• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈپارٹمنٹل کرکٹ ڈھانچے سے ایک اینٹ اور نکل گئی، کے آر ایل ٹیم بند، تمام کھلاڑی ریلیز

کراچی (عبدالماجدبھٹی)پاکستانی ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے ڈھانچے سے ایک اینٹ اور نکل گئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ڈیپارٹمنٹ ٹیموں کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے سالانہ فیس مقرر کئے جانے کے بعد ملک کی مشہور ٹیم خان ریسرچ لیبارٹری نے اپنی کرکٹ ٹیم کو مالی مسائل کی وجہ سے بند اور تمام کھلاڑیوں کو ریلیز کر دیا ہے۔ واپڈا نے بھی فیس ادا نہیں کی ہے جس کے بعد ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے مستقبل پر سوال اٹھ رہا ہے۔ کے آر ایل کو مشہور سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے تشکیل دیا گیا تھا۔ ماضی کی بڑی ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں پی آئی اے، یوبی ایل، الائیڈ بینک، نیشنل بینک اور کئی اور ٹیمیں بند ہوچکی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ڈیپاٹمنٹس کے درمیان بھاری فیس کے معاملے پر ڈیڈلاک ہے۔ ذمے دار ذرائع کا دعوی ہے کہ مزید ٹیمیں بھی ٹورنامنٹ سے دستبردار ہوسکتی ہیں۔ البتہ جنرل منیجر اسامہ نیازی کہتے ہیں واپڈا کے علاوہ دیگر ڈپارٹمٹنس کی جانب سے فیس جمع نہ کرانے کی خبریں غلط ہیں۔ ادھر وپڈا کے اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ابھی فیس جمع نہیں کرائی ۔ پی سی بی نے فیس جمع کرانے کیلئے 31 جولائی کی ڈیڈ لائن رکھی تھی ۔ ڈیپارٹمنٹس نے پی سی بی کے ایک اجلاس میں ڈیڑھ کروڑ روپے فیس کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا تاہم پی سی بی کے جنرل منیجر اسامہ شارون نیازی نے کہا تھا کہ کنگز مین اور او جی ڈی سی سمیت کچھ اور ٹیمیں یہ فیس ادا کرکے کھیلنے کو تیار ہیں۔ اتوار کو بڑی پیش رفت اس وقت ہوئی ایسے میں جب کے آرایل نے مالی مسائل کی وجہ سے اپنی کرکٹ ٹیم بند اور ڈیپارٹمنٹل کرکٹ سے دستبردار ہونے کے حوالے سے کھلاڑیوں کو مطلع کر دیا ۔ کے آر ایل کا اپنا کرکٹ گرائونڈ بھی ہے۔ کے آر ایل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انتہائی مشکل تھا مگر پی سی بی کی انٹری فیس میں غیر معمولی اضافے سے مالی چیلنجز بڑھ گئے تھے، اس لیے اس سیزن میں شرکت جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ حکام پی سی بی کو ڈیپارٹمنٹل کرکٹ میں حصہ نہ لینے کے حوالے سے پیر کو باضابطہ طور پر لکھیں گے۔ ٹیم مینیجر رضوان آصف نے کہا کہ ہم نے ابھی صرف کھلاڑیوں کو آگاہ کیا ہے جن کھلاڑیوں کو دیگر ڈیپارٹمنٹ سے آفرز موصول ہو چکی ہیں وہ مکمل طور پر آزاد ہیں، جن کھلاڑیوں کے پاس کوئی آفر نہیں ان کے معاہدے مقررہ مدت تک برقرار رہیں گے۔ ستمبر تک معاہدہ ختم ہونے کے بعد تمام کھلاڑیوں کو ریلیز کر دیا جائے گا۔ ہم اپنے تمام کھلاڑیوں، کوچز اور سپورٹ اسٹاف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کے آر ایل ہمیشہ آپ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور اس جدائی کو افسوس کے ساتھ یاد رکھے گی۔

اسپورٹس سے مزید