تہران /واشنگٹن(اے ایف پی /نیوزڈیسک ) امریکاکے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ جنگ معاشی دباؤ کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے،اقتصادی دباؤ اب سب سے مؤثر ہتھیار بن چکا ہے،ہم اسے جاری رکھیں گے، دوسری جانب صدر مسعود پزشکیان نے کہاہےکہ جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ تہران واشنگٹن کے مقابلے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہےتاہم کسی صورت دھونس، دھمکی یا جبر کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ حکومت کو امریکی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا ہو گا ورنہ حکومت قائم نہیں رہ سکے گی۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے نئی امریکی پابندیوں پرطنزکرتے ہوئے کہاہے کہ ہم یہ فلم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں ‘کہانی وہی پرانی ہے‘ بس غنڈے بدل گئے ہیں‘صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر متعدد عالمی خبر رساں اداروں اور میڈیا رپورٹس کے لنکس شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف معاشی اور عسکری سطح پر سخت ترین شکنجہ کس لیا ہے۔ انہوں نے امریکا کی اس مبینہ برتری پر حیران کن طور پر "الحمد للہ" کے الفاظ بھی ادا کیے۔حزب اللہ نے واضح کیاہے کہ نئی امریکی پابندیاں ہمیں نہیں روک سکتیں ‘ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غلط اندازے کا منہ توڑ اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔نئی دھمکیوں یا معاشی پابندیوں کے جواب میں ایران کا ردعمل وسیع اور فیصلہ کن ہوگاجبکہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے مزید درجنوں مرتبہ حملہ کریں گے‘ میڈیا چاہے جو دکھائے امریکا کاہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔قائم مقام ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ تہران کسی کو بھی اپنی سرزمین‘ خودمختاری یا سلامتی کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دے گا‘علاوہ ازیں ایرانی اورعمانی وزراء خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ ہواہے جس میں مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر تبادلہ خیال کیاگیا ۔ادھرتجارتی ذرائع کے مطابق امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے تہران کی ترسیلاتِ زر میں کمی واقع ہونے اور واشنگٹن کی جانب سے مزید پابندیوں کے خطرے کے پیش نظر اس ہفتے چینی خریداروں کے لیے ایرانی خام تیل کی پیشکشوں میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یکے بعد دیگرے جاری کردہ پوسٹس میں ٹرمپ نے بریس بارٹ، نیوز میکس، نیویارک پوسٹ اور برطانوی نیوزایجنسی کی رپورٹس شیئر کیں ۔ ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا اس وقت ایران پر مکمل نظامی اور معاشی تسلط قائم ہو چکا ہے۔لانگ آئی لینڈ میں ایک جلسے سے خطاب اور سوشل میڈیا پوسٹس کے دوران سابق امریکی صدر نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی یا معرکے کے بعد ہرمز کو باقاعدہ طور پر امریکی علاقہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نیوز میکس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے اور میرا خیال ہے کہ ہم اس کنٹرول کو برقرار رکھیں گے۔ ادھرایرانی صدر کا کہنا ہے کہ آج جنگ ختم کرنا بہتر ہے جب ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں اور پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے اورامریکا دنیا بھر میں نفرت کا سامنا کر رہا ہے تاہم مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ان کے بیان کا یہ مطلب نہیں کہ ایران ممکنہ جارحیت کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا۔ہم کسی صورت دھونس ‘دھمکی یا جبر کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ہم اپنی آخری سانس تک ان کے خلاف ڈٹے رہیں گے اور انہیں ایسا فیصلہ کن جواب دیں گے جو انہیں شدید نقصان پہنچائے گا۔ایرانی صدر نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو بھی ایک عظیم کامیابی قرار دیا۔پزشکیان نے باہر بیٹھے ان لوگوں پر بھی تنقید کی جو یہ نہیں جانتے کہ حکومت کن حالات سے گزر رہی ہے‘پارلیمان کن حالات میں ہے اور فوجی کمانڈر کس صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ادھرعراق کے دورے پر موجودباقر قالیباف نے بغداد میں ایرانی سفارت خانے میں ایرانی اور عراقی تاجروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہمارے پاس چاہے کتنی ہی فوجی طاقت کیوں نہ ہو، اگر لوگ بھوکے ہوں گے‘معاشی ترقی اور قومی پیداوار نہیں ہوگی تو ہم بچ نہیں پائیں گے۔ہمیں ان ظالمانہ پابندیوں پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی تاکہ ہم ان کا مقابلہ کر سکیں۔قالیباف نے ایران اور عراق پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک باہمی تجارت اپنی قومی کرنسیوں میں کریں تاکہ امریکی ڈالر کو ضرب لگائی جا سکے۔