• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا اے آئی بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر رہی ہے؟

کراچی(رفیق مانگٹ)مصنوعی ذہانت، کیا یہ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے؟ اے آئی سے ہوم ورک بہتر مگر امتحانات میں کارکردگی کمزور، نئی تحقیق،برطانوی جریدے کے مطابق طلبا تیزی سے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ترقی یافتہ ممالک کے 80 فیصد یونیورسٹی طلبہ اپنی تعلیم میں AI سے مدد لے رہے ہیں، جبکہ حالیہ جائزوں کے مطابق برطانیہ میں یہ شرح 94 فیصد اور جرمنی میں 93 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔مصنوعی ذہانت کے اس وسیع استعمال نے تعلیمی حلقوں میں تشویش کو جنم دیا ہے-اساتذہ نے AI کے ذریعے تیار کردہ یکساں اسائنمنٹس پر تشویش ظاہر کی ہے، تاہم پہلے ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے۔چین میں 27 ہزار طلبہ پر کی گئی تحقیق میں 80 فیصد نے اے آئی ماڈلز استعمال کیے۔اے آئی استعمال کرنے والے طلبہ کے ہوم ورک نمبرز میں اوسطاً 18 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔اسائنمنٹ مکمل کرنے کا وقت 64 منٹ سے کم ہو کر 45 منٹ رہ گیا۔امتحانات میں یہی طلبہ اے آئی استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں 20 فیصد کم نمبر حاصل کر سکے۔ہوم ورک اور امتحانی کارکردگی کے درمیان روایتی تعلق کمزور پڑ گیا ہے۔جلدی ہوم ورک مکمل کرنے والے طلبہ میں کارکردگی زیادہ متاثر ہوئی۔جو طلبہ AI کو بطور استاد استعمال کرتے رہے، ان کی کارکردگی بہتر رہی۔ماہرین کے مطابق AI فائدہ مند ہے، بشرطیکہ طلبہ اسے سمجھداری سے استعمال کریں اور خود سوچنے کی عادت برقرار رکھیں۔

اہم خبریں سے مزید