانی کے قابل بنا دیں گے۔
ایڈولف ہٹلر ایک عظیم جرمن سلطنت کے قیام کا خواہاں تھا اوراس کےخیال میں اس کے لیے تیل کے ذخائر پر کنٹرول انتہائی ضروری تھا، جب کہ دوسری جانب دوسری عالمی جنگ کی بیش ترلڑائیاں اسی بالادستی کے حصول کی خاطرہوئی تھیں۔ 1940ء میں جرمن افواج نے فرانس پر قبضہ کر لیا۔ اب جرمنی کا واحد مدِمقابل برطانیہ تھا، جو ایک طاقت وَر بحریہ کامالک تھا اور دُنیا بَھر کے اہم خطّے بالخصوص جنوبی ایشیا اس کے زیرِ تسلّط تھا، جب کہ اس کے برعکس جرمنز کے پاس اس قدر مضبوط بحریہ تھی اور نہ ہی فضائی اڈّے۔
سو، ہٹلر کا مقابلہ کرنے کے لیے برطانیہ مستحکم پوزیشن میں تھا۔ یاد رہے، جرمنی کی طرح برطانیہ کے پاس بھی تیل کے ذخائر نہیں تھے اور اسے دوسرے ممالک بالخصوص امریکا سے تیل ملتا تھا اور تیل کے یہ ٹینکرز ہٹلر کی آب دوزوں کے لیے آسان ہدف ثابت ہوتے تھے۔ جنگ کے دوران جرمن آب دوزوں نے برطانوی بحریہ کو کافی نقصان پہنچایا۔
تاہم، بعدازاں برطانوی بحریہ بڑی حد تک جرمن آب دوزوں کےحملے روکنے میں کام یاب ہوگئی۔ دوسری جانب جاپان جرمنی کی حلیف کی حیثیت سے جنگ میں کود پڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے جاپانی فوجی فلپائن، ملایا اور ہانگ کانگ پر چھا گئے اور ہندوستان میں بھی جاپانیوں کے حملے کی بازگشت سُنائی دینے لگی۔
دوسری طرف ہٹلر کے منظّم فوجی دستوں نے سوویت یونین (موجودہ رُوس) پرحملہ کیا اورباکو کےتیل کےذخائر پرقبضہ کر لیا۔ اب ہٹلر کےپاس تیل کی کمی نہ رہی تھی۔ اِسی دوران فتح کے نشے میں ڈُوبی نازی فوج پر روسیوں نے جوابی حملہ کیا اور نازیوں کو پسپائی اختیار کرنی پڑی اور جلد ہی رُوسی تیل کے ذخائر جرمنزکے ہاتھ سے نکل گئے۔
برطانیہ اور امریکا ہٹلر کے خلاف ایک جنگی آپریشن کی تیاری کررہے تھے، جس کا مقصد فرانس سےجرمنی کا قبضہ ختم کروانا تھا، لیکن فرانس میں اپنی افواج اُتارنے سے پہلے اتحادیوں نے جرمنی کے شہروں اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے شروع کر دیے۔
اس دوران سیکڑوں برطانوی و امریکی بم بارطیّاروں نے جرمنی پر لاکھوں بم گرائے جس سے جرمنی کو کافی نقصان پہنچا۔ جرمنی پر بم باری کے بعد امریکی بم بار طیّاروں نے رومانیہ میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یاد رہے، رومانیہ، جرمنی کا اتحادی اور جرمنی کو تیل سپلائی کا اصل مرکز تھا، کیوں کہ رُوسی تیل کا قبضہ اس کے ہاتھ سے نکل چُکا تھا۔ اس حملے کے سبب جرمنی تیل کی شدید قلّت کا شکار ہوگیا۔ جرمن فضائیہ کےطیّارے کھڑے کھڑے ناکارہ ہونے لگے اور فوجی دستوں اور ہتھیاروں کی آمدورفت میں مشکلات پیش آنے لگیں۔
موسمِ گرما میں اتحادی افواج نے جرمن فوج کو فرانس کے ایک بڑے حصّے سے نکال باہرکیا۔ ہٹلر نے اسی دوران بیلجیئم کی بندرگاہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تاکہ فرانس میں موجود امریکی و برطانوی افواج کو تیل کی رسد نہ پہنچ پائے۔
اگر اس کی یہ کوشش کام یاب ہو جاتی، تو جنگ کی بازی پلٹ جاتی لیکن سردیوں کے موسم میں برف باری کے باعث جرمن ٹینکس برفانی طوفان میں پھنس گئے اور یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ 1945ء میں پیرس میں برطانیہ اور امریکا نے سُکون کا سانس لینے کے بعد جرمنی کی طرف پیش قدمی شروع کردی، لیکن دوسری طرف ہٹلر کی مزاحمت تب ختم ہوئی، جب سوویت یونین کی فوج نے جرمنی پرحملہ کرکے دارالحکومت کا محاصرہ کرلیا ،یہاں تک کہ دوسری عالمی جنگ کے آخری روز 30اپریل 1945ء کو ہٹلر نے برلن میں اپنے زیرِزمین بنکر میں اپنی نئی نویلی دُلہن کے ساتھ خود کُشی کرلی۔
ایڈولف ہٹلر کےدَورمیں نازی جرمنی یورپ کے بہت سے علاقوں پر قابض رہا، جب کہ اس پر تقریباً ایک کروڑافراد کے قتلِ عام کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جن میں کم و بیش 60 لاکھ یہودی شامل تھے۔ یہودی، نازیوں کے ہاتھوں ہونے والےاس قتلِ عام کو ’’ہولو کاسٹ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان کا حشرجرمنی سے بھی بُرا ہوا۔ امریکا نے ایٹمی طاقت کے نشے میں چُور ہوکر جاپان کے دو بڑے شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے، جس کے نتیجے میں لاکھوں انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ ایٹمی حملے کے اثرات سے اُن دونوں شہروں کی زمین بنجر ہوگئی اور تاب کاری کے باعث لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔ کہا جاتا ہے، ہٹلراگر مزید دس سال زندہ رہتا، تو زمین سے یہودیوں کا وجود سِرے سے ختم ہو جاتا۔ ہٹلر کی بنائی گئی برقی بھٹیاں یہودیوں کے جسم کو خاکستر کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے جلتی رہتی تھیں۔
واضح رہے، ہولو کاسٹ کا لفظ دراصل یونانی زبان سے اخذ کیا گیا ہے، جس کے معنی ہی’’جلا کربھسم کردینا“ کے ہیں۔ نازیوں کے قید خانوں میں موجود قیدیوں سے اُس وقت تک غلاموں سا برتاؤ کیا جاتا تھا، جب تک کہ وہ موت کے شکار نہ ہوجاتے۔
اُنہیں آبادی سے سیکڑوں مِیل دُور بنائی گئی قتل گاہوں میں پہنچانے کے لیے ریل گاڑیوں میں جانوروں کی مانند ٹھونسا جاتا اور زندہ بچ جانے کی صُورت میں گیس چیمبرز کے ذریعے موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا۔ نیز، ہٹلر کی فوج کا ہرسپاہی یہودیوں کے قتل کو اپنے لیے کارِخیر سمجھتا تھا۔