کراچی(رفیق مانگٹ)ماں میں خون کی کمی بچوں کے دماغی حجم میں کمی کا سبب بننے لگی،اینیمیا کی شکار ماؤں کے بچوں میں سیکھنے اور جذباتی کنٹرول متاثر ہونے کا انکشاف،پیدائش کے بعد دماغی فرق کم ہونے کے بجائے وقت کے ساتھ بڑھنے لگا،دماغ کے اہم حصےحرکت، سیکھنے اور جذبات سے متعلق زیادہ متاثر،ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جن بچوں کی مائیں حمل کے دوران خون کی کمی (اینیمیا) کا شکار ہوں، ان بچوں کے دماغ کا حجم نسبتاً کم ہوتا ہے، خاص طور پر وہ حصے جو حرکت، سیکھنے اور جذبات کے کنٹرول سے متعلق ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ فرق بچوں کی تعلیمی عمر میں ذہنی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق اینیمیا کا شکار ماؤں کے بچوں کے دماغ کا مجموعی حجم اوسطاً 4 فیصد کم ہوتا ہے۔ خاص طور پر دماغ کے تین حصوں پوٹامین، کاڈیٹ نیوکلئیس اور کارپس کیلوسم میں فرق دیکھا گیا، جو ذہنی افعال، جذباتی توازن اور فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی نشوونما کے ساتھ یہ فرق کم ہونے کے بجائے بڑھتا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کارپس کیلوسم ایک سال کی عمر میں تقریباً 4 فیصد چھوٹا تھا جو دو سال کی عمر تک بڑھ کر 6 فیصد تک پہنچ گیا۔