• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنوعی ذہانت سے دہشتگردوں کو حیاتیاتی ہتھیار بنانے میں مدد ملنے کا خدشہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

محققین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت دہشت گردوں اور غیر تجربہ کار انتہاپسندوں کے لیے حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے سے متعلق معلومات تک رسائی آسان بنا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خاص طور پر ایسے جدید اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز تشویش کا باعث ہیں جنہیں ڈاؤن لوڈ کر کے نجی طور پر چلایا جا سکتا ہے، ایسے ماڈلز ان افراد کو خطرناک معاونت فراہم کر سکتے ہیں جو پہلے پیچیدہ حیاتیاتی حملوں کے لیے درکار سائنسی مہارت نہیں رکھتے تھے۔

محققین کے مطابق بعض اے آئی ماڈلز مقامی طور پر چلائے جا سکتے ہیں اور ان میں درج کی جانے والی معلومات کمپنی کے سرورز تک نہیں پہنچتیں، جس کے باعث حکام کے لیے ان کے استعمال کی نگرانی مشکل ہو سکتی ہے، ایسے ماڈلز میں موجود حفاظتی پابندیوں کو کمزور یا ختم کیے جانے کا خدشہ بھی ہے۔

ٹیک اگینسٹ ٹیررازم کی حالیہ تحقیق کے مطابق ابتدائی تجربات میں تقریباً ایک تہائی جوابات نے ایسی بامعنی معاونت فراہم کی جو کسی بدنیت فرد کی دہشت گرد سرگرمی کی تیاری کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتی تھی۔

محققین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت حیاتیاتی تحقیق، ادویات کی تیاری اور حیاتیاتی نظاموں کے ڈیزائن و تجزیے سمیت متعدد شعبوں میں تیزی سے ترقی کا باعث بن رہی ہے، تاہم یہی صلاحیتیں غلط مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔

رینڈ کی رواں ماہ جاری ہونے والی رپورٹ میں مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف سطح پر مشتمل حکمتِ عملی اختیار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں حساس معلومات اور حیاتیاتی مواد تک رسائی محدود کرنے، مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی بہتر بنانے اور اے آئی کے غلط استعمال کی کوشش کرنے والوں کے خلاف مؤثر رکاوٹیں اور سزائیں یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید