ٹوکیو (رپورٹ: عرفان صدیقی)جاپان میں مقیم تقریباً 30سے 35ہزار پاکستانیوں کے لیے خوشخبری بننے والا پاکستانی سفارت خانہ ٹوکیو میں نادرا کاؤنٹر کے قیام کا منصوبہ گزشتہ تین سے چار ماہ سے متعلقہ وزارت میں التوا کا شکار ہے۔ نادرا کی باضابطہ منظوری ملنے کے باوجود این او سی جاری نہ ہونے کے باعث یہ اہم منصوبہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکا، جس سے ہزاروں اوورسیز پاکستانی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔اس نمائندے کو موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق نادرا نے 22 اپریل 2026 کو ٹوکیو میں نادرا کاؤنٹر کے قیام کی اصولی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری طور پر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ خط میں واضح کیا گیا تھا کہ این او سی ملتے ہی پاکستانی سفارت خانہ ٹوکیو میں نادرا کاؤنٹر فوری طور پر قائم کر دیا جائے گا۔سرکاری خط کے مطابق نادرا نے بائیومیٹرک مشینیں، فنگر پرنٹ ڈیوائسز، کیمرہ، تکنیکی معاونت اور عملے کی تربیت فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جبکہ پاکستانی سفارت خانے کو جگہ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، فرنیچر اور دیگر انتظامی سہولیات فراہم کرنا ہیں۔ یعنی منصوبے کے تمام انتظامی اور تکنیکی امور طے ہو چکے ہیں۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے فائل متعلقہ وزارت میں این او سی کے اجرا کی منتظر ہے، جس کے باعث منصوبہ رکا ہوا ہے۔ اس تاخیر کے سبب جاپان میں مقیم ہزاروں پاکستانی شناختی کارڈ، فیملی رجسٹریشن، بائیومیٹرک تصدیق اور دیگر نادرا خدمات کے حصول میں شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔جاپان میں پاکستانی کمیونٹی نے او پی ایف کے چیئرمین سید قمر رضا شاہ کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ ذاتی دلچسپی نہ لیتے تو شاید یہ منصوبہ آج بھی منظوری کا منتظر ہوتا۔جاپان میں مقیم پاکستانیوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو این او سی کے اجرا کے لیے ضروری ہدایات جاری کریں۔