لاہور( عمران احسان سے)پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی نےمکمل ضابطۂ کار تشکیل دینے کے بعد لائسنسنگ پورٹل کھول دیا، لائسنسنگ ریگولیشنز کے تحت پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو لائسنس دیا جائے گا اور اُن کی نگرانی کی جائے گی،ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026ء کے تحت جاری کئے گئے ریگولیشنز لائسنس کی دس اقسام ہیں، جن میں ایکسچینج، تحویل (کسٹڈی)، بروکر ڈیلر، مشاورت، قرض دینا اور لینا، ڈیریویٹوز، اثاثہ جات کا انتظام، منتقلی و تصفیہ، اثاثوں کا اجرا اور مائننگ سے متعلق خدمات شامل ہیں، ہر قسم کے ساتھ سرگرمی کے لحاظ سے الگ ریگولیشنز منسلک ہیں، جو تفصیلی ضابطۂ اخلاق، مالیاتی احتیاطی تقاضوں، ٹیکنالوجی اور انسدادِ منی لانڈرنگ و انسدادِ دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق شرائط کا تعین کرتے ہیں،پہلے سے کام کرنے والے اداروں کے لیے 5 ستمبر 2026ء کی قانونی مدت مقرر کر دی گئی ہے، ایکٹ کی دفعہ 70 کے تحت ہر وہ شخص جو ایکٹ کے نفاذ سے پہلے ورچوئل اثاثوں کی خدمات فراہم کر رہا تھا، اُس کے لیے لازم ہے کہ وہ اِسی تاریخ تک این او سی کیلئے درخواست جمع کرا دے، ورنہ اپنی سرگرمیاں بند کر دے، اِس تاریخ کے بعد درخواست جمع کرائے بغیر کام جاری رکھنا قانوناً جرم تصور ہوگا،وزیرِ مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کی ایک پوری نسل نے یہ مارکیٹ اُس وقت کھڑی کی جب ریاست خود اِس کے لیے تیار نہ تھی۔ آج ریاست اُن کے ساتھ آ کھڑی ہوئی ہے۔