کراچی (بابر علی اعوان) اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 14نومولود بچوں کی المناک ہلاکت کے بعد سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات پر بھی سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں،سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد میں 11فروری 2024 کو آتشزدگی کے نتیجے میں عملے اور پیرامیڈیکل اسٹاف سمیت 7 افراد جھلس گئے تھے۔ واقعے کے بعد فائر سیفٹی انتظامات کی تفصیلات 24 گھنٹے میں طلب کی گئی تھیں جو متعدد اسپتالوں اور ڈی ایچ اوز نے آج تک فراہم نہیں کیں۔ تفصیلات کے مطابق فروری 2024 میں سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد کے ایمرجنسی وارڈ میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد اس وقت کے نگراں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے صوبے بھر کے سرکاری اسپتالوں، طبی اداروں اور ضلعی صحت دفاتر سے آگ بجھانے کے آلات اور فائر سیفٹی انتظامات کی مکمل تفصیلات 24گھنٹے میں طلب کی تھیں، تاہم متعدد اسپتالوں اور ڈی ایچ اوز کی جانب سے مطلوبہ معلومات آج تک فراہم نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق پمز اسپتال کی نرسری میں گزشتہ روز پیش آنے والے ہولناک واقعے نے سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات کی مؤثر نگرانی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔