• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاجروں نے3 ستمبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی یقین دہانی کرادی، جماعت اسلامی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور سمیت ملک بھر کے تاجروں نے پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس اور آئی پی پیز کے ظالمانہ اور عوام دشمن معاہدوں کے خلاف3ستمبر کو مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی یقین دہانی کرائی ہے، ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال تاریخ ساز ثابت ہوگی اور حکومت کو پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرنا ہوگا، ہڑتال سے قبل احتجاج اور دھرنے بھی جاری رہیں گے اور اگلے مرحلے میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن جو اعلان کریں گے اس پر عمل درآمد کیا جائے گا، یہ بات انھوں نے رات گئے گورنر ہاوس پر دھرنا گاہ میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی ،پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی،آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف گورنر ہاؤس پر جماعت اسلامی کا دھرنا جمعہ کو تیرہویں دن بھی جاری رہ ،لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ دھرنوں کے آغاز پر وفاقی وزراء نے ہم سے رابطہ کیا تھا، ہمارے مطالبات کو درست قرار دیا اور احسن اقبال نے ایک کمیٹی بھی نوٹیفائی کی مگر بعد میں وہ کمیٹی لاپتا ہو گئی۔جماعت اسلامی نے توانائی اور بجلی کے بحران کے خلاف بھی 14دن کا دھرنا دیا تھا اور جماعت اسلامی کی کمیٹی نے وفاقی وزراء کے سامنے دلیل کے ساتھ اپنا اور عوام کا مقدمہ رکھا تھا اس وقت بھی ہمارے مطالبات کو درست تسلیم کیا گیا تھا اگر حکومت آج فیصلہ کرلے کہ آئی پی پیز کے عذاب سے قوم کو نجات دلانی ہے تو معاملات 2دنوں میں ٹھیک ہو جائیں گے۔امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کو اور ان کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو استقامت کے ساتھ گورنر ہاؤس کے سامنے 13دن سے دھرنا دیے ہوئے ہیں، دھرنے سے امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان،حیدری مارکیٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید فراز احمد، تاجر رہنما شاہد اختر،الخدمت کے سی ای او نوید علی بیگ،ٹاؤن چیئرمین نارتھ ناظم آباد عاطف علی خان، اسمال ٹریڈرز کے صدر محمود حامدو دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ حیدری مارکیٹ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے 3ستمبر کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ لیاقت بلوچ نے اپنے خطاب میں پمز ہسپتال اسلام آباد میں 14نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چند خاندان قیامت صغریٰ سے گزرے ہیں لیکن اسلام آباد میں وزیر اعظم وزیر داخلہ اور وزیر صحت کی ناک کے نیچے یہ کام کیا گیاہے۔ اسلام آباد میں 3 سرکاری اسپتال ہیں جنہیں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہونے چاہیئے جن میں حکمران ناکام ہیں۔ہم نے وارڈز میں بچوں کی ماؤں کو دیکھا جنہیں معلوم تھا کہ نومولود بچوں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ بچوں کے خاندان بلک رہے تھے کوئی ان کی شنوائی کے لیے تیار نہیں تھا۔
اہم خبریں سے مزید