(مجموعۂ کلام)
شاعر: محمّد اسماعیل فیض ہادی تونسوی
صفحات: 180، قیمت: 1000روپے
ناشر: اُردو سخن، اُردو بازار، چوک اعظم، لیّہ۔
فون نمبر: 7844094 - 0302
زیرِنظر کتاب کےخالق کہنہ مشق شاعر ہیں، اُن کی مادری زبان سرائیکی ہے اور اپنی زبان میں بھی شاعری کرتے ہیں، لیکن اُن کا زیادہ تر کلام اُردو میں ہے۔ یہ اُن کی دسویں کتاب ہے، اِس سے بھی اُن کی زُود گوئی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ویسے جس شاعر کو ظہور احمد فاتح اور شبّیر ناقد جیسی ہمہ جہت شخصیت کا قرب حاصل ہو، اُس کی شاعرانہ حیثیت کیسے نظرانداز کی جاسکتی ہے۔
اُنہوں نے کتاب کا انتساب بھی اِن ہی دونوں ہستیوں کے نام کیا ہے۔ کتاب میں ایک حمد، ایک نعت اور ایک سو گیارہ غزلیں شامل ہیں۔ شاعری میں ریاضت نظر آرہی ہے، جب کہ فنی اعتبار سے بھی اِسے ایک مکمل کتاب قرار دیا جاسکتا ہے۔
نئے موضوعات بھی شاعری کا حصّہ بنائے گئے ہیں، لیکن اُنہوں نے خُود کو ادب کی کلاسیکی روایت سے جوڑا ہوا ہے۔ شبّیر ناقد نے ’’محمّد اسماعیل فیض ہادی تونسوی کا تخلیقی اظہاریہ‘‘ کے عنوان سے پیش لفظ لکھا ہے، جس میں اُنہوں نے مصنّف کی شاعرانہ جہتوں کا احاطہ کیا ہے۔