کراچی(رفیق مانگٹ)کیا مصنوعی ذہانت کبھی انسانوں کی طرح شعور حاصل کر سکتی ہے؟ پوپ کے مطابق اے آئی نہ شعور رکھتی ہے نہ احساس، مگر یہ لکیر دھندلی پڑ رہی ہے، امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک نوجوان چیٹ بوٹ سے دوستی کا دعویدار ، ماہرین کو تشویش، دنیا کے معروف جریدےکی رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے شعور اور اس کے ممکنہ نتائج نے انسانیت کے لیے ایک نیا اور تشویشناک چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اگرچہ پوپ لیو نے واضح کیا ہے کہ اے آئی سسٹمز نہ تو تجربات سے گزرتے ہیں اور نہ ہی انہیں شخصیت دینا قابلِ قبول ہے، تاہم عملی حقائق اس موقف کو تیزی سے دھندلا رہے ہیں۔ ایک طرف امریکہ میں 18 سے 29 سال کی عمر کا ہر پانچواں نوجوان چیٹ بوٹ کے ساتھ ذاتی دوستی کا دعویٰ کر رہا ہے، تو دوسری طرف چین نے صارفین کے جذباتی انحصار کو توڑنے کے لیے بوٹس کو انسان نما خصوصیات سے قانوناً محروم کر دیا ہے۔ اس صورتِ حال میں ماہرین AI کو شعور کی نقالی کرنے کے لیے ڈیزائن کر رہے ہیں، اور کچھ محققین تو اسے حقیقی خود آگاہی تک پہنچنے کا امکان بھی دے رہے ہیں۔ حالانکہ ریاضی کے حساب سے AI کو محض الفاظ کی پیش گوئی کرنے والا انجن کہا جا سکتا ہے جسے پنسل اور کاغذ پر بھی چلایا جا سکتا ہے، لیکن کمپنیاں جیسے اینتھروپک اپنے ماڈل کلاڈ کو خود شناسی اور اخلاقی رویے کی تربیت دے رہی ہیں، اور بڑے لینگویج ماڈلز میں پہلے سے ہی انسانی دماغ کی گلوبل ورک سپیس جیسی ساخت موجود ہے۔