انصار عباسی
اسلام آباد :…پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ذاتی ایکس اکاؤنٹ کی خاموشی کو پارٹی کے اندر ممکنہ مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سیاسی کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ عمران خان کے ذاتی ایکس اکاؤنٹ @ImranKhanPTI پر پانچ ماہ سے زائد عرصے سے براہِ راست ان سے منسوب کوئی نیا پیغام پوسٹ نہیں کیا گیا۔ اس نوعیت کا آخری پیغام 21 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا تھا، جب عمران خان کے بیٹوں نے ان سے فون پر بات کرنے کے بعد ان کی جانب سے ایک بیان پوسٹ کیا تھا۔ یہ طویل وقفہ اس لیے قابلِ ذکر ہے کیونکہ اس سے قبل خان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ، خصوصاً فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف، سخت انداز میں استعمال ہوتا رہا تھا۔ سیاسی محاذ آرائی میں شدت کے دوران ان سے منسوب پیغامات باقاعدگی سے سامنے آتے تھے اور پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے تیزی سے بڑے پیمانے پر پھیلائے جاتے تھے۔ تاہم اس طرح کے پیغامات نے پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کیا۔ پی ٹی آئی کے اندر بہت سے ایسے افراد، جو عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے کم کرنا چاہتے تھے، اس وجہ سے ناراض تھے کہ یہ پیغامات اکثر فوجی قیادت پر سخت تنقید پر مبنی ہوتے تھے۔ دسمبر 2025 میں صورتحال خاص طور پر کشیدہ ہوگئی تھی، جب فوج نے سرِعام عمران خان پر الزام عائد کیا کہ وہ جیل میں ان سے ملاقات کرنے والوں اور سوشل میڈیا کو مسلح افواج پر حملوں اور تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے قبل خان کی ایک بہن نے جیل میں ان سے ملاقات کی تھی اور فوج پر ان کی تنقید باہر پہنچائی تھی۔ اس کے بعد عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ پی ٹی آئی اور حکام کے درمیان محاذ آرائی کا ایک بڑا نقطہ بن گیا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ جیل میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران سیاسی گفتگو کی جا رہی ہے اور خان جیل سے ملاقات کرنے والوں کے ذریعے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا خیال ہے کہ عمران خان کی جانب سے مسلسل براہِ راست پیغامات کی عدم موجودگی ممکنہ طور پر بہتر سیاسی ماحول پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق انتہائی جارحانہ پیغامات میں کمی، خصوصاً فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت پر ہونے والی تنقید میں کمی، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان سیاسی معاملات کو معمول پر لانے کے لیے کچھ گنجائش پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ اسے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی سیاسی معاہدے یا مفاہمت کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق، نسبتاً پُرسکون پیغام رسانی کا ماحول محض ایسی صورتحال پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے جس میں معمول کی سیاست کی بحالی ممکن ہو، بشرطیکہ یہ سلسلہ جاری رہے۔ اس تبدیلی کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب جیل میں ہونے والی ملاقاتوں اور ان کے بعد میڈیا کو دی جانے والی بریفنگز کے پی ٹی آئی کی سیاست میں کردار کو دیکھا جائے۔ خاندان کے افراد، خصوصاً عمران خان کی بہنیں، ان سے ملاقاتوں کے بعد اکثر سامنے آتی تھیں اور وہ ان کے تازہ سیاسی مؤقف کے طور پر جو کچھ بیان کرتی تھیں، اسے عوام تک پہنچاتی تھیں۔ علیمہ خان بالخصوص عمران خان کے خیالات عوام تک پہنچانے والی سب سے نمایاں آوازوں میں شامل رہی ہیں۔ حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس طریقۂ کار پر سخت اعتراض کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ جیل کے اندر سیاسی پیغامات تیار کیے جا رہے ہیں اور پھر انہیں جیل سے باہر لا کر محاذ آرائی کو مزید شدت دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔