• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محکمہ اسکول ایجوکیشن کا سرکاری اسکولز قریبی تعلیمی اداروں میں منتقل کرنے کا حکم، والدین اور مکینوں کا احتجاج

کراچی (سید محمد عسکری) محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے والدین اور علاقہ مکینوں کے اعتراضات کے باوجود شاہ فیصل ٹاؤن کے گنجان آباد علاقے گرین ٹاؤن کے گورنمنٹ آصف پرائمری اسکول میں قائم دو پرائمری اسکول فوری طور پر قریبی تعلیمی اداروں میں منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے، جس کے خلاف والدین اور علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اچانک منتقلی کے حکم سے تین اسکولوں میں زیر تعلیم 350 سے زائد طلبہ و طالبات کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پرائمری کورنگی صبیحہ پٹھان کی جانب سے 19 اگست 2026ء کو جاری حکم نامے میں گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول آصف گرین ٹاؤن اور گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول اختر گرین ٹاؤن کو مون سون کے پیش نظر فوری منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکم نامے کے مطابق گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول آصف گرین ٹاؤن، سیمس کوڈ 408090011، کو گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول ایجوکیشن سینٹر، سیمس کوڈ 408090005، میں دوسری شفٹ کے دوران منتقل کیا جائے گا، جبکہ گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول اختر گرین ٹاؤن، سیمس کوڈ 408090032، کو گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول نمبر 3بلاک 2، سیمس کوڈ 408090096، میں دوسری شفٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کو دو روز کے اندر عملدرآمد سے آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ والدین اور علاقہ مکینوں کے مطابق آصف اسکول کی عمارت تعمیراتی طور پر مضبوط اور محفوظ ہے اور اسے کسی تکنیکی و جامع جائزے کے بغیر ڈینجر زون میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمارت کو خطرناک قرار دینے کی کوئی تفصیلی انجینئرنگ رپورٹ بھی سامنے نہیں لائی گئی اور محض دو دن میں اسکول منتقل کرنے کا حکم بچوں، والدین اور اساتذہ کے لیے شدید مشکلات پیدا کرے گا۔ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ اسکول کی زمین پر 2012ء میں ناجائز قبضہ کرلیا گیا تھا جسے سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی خصوصی کوششوں سے واگزار کرایا گیا۔ بعدازاں اس وقت کی اسسٹنٹ کمشنر شاہ فیصل ٹاؤن قرۃ العین نے ذاتی دلچسپی لے کر اسکول میں نئے کمرے تعمیر کرائے تھے تاکہ علاقے کے بچوں کا تعلیمی سلسلہ جاری رہ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ گنجان آباد علاقے میں کوئی دوسرا سرکاری پرائمری اسکول موجود نہیں، اس لیے منتقلی سے بالخصوص غریب خاندانوں کے بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ مقامی افراد کے مطابق اس وقت آصف اسکول کی عمارت میں تین اسکولوں کا تعلیمی نظام چل رہا ہے۔ صبح کی شفٹ میں اختر گرین ٹاؤن پرائمری اسکول جبکہ دوپہر کی شفٹ میں آصف پرائمری اور آصف سیکنڈری اسکول کی کلاسیں منعقد ہوتی ہیں۔ والدین نے کہا کہ اسکول اور عمارت سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری کورنگی امداد لاشاری بھی عدالتی مقدمے کے فیصلے تک کسی اسکول کو منتقل نہ کرنے کی ہدایت دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آصف سیکنڈری اسکول کی پرانی عمارت مسمار کرکے نئی عمارت تعمیر کی جارہی ہے، جس کی چھت ڈالا جانا ابھی باقی ہے۔ والدین اور علاقہ مکینوں نے وزیر تعلیم سندھ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن اور ڈائریکٹر اسکولز سے مطالبہ کیا ہے کہ عمارت کا غیر جانب دار ماہر انجینئرز سے دوبارہ معائنہ کرایا جائے، تکنیکی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے اور عدالتی مقدمے کے فیصلے تک دونوں اسکولوں کی منتقلی کا حکم فوری طور پر معطل کیا جائے۔

ملک بھر سے سے مزید