• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ ستمبر کے 17 دن: پاکستان کی تاریخ کا درخشاں باب

جنگِ ستمبر، 6ستمبر 1965ء، بروز سوموار شروع ہوئی اوراس جنگ کی ابتدا پاکستان نے نہیں کی تھی، یہ بھارت کی جانب سے مسلّط کردہ تھی۔ یاد رہے، دینِ اسلام نے ظلم و زیادتی سے منع فرمایا ہے مگر کُفر سے جنگ کا حُکم بھی دیا ہے۔ اس ضمن میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’اور اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے جنگ کرو، جو تم سے جنگ کرتے ہیں، مگر جنگ میں پہل اور زیادتی نہ کرو، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل ایّوب خان کی تاریخی تقریر:۔’’ہم جنگ میں شامل ہوچُکے ہیں۔‘‘ یہ تاریخی الفاظ اُس وقت کے صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل محمد ایّوب خان کے ہیں، جو انہوں نے 6ستمبر 1965ء کو ریڈیو پاکستان پر قوم سے اپنے خطاب کے دوران ادا کیے۔ صدر ایّوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’’بھارت نے رات کے اندھیرے میں بُزدلوں کی طرح پاکستان پر حملہ کردیا ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ اُس نے کس قوم کو للکارا ہے۔

ہم کلمۂ طیبہ کا وِرد کرتے ہوئے دشمن کی یلغار کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر اُبھریں گے۔ پاکستان کے دس کروڑ عوام اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے کہ جب تک دشمن فوج کی توپوں کے دہانے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش نہ ہوجائیں۔‘‘ بلاشبہ، ایّوب خان کے اِن الفاظ نے افواجِ پاکستان اور مُلک وقوم کی قوّتِ ایمانی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

جنگِ ستمبر اور قومی یک جہتی:۔ جنگِ ستمبر کے 17دن ہماری قومی تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ روشن و درخشاں رہیں گے۔ یہی وہ دن تھے کہ جب یہ قوم اتحاد و اتفاق کا اعلیٰ نمونہ بن کر اُبھری۔ تب تمام پاکستانی وطن کی محبّت سے سرشار اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے متّحد و پُر عزم تھے۔

دِلوں میں نفرتوں، کدورتوں کی جگہ محبّتوں اور چاہتوں نے لے لی تھی۔ گویا پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی تھی۔ کوئی مُلکی دفاع کے لیے فنڈز اکٹّھے کررہا ہے، تو کہیں زخمیوں کو خون دینے کےلیے لمبی لمبی قطاریں نظر آرہی ہیں۔

کہیں گھریلو خواتین اپنے فوجی بھائیوں کے لیے کھانے تیار کرکر کے بھجوا رہی ہیں، تو کہیں یہی خواتین دفاعِ وطن کی خاطر اپنے زیور تک پیش کررہی ہیں۔ دوسری جانب اس دوران شعراء نے اپنے جنگی ترانوں، جب کہ گلوکاروں نے اپنی آواز کے ذریعے لہو گرمائے رکھا۔ شاعروں نے ایسے نغمے و ترانے تخلیق کیے کہ جو نہ صرف قوم کےجذبات کےترجمان تھے بلکہ میدانِ جنگ میں نبردآزما فوجی جوانوں کا جوش و ولولہ بڑھانے کا باعث بھی بنے۔

میجر عزیز بھٹّی شہید : شجاعت و بسالت کی علامت:۔ 1965ء کی جنگ کے دوران واحد نشانِ حیدر میجر راجا عزیز بھٹّی شہید نےحاصل کیا۔ اُن کے والد کا نام ماسٹر عبد اللہ اور والدہ کا آمنہ تھا۔ میجر عزیز بھٹّی 6 اگست 1928ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے اور 12 ستمبر 1965ء کو بھارت کے خلاف جنگ کے دوران بی آر بی نہر کےکنارے جامِ شہادت نوش کیا۔ 6 ستمبر کو جب بھارت نے پاکستان پرحملہ کیا، تو اُس وقت میجر عزیز بھٹّی لاہور سیکٹر میں تعیّنات تھے۔

اُن کی کمپنی کی دو پلاٹونز بی آر بی نہر کے کنارے موجود تھیں۔ انہوں نے اگلے کنارے پر متعیّن پلاٹون کے ساتھ پیش قدمی کا فیصلہ کیا۔ دشمن، جسے توپ اور ٹینکس کی مدد حاصل تھی، بھرپور طریقے سےحملہ آور تھا مگر وہ میجر عزیز بھٹّی اور ان کے ساتھیوں کے عزم کو کم زور نہ کرسکا۔ 9 اور10ستمبر کی درمیانی شب دشمن نے اس سیکٹر پر بھرپور حملے کے لیے اپنی پوری بٹالین تعیّنات کردی۔ میجر عزیز بھٹّی کونہر کنارے لوٹنے کا حُکم ملا۔ اس دوران انہوں نے لڑائی جاری رکھی مگر دشمن نہر پر قبضہ کرچُکا تھا۔

اس نازک صورتِ حال میں میجرعزیز بھٹّی کی قیادت میں بھرپور حملے کیے گئے اور وہ اُس وقت تک مطمئن نہ ہوئے، جب تک ان کے جواں نہر کے پارنہ پہنچ گئے۔ دشمن پسپا ہورہا تھا تو بوکھلاہٹ میں مسلسل گولاباری کررہا تھا۔ اس موقعے پر عزیز بھٹّی کو اُن کے ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ ’’آپ اونچائی سے ذرا نیچے آجائیں، اوپر دشمن کی طرف سے زیادہ خطرہ ہے۔‘‘

مگر اُنہوں نےعزمِ مصمم کے ساتھ کہا۔ ’’نہیں، اس کے بغیر بھرپور حملہ ممکن نہیں۔‘‘ اور پھر 12 ستمبرکی صُبح، جب وہ اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے انہیں دشمن پر حملے کی ہدایت دے رہے تھے، اچانک ایک گولا اُن کے شانے پر آکر لگا اور وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔؎ اے راہِ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو …تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔

ایم ایم عالم : تاریخ ساز ہوا باز:۔ ایم ایم عالم (محمد محمود عالم)6 جولائی 1935ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک متوسّط خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جو قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کرکے ڈھاکا آیا۔ انہوں نے یہیں تعلیم حاصل کی اور پھر1952 ء میں پاک فضائیہ کاحصّہ بن گئے۔ جنگِ ستمبر کے دوران ایم ایم عالم نے سرگودھا کی فضاؤں میں ایک تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا۔

انہوں نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں خود سےکہیں زیادہ طاقت وَر دشمن کے 5 طیّارے مار گرائے اور پھر دیگر معرکوں میں بھی دشمن کے مزید4 لڑاکا طیّارے زمین بوس کیے۔یوں انہوں نےکُل9یّارےگرانے کا ورلڈ ریکارڈ بنایا، جوآج بھی قائم ہے اور پاک فوج اورعوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔

تاہم، اپنے اس غیرمعمولی کارنامے پر عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہی کہا ’’یہ سب میرے اللہ کا کرم ہے۔ یہ ایک کرامت ہی ہے کہ اللہ نے مُجھے ایسا موقع دیا۔‘‘ بعدازاں، حکومتِ پاکستان نے اُن کی اس غیرمعمولی شجاعت پراُنہیں ”ستارۂ جرات‘‘ سے نوازا۔ آج بھی پوری قوم کو اپنے اس عظیم محسن پر فخر کرتی ہے۔

بی آر بی نہر : مضبوط دفاعی لائن:۔جنگِ ستمبر کے دوران بی آربی نہر کا بطور دفاعی لائن کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ اس سترہ روزہ جنگ میں دشمن نے بی آر بی نہر پر بےتحاشا بم باری کی کہ کسی طرح وہ نہر میں بہتے پانی کو روک کر اسے عبور کرنے کے قابل ہوجائے مگر اپنے ناپاک عزائم میں کام یاب نہ ہوسکا۔

یاد رہے، قیامِ پاکستان کے بعد خطرہ تھا کہ بھارت کسی بھی وقت نہراپر باری دوآب کا پانی بند کرسکتا ہے، چناں چہ متبادل کے طور پر مذکورہ نہر دریائے راوی سے نکالی گئی اور اس میں رعیہ نہر کا پانی شامل کیا گیا۔ یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکرہے کہ اس نہرکو مُلک کے جواں ہمّت شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیا تھا اور اس عمل میں پروفیسرز سے لے کر تانگا بانوں تک ہر مکتبۂ فکر کے لوگوں نے حصّہ لیا تھا۔

چونڈہ کا محاذ: بھارتی ٹینکس کا قبرستان:۔ جنگِ ستمبر میں چونڈہ کے مقام پر دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹینکس کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی۔ چونڈہ میں لڑائی کی شدّت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غیر مُلکی صحافیوں نےصرف 800 گز کے رقبے پر11 تباہ شُدہ بھارتی ٹینکس دیکھے۔ جنگ کے دوران پاک فوج کے جوان اپنے پیٹ سے بم باندھ کر بھارتی ٹینکس کے نیچے لیٹ گئے اور یوں جنگ کی تاریخ میں شجاعت کے اَن مٹ نقوش چھوڑے۔

پاک فوج کے جوانوں نے تقریباً 120 بھارتی ٹینکس تباہ کرکے چونڈہ کو ٹینکس کے قبرستان میں تبدیل کردیا۔ اس فدائی کارروائی نے نہ صرف دشمن کو شکستِ فاش دی بلکہ تاریخ کے دھارے کا رُخ بھی موڑ دیا۔ دُنیا کی تاریخ میں حُبّ الوطنی اور جاں بازی کی ایسی مثالیں خال خال ہی ملتی ہیں۔

پاک فضائیہ کی دشمن پر کاری ضرب:۔1965ء کی پاک، بھارت جنگ کے دوران پاکستان کے پاس 148 لڑاکاطیّارےموجود تھے، جب کہ اس کےمقابلے میں بھارتی لڑاکا طیّاروں کی تعداد 532 تھی اور اس 17روزہ جنگ کے اختتام پر پاکستان کے16جب کہ بھارت کے110طیّارے تباہ ہوئے۔ پاکستان کے شاہین صفت ہوا بازوں نے جنگ کے دوران بھارت کے 35 طیّاروں کو دوبدو لڑائی میں،43کو زمین ہی پر، جب کہ 32کو طیّارہ شکن توپوں سے مار گرایا۔ یوں بھارت کے مجموعی طور پر110 طیّارے تباہ کیے گئے۔

اس کے علاوہ فضائیہ نے دشمن کے 149ٹینکس، 200بڑی گاڑیاں اور 20بڑی توپیں بھی تباہ کیں۔ پاک فضائیہ نےجنگ کے ابتدائی دِنوں ہی میں دشمن پرکاری ضرب لگاتے ہوئے پٹھان کوٹ، جودھ پور، آدم پور، ہلواڑہ، جام نگر، جمّوں اورسری نگر کے اہم بھارتی ہوائی اڈّوں پر درجنوں بھارتی طیّارےتباہ کردیےتھے اور پھر اپنے ٹینک شکن ہتھیاروں کے ذریعے جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا۔

اس ضمن میں بی بی سی کے نمائندے، چارلس ڈوگلس ہوم نے اُس وقت اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر جوان کے مقابلے میں جوان اور یونٹ کے مقابلے میں یونٹ کا موازنہ کیا جائے، تو پاکستان کی مختصر فوج بھارت کی افواج کے مقابلے میں زیادہ طاقت اور اعلیٰ معیار کا مظاہرہ کررہی ہے۔ لاہور کے کھیم کرن کے محاذ پر جنگ بھارت کے علاقوں میں ہورہی ہے۔‘‘

قلعۂ دوارکا کی فتح:۔جنگِ ستمبر کےدوران 9 ستمبر کو پاک فوج نے ’’دوارکا‘‘ کا قلعہ فتح کیا۔ یہ قلعہ کراچی سے تقریباً 210میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے فتح کرنے والے بحری جہازوں کی کمان شیخ محمد نور کررہے تھے۔ ’’دوارکا‘‘ کا فاتح افضل الرحمٰن کو کہا جاتا ہے، جو اُس وقت پاک بحریہ کے سربراہ تھے۔

دل چسپ و اہم معلومات:۔1 ۔ جنگِ ستمبر میں پاکستان کے پہلے شہید ہونے والے فوجی کا نام نائیک محمّد شریف تھا۔

2۔ پاک، بھارت جنگ کے دوران پہلی شہید ہونے والی خاتون کا نام عابدہ طوسی تھا۔

3۔ بھارتی جارحیت کا شکار ہونے والا پاکستان کا پہلا گاؤں، ’’اعوان شریف‘‘ (گجرات) تھا۔

4۔ پاک، بھارت جنگ کے آخری شہید فوجی کیپٹن برجیس ناگی تھے۔

5۔ جنگِ ستمبر میں پاکستان نے بھارت کے 500 مربّع میل کے علاقے پر قبضہ کیا۔

6۔ جنگ کےدوران پاک فوج کو20 سے زائد محاذوں پر کام یابی ملی۔

7۔ جنگ کے پہلے دن پاکستان نے 22 بھارتی طیّارے مار گرائے۔

8۔ تین شہروں لاہور، سیال کوٹ اور سرگودھا کے شہریوں کو اپنی زندہ دِلی و بہادری پر ’’ہلالِ استقلال‘‘ سے نوازا گیا۔

9۔ پاک فضائیہ کے شاہین، یونس حسن شہید نے اپنا جلتا ہوا طیّارہ پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈّے پر گرا کر جامِ شہادت نوش کیا۔

10 ۔ جنگِ ستمبر17 روز کے بعد 23 ستمبر 1965ء کو اختتام پذیر ہوئی۔

سنڈے میگزین سے مزید