• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریاست غلطی کا فائدہ نہیں اٹھا سکتی، سپریم کورٹ ،سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم

اسلام آباد(جنگ رپورٹر) سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا کے سرکاری ملازمین کی سینیارٹی کیس میں سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا ،عدالت نے واضح کیا ہے کہ ریاست اپنی انتظامی غلطی کا فائدہ نہیں اٹھا سکتی ،کسی ملازم کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا سکتا، گزٹ نوٹیفکیشن میں تاخیر ملازمین کے قانونی حق پر اثرانداز نہیں ہو سکتی ،انتظامی نااہلی کی سزا ملازمین کو نہیں دی جا سکتی۔عدالت نے ملازمین کی اپیلیں منظور کر تے ہوئے حکم جاری کیا کہ ملازمین کی سینیارٹی اصل حالت میں بحال کی جائے اور ان کی ریگولرائزیشن 7 مارچ 2018 سے ہی مؤثر تصور ہوگی۔ 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے قلمبند کیا ، فیصلہ کے مطابق ملازمین کو کے پی ایمپلائز ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018تحت 7 مارچ 2018 سے ریگولر کیا گیا ۔نوٹیفکیشنز اگست اور اکتوبر 2018 میں جاری ہوئے، جبکہ سرکاری گزٹ میں اشاعت 21 اگست 2024 کو ہوئی۔ عدالت نے اسے محض انتظامی کوتاہی قرار دیا۔فیصلہ کے مطابق نوٹیفکیشن کی اشاعت کی تاریخ کو سینیارٹی کا واحد معیار نہیں بنایا جا سکتا، تاخیر سے ریگولرائزیشن غیر مؤثر نہیں ہوتی۔یاد رہے کہ 2019 سے 2023 تک جاری ہونے والی سینیارٹی لسٹوں میں متعلقہ ملازمین کو سینئر رکھا گیا تھا، تاہم 2024 کی لسٹ پر اعتراضات کے بعد سروس ٹربیونل نے گزٹ کی تاخیر کو بنیاد بنا کر اسے کالعدم قرار دیا تھا، جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا ۔
اہم خبریں سے مزید