کراچی ( ثاقب صغیر )کراچی میں میڈیکل لیگل معائنے کی جانچ پڑتال ، نگرانی اور تصدیق کا ذمہ دار کون ؟،سپروائزر کے سائن کے بغیر پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو کیوں بھیجی گئی ؟کیمیکل رپورٹس آنے سے قبل قبر کشائی کیوں ؟، ایم ایل او رپورٹ میں خامیاں تھیں تو ڈاکٹر سمعیہ نے ٹھیک کیوں نہیں کیا ؟ تمام پوسٹ مارٹمز میں ایس او پیز کی پابندی کی گئی ؟میر رضا کیس میں پولیس کی حتمی رپورٹ کا تاحال انتظار ہے تاہم اس کیس نے اس بات پر بنیادی سوالات اٹھا دیے ہیں کہ کراچی میں میڈکو لیگل معائنے کی جانچ پڑتال، نگرانی اور تصدیق کا ذمہ دار کون ہے؟۔کیا یہ صرف ایک پوسٹ مارٹم کی ناکامی تھی یا پورے نظام کی ؟۔یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کی ایڈیشنل پولیس سرجن (اے پی ایس، بی ایس-19) ڈاکٹر سمیعہ سید طارق جو پولیس سرجن (پی ایس، بی ایس-20) کا اضافی چارج بھی سنبھال رہی تھیں نے میڈکو لیگل آفیسر (ایم ایل او ،بی ایس-17) ڈاکٹر اسامہ شیخ کے پہلے پوسٹ مارٹم پر 14 اعتراضات اٹھائے۔اس کے بعد لاش کی قبر کشائی کر کے دوسرا معائنہ کیا گیا جبکہ متضاد طبی رپورٹس پولیس تفتیش کا مرکزی نکتہ بن گئیں۔یہ پورا سلسلہ واقعات یہ سوالات اٹھاتا ہے کہ رپورٹ کا جائزہ کب لیا گیا اور تفتیش کاروں کو پیش کرنے سے پہلے نگرانی کا کون سا عمل انجام دیا گیا ؟۔ڈاکٹر سمیعہ نے جناح اسپتال میں اے پی ایس کی حیثیت اور پولیس سرجن کا اضافی چارج رکھتے ہوئے معائنے کے تین دن بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ پر 14 اعتراضات اٹھائے، اس سے نگران عمل (سپروائزری پروسیس) کے بارے میں مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں۔میڈکو لیگل ماہرین اور سابق پولیس سرجنز نے ڈاکٹر سمیعہ کی جانب سے ڈاکٹر اسامہ شیخ کی رپورٹ پر اٹھائے گئے اعتراضات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سمیعہ کے اعتراضات اصولاً طے شدہ ایس او پیز (ضابطہ کار) کے مطابق ہیں تاہم ماہرین نے ایک اہم سوال بھی اٹھایا ہے کیا سال 2026 کے دوران جناح اسپتال میں میر رضا سے پہلے کیے جانے والے تمام 328 پوسٹ مارٹمز اور اس کے بعد ہونے والے پوسٹ مارٹمز میں ان تمام ایس او پیز کی پابندی کی گئی تھی؟۔اگر نہیں، تو کیوں؟۔ یہ جاننے کے لیے پچھلی پوسٹ مارٹم رپورٹس کا جائزہ لیا جائے کہ آیا اعتراضات میں جن طریقہ کار کا ذکر کیا گیا ہے ان پر باقاعدگی سے عمل کیا جاتا ہے یا نہیں؟یہ سوال بھی اہم ہے کہ ڈاکٹر سمیعہ کو جنہوں نے پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اعتراضات اٹھائے تھے جس کی سپروائز وہ خود تھیں انہیں دوسری میڈیکل ٹیم کا کنوینر کیوں مقرر کیا گیا؟۔کیا ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے ایم ایل او کی رپورٹ کا جائزہ لیا تھا؟ اگر انہوں نے ایسا کیا تو پولیس کو بھیجنے سے پہلے رپورٹ کو درست کیوں نہیں کیا گیا؟۔پوسٹ مارٹم نمبر 329/26 کے تحت پہلے پوسٹ مارٹم سے 20 تا 22 گھنٹے قبل موت کا وقت ازسر نو متعین کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر اسامہ شیخ کی حتمی حتمی رائے کے مطابق ان رپورٹس کی روشنی میں موت کی وجہ کے طور پر خودکشی کے امکان کو مسترد / خارج کیا جاتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر قبر کشائی کے ساتھ آگے بڑھنے سے پہلے حتمی کیمیکل اور فرانزک نتائج کا انتظار نہ کرنے کی کوئی خاص وجہ تھی ؟۔اس سے یہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں کہ جن معاملات میں طبی لحاظ سے ایکسرے ضروری تھے، ان میں کتنی رپورٹس کے ساتھ ایکسرے کی دستاویزات شامل تھیں؟۔کتنی رپورٹس میں مطلوبہ کیمیکل ایگزامینیشن کی درخواستیں شامل تھیں؟۔آتشیں اسلحے سے لگنے والے زخموں کے شبہ والے کتنے کیسز میں ہاتھوں کے سواب (ہینڈ سوابز) شامل تھے؟۔پولیس یا دیگر حکام کو پیش کرنے سے پہلے کتنی رپورٹس کا جائزہ اے پی ایس یا پولیس سرجن نے لیا تھا؟۔کتنی رپورٹس میں بعد میں ترمیم یا ان کا اضافہ کیا گیا تھا؟۔کتنے کیسز میں اضافی پوسٹ مارٹم معائنے کیے گئے؟۔کتنے کیسز کے نتیجے میں قبر کشائی کی گئی؟۔کتنے کیسز میں میر رضا علی کیس جیسی خامیاں ریکارڈ کی گئیں؟۔کیا تمام 328 کیسز پر ایک جیسے ایس او پیز مستقل مزاجی سے لاگو کیے گئے یا مختلف کیسز میں مختلف معیارات اپنائے گئے؟۔میر رضا علی کیس اب محض دو پوسٹ مارٹم رپورٹس کا تنازعہ نہیں رہا، اس نے کراچی کے میڈکو لیگل نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔اگر لازمی حفاظتی اقدامات (سیف گارڈز) موجود تھے تو پہلی رپورٹ تفتیشی افسران تک پہنچنے سے پہلے مبینہ خامیاں نظام سے کیسے گزر گئیں؟ اور اگر سینکڑوں دیگر کیسز میں بھی یہی معیارات مستقل مزاجی سے نہیں اپنائے گئے تو یہ مسئلہ صرف ایک ڈاکٹر تک محدود نہیں رہتا۔کیا یہ ایک پوسٹ مارٹم کی ناکامی تھی یا اس نظام کی ناکامی جسے اسے روکنے کے لیے بنایا گیا تھا؟۔