سائنسدانوں نے انسانی دماغ جیسے چھوٹے ڈھانچوں کو لیبارٹری میں کئی سال تک زندہ اور نشوونما پانے کے قابل رکھنے میں کامیابی حاصل کرلی، بعض تجرباتی ڈھانچوں کی عمر اب 7 سال تک پہنچ چکی ہے۔
یہ ڈھانچے برین آرگینوئڈز کہلاتے ہیں، جو اسٹیم سیلز سے تیار کیے گئے انسانی دماغی خلیوں کے چھوٹے مجموعے ہوتے ہیں۔ یہ مکمل انسانی دماغ نہیں بلکہ اس کے سادہ ماڈلز ہیں، جن کی مدد سے سائنسدان دماغ کی نشوونما کے ایسے مراحل کا مطالعہ کرسکتے ہیں جن کا براہِ راست مشاہدہ انتہائی مشکل ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی اسٹیم سیل محقق پاؤلا ارلوٹا کی سربراہی میں ایک ٹیم نے 34 برین آرگینوئڈز کا مطالعہ کیا اور 5 سال تک وقفے وقفے سے ان کے آر این اے کا تجزیہ کیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ خلیے لیبارٹری میں اتنے طویل عرصے تک زندہ رہنے کے ساتھ ساتھ مسلسل تبدیل اور پختہ ہوتے رہے، جبکہ ان کی نشوونما کا سلسلہ ابتدائی انسانی دماغ کی نشوونما سے بڑی حد تک مشابہ تھا۔
سائنسدانوں کے مطابق ان خلیوں میں اپنی نشوونما کا ایک قسم کا حیاتیاتی ریکارڈ بھی برقرار رہا۔ جینیاتی طور پر عمر کے تعین کرنے والے اشاریے اس مدت کے ساتھ مطابقت رکھتے تھے جتنے عرصے تک آرگینوئڈز لیبارٹری میں پرورش پاتے رہے۔
پاؤلا ارلوٹا کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوا کہ ان آرگینوئڈز کو صرف لیبارٹری میں زندہ رکھنا ہی ممکن نہیں بلکہ وہ مسلسل تبدیل، نشوونما اور پختگی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے اعصابی بیماریوں کا مطالعہ کرنے اور ممکنہ علاج کی جانچ کے لیے انسانی دماغی خلیوں کا طویل عرصے تک مشاہدہ ممکن ہوسکے گا۔
اس سے قبل برین آرگینوئڈز کی مختصر عمر تحقیق کی ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ 2021ء میں ایک تحقیق میں ایسے آرگینوئڈز کو 694 دن تک برقرار رکھنے کا ریکارڈ سامنے آیا تھا۔
تحقیق کاروں کے مطابق ان کے بعض آرگینوئڈز اب 7 سال کی عمر تک پہنچ چکے ہیں، تاہم طویل عرصے تک پرورش پانے والے پرانے نمونے بتدریج زیادہ نازک ہوتے جارہے ہیں۔
سائنسدان اب یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا دماغ کی نشوونما کے انہی مراحل کو مستقبل میں زیادہ تیزی سے دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے، پاؤلا ارلوٹا نے اس ممکنہ عمل کو حیاتیاتی ’ٹائم وارپ‘ سے تشبیہ دی ہے۔