انصار عباسی
اسلام آباد :…ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے پمز اسپتال کے شعبہ اطفال کے آئی سی یو میں آتشزدگی اور نتیجتاً 14؍ بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے کے بعد وفاقی سیکریٹری صحت کو اس مبینہ ناکامی کی وجہ سے عہدے سے ہٹایا گیا کہ انہوں نے وزیراعظم کی اسلام آباد کے اسپتالوں (بالخصوص پمز) کے معائنے کی بار بار دی جانے والی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ ذریعے کے مطابق، وزیراعظم نے ایک سے زیادہ مرتبہ سیکریٹری صحت کو ہدایت کی تھی کہ وہ خود اسپتالوں کا دورہ کریں اور موقع پر صورتحال کا جائزہ لیں، جس میں علاج معالجے کا معیار، سہولیات اور مریضوں کیلئے مجموعی انتظامات شامل تھے۔ ذریعے کا کہنا تھا کہ وفاقی سیکریٹری صحت کو خصوصی طور پر جدید ترین آلات اور الیکٹرو میڈیکل آلات کی فراہمی یقینی بنانے کو کہا گیا تھا۔ تاہم سیکریٹری مطلوبہ دورے نہیں کر سکے۔ ذریعے کے مطابق، وزیراعظم نے پمز کے سانحے سے 4؍ روز قبل بھی سیکریٹری کو یہی ہدایت جاری کی تھی، لیکن دورہ نہ ہو سکا۔ آئی سی یو میں آتشزدگی کے نتیجے میں بچوں کی ہلاکت کے بعد وزیراعظم نے فوری طور پر سیکریٹری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ تاہم، فوری کارروائی کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں کہ سانحے کی ذمہ داری کا مکمل تعین کر لیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کیلئے قائم انکوائری کمیٹی سے توقع ہے کہ وہ اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، تاہم جمعہ کی شام تک رپورٹ کا انتظار تھا۔ کمیٹی سے توقع ہے کہ وہ مختلف سطحوں پر ہونے والی کوتاہیوں کی نشاندہی اور ذمہ داری کا تعین کرے گی، جس کے بعد مزید کارروائی ہو سکتی ہے۔ اب یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا مزید افسران کیخلاف بھی کارروائی ہوگی اور آیا انکوائری کے بعد وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ وزیر کے حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ معاملہ بڑی حد تک انکوائری کمیٹی کی سفارشات اور اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا وہ وفاقی وزیر یا دیگر حکام کو ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ تاہم، ذریعے نے نشاندہی کی کہ سنگین انتظامی ناکامیوں کے معاملات میں اعلیٰ حکام کو فوری طور پر عموماً پہلے 24؍ گھنٹوں کے اندر عہدوں سے ہٹا دیا جاتا ہے، جبکہ اس کے بعد کی کارروائی عام طور پر انکوائری کے نتائج سامنے آنے کے بعد کی جاتی ہے۔ وفاقی وزیر صحت بھی مختلف حلقوں کی جانب سے دباؤ کا شکار ہیں اور بچوں کی ہلاکت کے بعد ان سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، فی الحال اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی کہ انہیں استعفیٰ دینے کیلئے کہا گیا ہے۔ لہٰذا انکوائری رپورٹ اس بات کا تعین کرنے میں انتہائی اہم ہوگی کہ آیا سیکریٹری صحت کو ابتدائی طور پر عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد دیگر حکام کیخلاف بھی کارروائی کی جائے گی، جن میں پمز کی انتظامیہ اور انتظامی امور کے ذمہ دار افسران بھی شامل ہیں۔ اس سانحے نے بڑے سرکاری اسپتالوں میں موجودہ نگرانی کے نظام کے موثر ہونے اور اس سوال کو بھی اجاگر کیا ہے کہ آیا اعلیٰ حکام اہم نگہداشت کی سہولیات کی صورتحال کی مناسب نگرانی کر رہے تھے یا نہیں۔ حکومت کا فوری ردعمل سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹانے کی صورت میں سامنے آیا، تاہم احتساب کا دائرہ اس وقت مزید واضح ہوگا جب انکوائری کمیٹی اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔