لاہور (آصف محمود بٹ) امریکی قونصل جنرل لاہور اسٹیٹسن سینڈرز نے کہا ہے کہ ریکوڈک تانبے اور سونے کا منصوبہ اس امر کی ’’تبدیلی ساز‘‘ مثال ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تعاون کیا کچھ حاصل کرسکتا ہے، عالمی معیار کا یہ منصوبہ اپنی پوری مدت میں امریکا سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی مشینری اور خدمات کی برآمدات، پاکستان میں 75 ارب ڈالر سے زائد منافع اور ہزاروں ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (این ایس پی پی) کے زیر اہتمام پاکستان کے نایاب ارضیاتی معدنیات کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹسن سینڈرز نے کہا کہ زیر تعمیر ریکوڈک منصوبے کی بنیاد 1961ء میں ہونے والے مشترکہ پاک امریکا ارضیاتی سروے میں پڑی، جس کے دوران بلوچستان میں اہم معدنی ذخائر کی پہلی مرتبہ نشاندہی ہوئی تھی۔