• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سمندری طوفانوں کی پیشگوئی بہتر بنانے کیلئے سائنسدانوں کا شارکس سے مدد لینے کا فیصلہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی ریاست ڈیلاویئر کی یونیورسٹی کے سائنسدان اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ شارکس کو سمندری طوفانوں کی شدت کی پیشگوئی بہتر بنانے اور سمندری ڈیٹا جمع کرنے والے مشاہداتی نظام کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کے محققین شارکس پر ایسے سینسرز نصب کر رہے ہیں جو سمندر کے درجہ حرارت، برقی چالکیت اور گہرائی کی پیمائش کرتے ہیں، برقی چالکیت کا تعلق پانی میں نمکیات کی مقدار سے ہوتا ہے۔

تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی کے اسکول آف میرین سائنس اینڈ پالیسی کے پروفیسر آرون کارلائل کے مطابق جانوروں پر نصب سینسرز کئی برس سے سمندری تحقیق میں کامیابی سے استعمال ہو رہے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں سائنسی مشاہدات محدود ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ شارکس اس تحقیق کے لیے موزوں ہیں کیونکہ یہ بڑی تعداد میں موجود ہیں، وسیع سمندری علاقوں میں پائی جاتی ہیں اور کئی محفوظ سمندری ممالیہ جانوروں کے مقابلے میں ان تک رسائی نسبتاً آسان ہے۔

اب تک شارکس پر ٹیگنگ کا استعمال زیادہ تر ان کی نقل و حرکت اور رہائش گاہوں کا تعین کرنے کے لیے کیا جاتا رہا ہے، تاہم نئی تحقیق میں ایسی شارکس کا انتخاب کیا جا رہا ہے جو سمندری طوفانوں کی پیشگوئی کے لیے مفید ڈیٹا جمع کرسکیں اور سطح آب کے قریب اتنی بار آسکیں کہ نصب ٹیگز سیٹلائٹس کے ذریعے معلومات منتقل کرسکیں۔

شمالی بحر اوقیانوس میں ہونے والے ابتدائی تجزیوں میں شارٹ فن ماکو، بلیو شارک، اسموٹھ ہیمر ہیڈ اور کم عمر گریٹ وائٹ شارکس کو اس تحقیق کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔

آرون کارلائل کے مطابق سائنسدان سمندر کی بالائی تہہ میں موجود حرارت پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، جسے ’مکسڈ لیئر‘ کہا جاتا ہے۔

 ان کے مطابق یہی پانی کی تہہ سمندری طوفانوں کی شدت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ زیادہ گرم مکسڈ لیئر زیادہ طاقتور سمندری طوفان کا باعث بن سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ کیرولین ویرنیکی کے مطابق شارکس کی ٹیگنگ کا عمل مئی کے آغاز میں شروع ہوتا ہے، جب کئی نقل مکانی کرنے والی شارک انواع موسم سرما میں بحر اوقیانوس کے دور دراز علاقوں میں رہنے کے بعد ساحل کے قریب آتی ہیں۔

محققین تحقیقی کشتی کے ذریعے ساحل سے 50 سے 65 کلومیٹر دور سمندر میں جاتے ہیں، جہاں چارہ لگی ڈوریاں ڈالی جاتی ہیں اور عام طور پر دو سے تین گھنٹے تک شارک کے آنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔

شارک کے ڈورسل فن پر ٹیگ نصب کیا جاتا ہے۔ جب شارک سطح آب کے قریب تیرتی ہے تو ٹیگ سیٹلائٹ وصول کنندگان کے نیٹ ورک سے رابطہ کرکے ڈیٹا منتقل کرتا ہے۔

کارلائل کے مطابق ٹیگ لگانے کا عمل موٹر ریس میں ’پٹ کریو‘ کی طرح تیزی سے مکمل کیا جاتا ہے اور عام طور پر پانچ منٹ سے بھی کم وقت لیتا ہے۔ شارکس پر ٹیگنگ جانوروں کی دیکھ بھال سے متعلق ادارہ جاتی نگرانی میں کی جاتی ہے تاکہ ان پر کم سے کم اثر پڑے۔

ٹیگز ایسے مواد سے منسلک کیے جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ گھل کر خود الگ ہوجاتے ہیں۔ ہر شارک کو دوبارہ سمندر میں چھوڑنے سے پہلے اس کی صحت کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے، کیونکہ دباؤ یا زخمی ہونے والی شارک کا قدرتی رویہ متاثر ہوسکتا ہے، جس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

کیرولین ویرنیکی نے کہا کہ فلموں میں شارکس کو انتہائی خوفناک انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ نسبتاً پرسکون جانور ہیں۔

محققین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو شارکس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا امریکی مشرقی ساحل کے قریب آنے والے سمندری طوفانوں کی شدت کی پیشگوئی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس معلومات سے شمالی کیرولائنا سے میساچوسٹس تک ساحلی علاقوں میں موجود آبادیوں کو طوفانوں سے نمٹنے اور ساحلی تحفظ کے لیے زیادہ قابل اعتماد پیشگوئی فراہم کی جاسکے گی۔

آرون کارلائل کے مطابق شارکس سمندر کے لیے بہترین طور پر ڈھلے ہوئے حیرت انگیز جانور ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ شارکس انسانوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں تو یہ دونوں کے لیے فائدے کی صورتحال ہوگی۔

خاص رپورٹ سے مزید