لاہور (آصف محمود بٹ) سی ایس اے میں فلسطین بحران پر پہلے ماڈل یونائیٹڈ نیشنز کا انعقاد۔ 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے 217 زیر تربیت افسران نے سفارت کاری، مذاکرات اور پالیسی سازی کی عملی مشق میں حصہ لیا ۔فلسطین میں جنگ بندی کے بعد کی صورتحال پر پانچ قراردادوں کے مسودے تیار، مستقبل کے افسران کی صلاحیتوں کو نکھارنے پر زور۔سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) نے 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) کے زیر تربیت افسران کے لیے ہفتہ کے روز اپنی تاریخ کے پہلے ماڈل یونائیٹڈ نیشنز (ایم یو این) کا انعقاد کیا، جس کا مقصد مستقبل کے سول افسران میں مذاکرات، سفارت کاری، تجزیاتی سوچ، قیادت اور اتفاقِ رائے پیدا کرنے جیسی صلاحیتوں کو فروغ دینا تھا تاکہ وہ قومی نظم و نسق اور بین الاقوامی امور میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی فرحان عزیز خواجہ کی قیادت اور ایڈیشنل ڈائریکٹر (پی اے ایس کیمپس) کلثوم ثاقب کی نگرانی میں منعقد ہونے والی اس مشق کا اہتمام اکیڈمی کی ایتھیکل لیڈرشپ سوسائٹی نے ’’خدمت الناس‘‘ کے عنوان کے تحت کیا۔ اس منفرد تربیتی سرگرمی میں 54ویں سی ٹی پی کے تمام 217 پروبیشنری افسران نے شرکت کی، جہاں اقوام متحدہ کے فیصلہ سازی کے نظام کو عملی انداز میں پیش کیا گیا۔ شرکاء کو 12 مختلف بین الاقوامی وفود میں تقسیم کیا گیا جن میں فلسطینی اتھارٹی، امریکہ، روس، پاکستان، بھارت اور دیگر رکن ممالک شامل تھے۔ فرضی سلامتی کونسل میں شامل افسران نے اپنے اپنے ممالک کے سرکاری مؤقف پیش کیے اور ان کا دفاع کیا، جبکہ دیگر شرکاء نے جنرل اسمبلی کے اراکین کا کردار ادا کرتے ہوئے وفود سے سوالات کیے، پالیسی تجاویز کا جائزہ لیا اور قراردادوں پر رائے شماری میں حصہ لیا۔ بحث و مباحثے کا مرکزی موضوع حالیہ جنگ بندی کے بعد فلسطین کی مستقبل کی صورتحال تھا، جہاں مختلف ممالک کے متضاد جغرافیائی و سیاسی مفادات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی۔