لاہور (آصف محمود بٹ) سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے)، والٹن لاہور کے راہِ رشد بک کلب کے زیر اہتمام ممتاز ماہرِ معاشیات، معروف ماہرِ عوامی پالیسی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین کی شہرۂ آفاق تصنیف Development Pathways: India, Pakistan and Bangladesh )1947 –2022) پر ایک جامع فکری نشست منعقد ہوئی، جس میں مقررین اور شرکاء نے پائیدار قومی ترقی کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، شواہد پر مبنی پالیسی سازی، مؤثر طرزِ حکمرانی اور مضبوط ریاستی اداروں کی ناگزیر اہمیت پر زور دیا۔جناح آڈیٹوریم میں منعقدہ اس تقریب میں اکیڈمی کے پروبیشنری افسران، فیکلٹی ممبران اور سینئر افسران نے شرکت کی، جہاں قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ترقیاتی سفر، ریاستی اداروں کی کارکردگی، معاشی پالیسیوں اور گورننس کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد باقاعدہ افتتاحی کارروائی انجام دی گئی۔ منتظمین نے شرکاء کا خیرمقدم کیا، جبکہ ایک تعارفی آڈیو ویژول پریزنٹیشن کے ذریعے ڈاکٹر عشرت حسین کی پاکستان میں معاشی اصلاحات، عوامی انتظامیہ، مالیاتی نظم و نسق اور ادارہ جاتی ترقی کے شعبوں میں گراں قدر خدمات کو اجاگر کیا گیا۔بعد ازاں کتاب کا تفصیلی تعارف پیش کیا گیا، جس میں 1947ء سے 2022ء تک پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی ترقیاتی حکمت عملیوں اور معاشی سفر کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔ پریزنٹیشن میں کتاب کے بنیادی نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا گیا کہ مضبوط ادارہ جاتی نظام، مؤثر طرزِ حکمرانی، معاشی اصلاحات، انسانی وسائل اور تعلیم میں سرمایہ کاری، نیز فعال ریاستی ادارے ہی دیرپا اقتصادی استحکام اور قومی ترقی کی بنیاد بنتے ہیں۔ اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر عشرت حسین نے عوامی خدمت، معاشی نظم و نسق اور پالیسی سازی کے میدان میں اپنے طویل عملی تجربات کی روشنی میں جنوبی ایشیا کے ترقیاتی سفر کا جامع تجزیہ پیش کیا۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے تمام سوالات کے مدلل اور جامع جوابات دیے، جبکہ شرکاء کی علمی دلچسپی اور موضوع پر گہری گرفت نمایاں رہی۔ تقریب کے اختتام پر کتاب پر دستخط کی خصوصی تقریب منعقد ہوئی، اس موقع پر معزز مہمان کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی، جس کے بعد اظہارِ تشکر اور گروپ فوٹو کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ سول سروسز اکیڈمی کے مطابق راہِ رشد بک کلب کی یہ نشست اس عزم کا عملی اظہار ہے کہ ادارہ قومی اہمیت کے حامل موضوعات پر علمی مکالمے، تنقیدی فکر، شواہد پر مبنی تعلیم اور مؤثر پالیسی مباحث کو فروغ دے کر مستقبل کی سول قیادت کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔