• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یومِ میلادُالنبی ﷺ کی صحیح تاریخ کاتعیّن(گزشتہ سے پیوستہ)

تفہیم المسائل

امام الحافظ ابوالفتح محمد بن محمد بن عبداللہ بن محمد بن یحیٰ بن سید الناس الشافعی الاندلسی متوفیٰ 734ہجری ، لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ہمارے آقا اور ہمارے نبی محمد ﷺ پیر کے روز بارہ ربیع الاول کو عام الفیل میں پیدا ہوئے ، بعض نے کہا ہے کہ واقعۂ فیل کے پچاس روز بعد حضور کی ولادت ہوئی ،(عیون الاثر ،جلد 1،ص:26، مطبوعہ: دار المعرفہ ، بیروت)‘‘۔

دورِ حاضر کے سیرت نگار محمد صادق ابراہیم عرجون ، جو جامعہ ازہر مصر کے کلیہ’’ اصول الدین‘‘ کے مدیر رہے ہیں، اپنی تصنیف ’’محمد رسول اللہ ‘‘میں لکھتے ہیں: ترجمہ:’’بکثرت طُرُقِ روایت سے یہ بات صحیح ثابت ہوچکی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ بروز دو شنبہ (پیر) بارہ ربیع الاول عام الفیل، کسریٰ نوشیرواں کے عہد حکومت میں تولد ہوئے، اور ایسے علماء ،جو شمسی اور قمری تاریخوں کی آپس میں تطبیق کرتے ہیں، نے کہا ہے کہ اس دن شمسی تاریخ 20اگست 570ء بنتی ہے ،(محمد رسول اللہ ،جلد 1،ص:102،مطبوعہ : دارالقلم ،دمشق )‘‘۔

اس موضوع پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے پیر محمد کرم شاہ الازہری ’’ضیاء النبی ﷺ ‘‘ میں لکھتے ہیں : ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں یہی تاریخ روایت کی ہے ،چنانچہ وہ بیان کرتے ہیں: ترجمہ:’’حضرت جابر اور ابن عباس رضی اللہ عنھمابیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ عام الفیل روز دوشنبہ (پیر) بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے، اسی روز آپ ﷺ کی بعثت ہوئی، اسی روزآ پ کو معراج عطا ہوئی، اسی روز آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی جانب ہجرت کی اورآ پ ﷺ کے وصال مبارک کادن بھی یہی ہے، جمہورِ امت کے نزدیک یہی تاریخ (بارہ ربیع الاول) مشہور ہے ،واللہ اعلم بالصواب‘‘۔

اس کے پہلے راوی ابو بکر بن ابی شیبہ ہیں ان کے بارے میں ابو زرعہ رازی متوفیٰ264 ہجری کہتے ہیں کہ میں نے ابو بکر بن ابی شیبہ سے بڑھ کر حافظِ حدیث نہیں دیکھا ۔ محدث ابن حبان فرماتے ہیں ابو بکر عظیم حافظِ حدیث تھے۔

دوسرے راوی عفان ہیں ان کے بارے میں محدثین کی رائے ہے کہ عفان ایک بلند پایہ امام، ثقہ اور صاحبِ ضبط واتقان ہیں۔ تیسرے راوی سعید بن میناء ہیں ان کا شمار بھی ثقہ راویوں میں ہوتا ہے۔ یہ صحیح الاسناد روایت دو جلیل القدر صحابہ حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے۔

آگے چل کر مزید لکھتے ہیں: بر صغیر پاک وہند کے بعض سیرت نگار وں نے محمود پاشا فلکی کے حوالے سے لکھا ہے کہ بارہ ربیع الاول کو پیر کا دن نہیں تھا بلکہ پیر کا دن نو ربیع الاول کو بنتا ہے، لہٰذا نو تاریخ صحیح ہے ،لیکن دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ ان لوگوں کو محمود پاشا کے اصلی وطن کا بھی حتمی علم نہیں۔

علامہ شبلی نعمانی اور قاضی سلمان منصور پوری نے محمود پاشا کو مصر کا باشندہ لکھا ہے ،مفتی محمد شفیع صاحب انہیں مکّی لکھتے ہیں ،مولانا حفظ الرحمن سیو ہاروی نے انہیں قسطنطنیہ کا مشہور ہیئت داں اور منجّم بتایا ہے۔

مجھے بڑی کوشش کے باوجود محمود پاشا فلکی کی کتاب یا رسالہ نہیں مل سکا، البتہ معلوم ہو اکہ پاشا فلکی کا اصل مقالہ فرانسیسی زبان میں تھا، جس کا ترجمہ سب سے پہلے احمد زکی آفندی نے ’’نتائج الاَفہام‘‘ کے نام سے عربی میں کیا، اس کو مولوی سید محی الدین خان جج ہائی کورٹ حیدرآباد نے اردو کا جامہ پہنایا اور 1898ء میں نولکشور پریس نے شائع کیا لیکن اب یہ ترجمہ نہیں ملتا۔

محمود پا شا فلکی نے اگر علم فلکیا ت کی مدد سے کچھ تحقیقات کی بھی ہیں، تو صحابۂ کرامؓ ،تابعین اور دیگر قُدَماء کی روایات کو جھٹلانے کے لئے ان پر انحصار کسی طرح مناسب نہیں کیونکہ سائنسی علوم کی طرح فلکیات کی بھی کوئی بات قطعی نہیں ہوتی۔

محمود پاشا سے قبل بھی کچھ لوگوں نے علمِ نجوم کے حسابات سے یومِ ولادت معلوم کرنے کی کوشش کی، علامہ قسطلانی لکھتے ہیں : اہل زیچ(جنتریوں کاحساب نکالنے والے) کا اس قول پر اجماع ہے کہ آٹھ ربیع الاول کو پیر کا دن تھا، اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص بھی علوم نجوم اور ریاضی کے ذریعے حساب لگا کر تاریخ نکالے گا مختلف ہوگی۔ پس ہمیں قدیم سیرت نگاروں، مُحَدثین، مفسِّرین، تابعین اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کی بات ماننا پڑے گی، (ضیاء النبی ﷺ جلددوم ،ص:33تا 39،مطبوعہ: ضیاء القرآن پبلی کیشنز ، لاہور)‘‘۔

اقراء سے مزید