لاہور (آصف محمود بٹ)پاکستان بار کونسل ’پبلک باڈی ‘قرار،مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا حکم۔پاکستان انفارمیشن کمیشن کا تاریخی فیصلہ، وکلا کے ریکارڈ، سرکاری گرانٹس اور گورننگ باڈی کے اجلاس کی کارروائی ظاہر کرنیکی ہدایت۔ بار کونسل کا خودمختاری کا مؤقف مسترد، وفاقی قانون کے تحت عوامی ذمہ داریاں انجام دینے والا ادارہ شفافیت کے قانون کا پابند قرار ۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے ایک تاریخی اور دور رس اثرات کے حامل فیصلے میں پہلی مرتبہ پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کو رائٹ آف ایکیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت "پبلک باڈی" قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو مطلوبہ معلومات 15 روز کے اندر فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ اس فیصلے کو قانونی برادری میں شفافیت، احتساب اور عوامی معلومات تک رسائی کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔یہ فیصلہ اپیل نمبر 4231-11/2024 میں سنایا گیا، جو سعدیہ مظہر نے پاکستان بار کونسل کی جانب سے معلومات فراہم کرنے سے انکار کے خلاف دائر کی تھی۔ بار کونسل کا مؤقف تھا کہ وہ ایک خودمختار قانونی ادارہ ہے، اس لیے اس پر وفاقی حقِ رسائی برائے معلومات ایکٹ 2017 کا اطلاق نہیں ہوتا۔“جنگ “کو موصول ہونے والے فیصلے کے مطابق انفارمیشن کمشنر اعجاز حسن اعوان نے چیف انفارمیشن کمشنر شعیب احمد صدیقی کی منظوری سے جاری کردہ حکم میں قرار دیا کہ پاکستان بار کونسل رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 2(ix)(g) اور 2(ix)(h) کے تحت "پبلک باڈی" کی تعریف میں آتی ہے کیونکہ یہ وفاقی قانون کے تحت قائم کی گئی ہے اور ملک کے قانونی نظام سے متعلق اہم عوامی فرائض انجام دیتی ہے۔ کمیشن نے پاکستان بار کونسل کے سیکریٹری کو حکم دیا کہ فیصلے کی وصولی کے 15 روز کے اندر درخواست گزار کو مطلوبہ معلومات فراہم کی جائیں، جبکہ عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے سماعت 2 ستمبر 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔