• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

استخارہ: اللہ تعالیٰ سے خیر و بھلائی طلب کرنے کا اہم ذریعہ

مصباح طیّب، سرگودھا

ہم مسلمان نہایت خوش قسمت ہیں کہ ہمارا ربّ اللہ تعالیٰ اور ہمارے ہادی و رہنما، نبیٔ کریم ﷺ ہیں اور قرآن و سُنّت میں ہر دینی و دنیوی مسئلے کا حل موجود ہے مگر ہم خود ان اسباب و وسائل سے غافل ہیں اور ناقص و خود ساختہ طریقوں پر عمل پیرا ہو کر الٹا نقصان اُٹھارہے ہیں۔

یاد رہے، انسان کی سوچ و بصیرت محدود ہے اور وہ یہ نہیں جانتا کہ مستقبل میں کون سا عمل اُس کے لیے خیر یا شَر کا باعث بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام نے اپنے پیروکاروں کو زندگی کے اہم فیصلوں سے قبل اپنے ربّ سے مشاورت اور خیرطلب کرنے کی ترغیب دی ہے، جسے ’’استخارہ‘‘ کہا جاتا ہے۔

استخارہ ایک مسنون عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے اچّھی طرح وضو کر کے استخارے کی نیّت سے دو نفل پڑھیں۔ سلام پھیر کر اللہ کی حمد و ثنا اور درود شریف پڑھنے کے بعد مطلوبہ دُعا مانگ کر صدقِ دل سے فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔

استخارہ ہمیشہ خُود کریں، کیوں کہ بیمار ہونے پر دوا مریض کو خود لینی پڑتی ہے، نہ کہ کسی دوسرے شخص کو۔ استخارے کے بعد سونا اور خواب کا آنا ضروری نہیں بلکہ صبر سے کام لیں۔ اگر خیر ہوگی، تو کام آسان ہوجائے گا اور شر ہوگا، تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا کوئی بہتر متبادل عطا فرمائے گا۔ یاد رہے، استخارہ اختیاری کاموں کے لیے کیا جاتا ہے، فرائض کے لیے نہیں۔

صحابہ کرامؓ بھی استخارہ کیا کرتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کی تدفین کا مرحلہ آیا، تو اس بات پر استخارہ کیا گیا کہ کس قسم کی قبر میں آپ ﷺ کی تدفین کی جائے۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہؐ کاوصال ہوا، تو اُس وقت مَیں مدینہ میں لحدی یعنی بغلی قبر کھودتا تھا اور دوسرا (شخص) شقی یعنی صندوقی قبر کھودتا تھا۔

صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ ہم اپنے ربّ سے استخارہ کرتے ہیں اور ان دونوں کی طرف پیغام بھیجتے ہیں، جو ان میں سے پیچھے رہ گیا، تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔ ان دونوں کی طرف پیغام بھیجا گیا تو لحدی قبر بنانے والا پہلے آگیا۔

استخارہ کے معنی ہیں، خیر طلب کرنا۔ اس لیے ہمیں کاروبار، شادی اور سفر وغیرہ کا فیصلہ کرنے سے پہلے اللہ سے بھلائی طلب کرنی چاہیے، جب کہ نبیٔ کریم ﷺ نے خصوصاً شادی کے موقعے پر استخارے کی تعلیم دی ہے۔

ذیل میں استخارے کی دُعا کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے، جسے پڑھتے ہی دِل کو راحت و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ ’’اے اللہ! بے شک تجھ سے تیرے علم کے سبب خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے سبب تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضلِ عظیم کا طلب گار ہوں کہ بے شک تو ہی قدرت رکھتا ہے اور مُجھے کوئی قدرت نہیں، علم تجھ ہی کو ہے اور مَیں کچھ نہیں جانتا اور تو تمام پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر یہ کام تیرے علم کے مطابق میرے دین ، معاش اور کام کے انجام سے بہتر ہے، تو اسے میرا مقدر کردے اور اسے میرے لیے آسان کردے، پھر اس میں میرے لیے برکت پیدا کردے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین، معاش اور کام کے انجام کے اعتبار سے برُا ہے تو اسے مجھ سے دُور کردے اور جہاں بھی خیر ہو اسے میرا مقدر بنا دے، پھر مجھے اس پر راضی کردے۔‘‘ (صحیح بخاری)

سنڈے میگزین سے مزید