• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا سیکریٹری صحت کو نامکمل معلومات کی بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا؟

اسلام آباد:(انصار عباسی)…ممکن ہے کہ سیکریٹری صحت کو قبل از وقت عہدے سے ہٹا دیا گیا ہو کیونکہ مبینہ طور پر وزیراعظم کوان کے پمز کے دوروں اور وہاں کیے گئے اقدامات کے بارے میں مکمل معلومات نہیں دی گئیں۔ ہٹائے گئے سیکریٹری صحت اسلم غوری کے قریبی ذرائع نے ہفتے کے روز بتایا کہ سیکریٹری نے آگ لگنے سے پہلے والے ہفتے کے دوران پمز کے تین سے چار دورے کیے تھے اور اپنی تحقیقات اور مشاہدات سے وزیراعظم آفس کو باقاعدگی سے آگاہ کرتے رہے تھے۔ تاہم وزیراعظم آفس کے ایک ذریعے نے اصرار کیا کہ دفتر کو سیکریٹری کی جانب سے ایسی کسی رپورٹ یا پمز سے متعلق کیے گئے اقدامات کا علم نہیں تھا۔ اسلم غوری کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ سیکریٹری کا پہلا دورہ 21 اگست کو ہوا، جب ان کے ہمراہ ان کے اسٹاف آفیسر ڈاکٹر شاہد کریم بھی تھے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے پمز میں رانا عمران سکندر اور پانچ سے چھ دیگر ڈاکٹروں سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق اس دورے کی رپورٹ اسی روز شام تقریباً ساڑھے چھ بجے ذاتی طور پر وزیراعظم ہاؤس میں جمع کرائی گئی، جس کے ساتھ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تیار کردہ رپورٹ بھی شامل تھی۔ذرائع نے بتایا کہ سیکریٹری نے 23 اگست کو دوپہر تقریباً 3 بجے پمز کا دوبارہ دورہ کیا تاکہ انہیں سونپی گئی ذمہ داری کی نگرانی کر سکیں۔ اس دورے کے دوران ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز اور شعبہ ریڈیالوجی کے سربراہ بھی موجود تھے۔ بعد ازاں اسی شام ایک رپورٹ وزیراعظم ہاؤس بھیجی گئی۔ ان کے مطابق جب سیکریٹری کو 27 اگست کو آگ لگنے کی اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر پمز پہنچ گئے اور تمام متعلقہ حکام سے ملاقات کی۔ انہوں نے آئی سی یو میں موجود ایک کمپیوٹر پر ابتدائی رپورٹ تیار کی اور صبح 11 بجے سے پہلے اسے وزیراعظم کے عملے کو بھجوا دیا۔ذرائع کے مطابق پارلیمانی امور کے وزیر بھی ہسپتال پہنچے، سیکریٹری کی ابتدائی رپورٹ کی ایک نقل حاصل کی اور بعد میں میڈیا کے سوالات کے جواب دئیے۔ سیکریٹری وزیر کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کے دوران موجود رہے، جس کے بعد وہ وزیراعظم ہاؤس روانہ ہوگئے، جہاں پہلے سے ایک اجلاس طے تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے سیکریٹری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا، بظاہر ایسی معلومات کی بنیاد پر جو پمز کے ان کے دوروں اور اقدامات کی مکمل عکاسی نہیں کرتی تھیں۔سیکریٹری کے قریبی ذرائع کا خیال ہے کہ وزیراعظم کو سیکریٹری کے پمز کے دوروں اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں "آگاہ" نہیں کیا گیا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم آفس کے ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے سیکریٹری صحت اور وزیر صحت دونوں سے بات کی تھی، لیکن ان میں سے کسی نے بھی انہیں سیکریٹری کے پمز کے دوروں اور وہاں کیے گئے اقدامات سے متعلق نہیں بتایا۔اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیکریٹری صحت نے واقعی اس سے پہلے والے ہفتے کے دوران پمز کے تین سے چار دورے کیے تھے اور آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ہسپتال پہنچ گئے تھے تو پھر انہیں بعد میں کیوں عہدے سے ہٹایا گیا۔ایک اور غیر حل شدہ سوال پمز میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے آگ لگنے کے ایک پہلے واقعے سے متعلق ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث آیا، جہاں وزیر صحت نے وزیراعظم کو بتایا کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔اسلم غوری کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ انہیں پمز کے چلڈرن ہسپتال میں جولائی میں لگنے والی آگ کے بارے میں بھی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ان متضاد اطلاعات نے اس لیے ایک وسیع تر سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا پمز کی ناکامیوں کی ذمہ داری درست طور پر طے کی گئی یا وزیراعظم نے مکمل صورتحال سامنے آنے سے پہلے ہی سیکریٹری صحت کے خلاف کارروائی کردی۔

اہم خبریں سے مزید