کراچی (بابر علی اعوان) کراچی میں پولیو وائرس کی ماحولیاتی موجودگی کا سلسلہ اگست میں بھی برقرار ہے، شہر قائد کے3اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں جولائی کے بعد اگست میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی، جس سے شہر میں وائرس کی مسلسل موجودگی پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو سندھ کے مطابق اگست میں حاصل کیے گئے 29ماحولیاتی نمونوں میں سے 23کے نتائج منفی، 3مثبت جبکہ 3نمونوں کے نتائج تاحال زیرِعمل ہیں۔ مثبت نمونے کراچی سینٹرل، کراچی ویسٹ اور کراچی ساؤتھ سے سامنے آئے ہیں۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ کراچی کے 6اضلاع وسطی، شرقی، کیماڑی، ملیر، جنوبی اور غربی سمیت کشمور کے ماحولیاتی نمونے مثبت آئے تھے، حالانکہ ان اضلاع میں جون کے نمونے منفی رہے تھے۔ اب اگست میں بھی کراچی کے 3 اضلاع سے وائرس کی موجودگی سامنے آنے سے شہر میں پولیو سرویلنس کے نتائج مسلسل توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پولیو کے خاتمے کے قومی مقصد کے تحت قائم ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے سربراہ کو حکومت سندھ نے بیک وقت دو اہم ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے گریڈ 19 کے افسر شہریار گل میمن جو ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو سندھ کوآرڈینیٹر تعینات ہیں کو 7 جولائی 2026 کو حکومت سندھ نے گریڈ 20 کے اسپیشل سیکریٹری صحت کا اضافی چارج بھی تفویض کیا، جس سے پولیو پروگرام کی نگرانی اور انتظامی امور متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں، جبکہ عدالتی احکامات کے تناظر میں بھی اس تقرری پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق پولیو کے خاتمے جیسے قومی اہمیت کے پروگرام کی نگرانی کرنے والے افسر کو بیک وقت محکمہ صحت کی اعلیٰ انتظامی ذمہ داری دینے سے دونوں ذمہ داریوں کے لیے درکار وقت اور توجہ متاثر ہونے کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً ایسے وقت میں جب کراچی کے مختلف اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں مسلسل پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آ رہی ہے۔