لاہور (آصف محمود بٹ) ہارورڈ کینیڈی اسکول کے پروفیسر برائے پبلک پالیسی اور سینٹر فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ نے کہا ہے کہ پالیسیوں کی تبدیلی نہیں، تسلسل ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے۔شواہد پر مبنی اصلاحات، ادارہ جاتی تسلسل، ڈیجیٹل گورننس، موسمیاتی لچک اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کو قومی ترجیحات بنایا جائے۔ ہم بڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز تو کرتے ہیں مگر نہ ان کی پیمائش کرتے ہیں، نہ ان کا تحفظ کرتے ہیں اور نہ ہی ان سے سبق سیکھتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ نے ہفتہ کے روز سول سروسز اکیڈمی لاہور میں 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) کے زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک کے بعد دوسری حکومت نے متعدد پالیسی اقدامات کو ان کے نتائج کا جائزہ لیے بغیر تبدیل یا ختم کردیا، جس کے باعث ادارہ جاتی سیکھنے کا عمل متاثر ہوا اور ریاست کی دیرپا اصلاحات نافذ کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ گئی۔ گزشتہ دو دہائیوں سے ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ عالمی شہرت یافتہ ماہر پبلک پالیسی ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران متعدد بلند عزائم پر مبنی پالیسیاں تشکیل دی گئیں، تاہم ان میں سے بیشتر یا تو درمیان میں ترک کردی گئیں۔راہِ رشد بک کلب کے زیر اہتمام ’’پالیسی ناکامیوں سے سیکھنا: عوامی طرز حکمرانی میں تسلسل اور اختراع کی تعمیر‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس لیکچر میں ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ نے مستقبل کے پالیسی سازوں کے لیے ایک عملی فریم ورک بھی پیش کیا۔ لیکچر کے اختتام پر سوال و جواب کی تفصیلی نشست منعقد ہوئی جس میں شرکاء نے پالیسیوں پر عمل درآمد، سیاسی دباؤ، بیوروکریسی کو درپیش رکاوٹوں اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ایک افسر نے کہا کہ اس نشست نے واضح کیا کہ سول سرونٹس کی ذمہ داری صرف پالیسی پر عمل درآمد تک محدود نہیں بلکہ خامیوں کی نشاندہی اور زمینی سطح پر بہتری لانا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے، جبکہ ایک اور افسر نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ کے خیالات نے سیاسی حقائق، شواہد، اخلاقیات اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے درمیان توازن قائم رکھنے کے حوالے سے قیمتی رہنمائی فراہم کی۔ تقریب میں سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ، کامن ٹریننگ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید شبیر اکبر زیدی، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس بلال اکرم، فیکلٹی اراکین، ریسورس پرسنز اور 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے افسران نے شرکت کی، جبکہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی فخر امام، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل کیپٹن (ر) عثمان گل اور نیپا اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل عاصم اقبال نے آن لائن شرکت کی۔ اختتامی کلمات میں سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ نے پروفیسر ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ اور ہارورڈ کینیڈی اسکول کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی علمی نشستیں نئی نسل کے سول سرونٹس کو شواہد پر مبنی پالیسی سازی، ادارہ جاتی استحکام اور مؤثر عوامی خدمت کے لیے تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔