• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا کی لاش کو تدفین کے 10 دن اور موت کے 12 دن قبر سے کیوں نکالا گیا

کراچی( ثاقب صغیر )میر رضا علی کی لاش کی تدفین کے10دن اور موت کے 12دن بعد 8 اگست 2026کو قبر سے نکالا گیا،قبر کشائی کے ساتھ آگے بڑھنے سے پہلے پوسٹ مارٹم کی حتمی کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا؟۔​قبر کشائی بورڈ نے میر رضا علی کی لاش سے 13 نمونے اکٹھے کیے۔ان نمونوں کے لیب رپورٹ کے مطابق نمونے نمبر 1 سے 9 میں نشہ آور، نفسیاتی، منشیات یا زہریلے مادوں کے کوئی آثار نہیں ملے جبکہ نمونے نمبر 10 سے 13 میں گولی کے بارود کے ذرات (GSR) پائے گئے۔​ان نمونوں کو اکٹھا کرنے کی سائنسی بنیاد کیا تھی؟​۔کیا ڈاکٹر سمیعہ کی جانب سے پہلے پوسٹ مارٹم معائنے کے حوالے سے اٹھائے گئے تمام 14 اعتراضات کا مناسب ازالہ کر دیا گیا تھا؟۔ ڈاکٹر سمیعہ نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے قبر کشائی کی سفارش کی تھی۔ اگر تمام اعتراضات حل نہیں ہوئے تو ایک اہم سوال یہ ہے کہ قبر کشائی کے دوران اکٹھے کیے گئے نمونوں کا اصل مقصد کیا ثابت کرنا تھا؟۔کیا حکام کو قبر کشائی کے ساتھ آگے بڑھنے سے پہلے پہلے پوسٹ مارٹم کی حتمی کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے تھا؟۔کیا میر رضا کیس سے پہلے جے پی ایم سی میں تعفن زدہ لاشوں کی ورچوئل آٹوپسی (Virtual Autopsy) جس میں ایکس رے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی شامل ہیں کی گئی ؟۔اگر ہاں تو کن حالات میں؟۔​ڈاکٹر اسامہ شیخ کے پوسٹ مارٹم کے بعد کیے جانے والے معائنے کے دوران کیا متوفی کا سر کھولا گیا تھا؟۔ اگر نہیں تو کیا ڈاکٹر سمیعہ نے بطور اے پی ایس اور پولیس سرجن کا اضافی چارج رکھنے ہوئے متعلقہ افسر کے خلاف کوئی کارروائی کی؟۔​کیا جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں سال 2026 کے دوران 329 ویں پوسٹ مارٹم سے پہلے کیے جانے والے 328 پوسٹ مارٹمز میں تمام قابل اطلاق ایس او پیز پر عمل کیا گیا تھا؟ اگر نہیں تو ان پر عمل کیوں نہیں کیا گیا اور اس تعمیل کو یقینی بنانے کا ذمہ دار کون تھا؟۔

اہم خبریں سے مزید