مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
زیرِنظر واقعہ میرے والد ، صغیر الدین راجپوت نے اپنے والد یعنی ہمارے دادا سے متعلق سنایا، جو اُن ہی کی زبانی پیش ِ خدمت ہے۔’’میرے والد، کبیر الدین، قیامِ پاکستان سے قبل ہندوستان کے صوبہ راجستھان کی تحصیل، سنگھانہ میں تدریسی فرائض سرانجام دے رہے تھے۔پاکستان معرض ِوجود میں آیا، تو سفر ِہجرت کے نتیجے میں اُن کی زندگی ایک نئے اور کٹھن باب میں داخل ہو گئی۔
قیامِ پاکستان کے بعد حالات کی ستم ظریفی نے اُن کے نام ہی کو اُن کی اس شناخت سے یوں وابستہ کر دیا کہ وہ باقاعدہ ’’ماسٹر کبیرالدین‘‘ بن گئے۔ قیامِ پاکستان کے فوری بعد دیگر مہاجرین کی طرح اُن کے خاندان کو بھی سنگین نوعیت کے معاشی اور معاشرتی چیلنجز کا سامنا تھا۔
خاندان کے پاس نہ تو مستقل رہائش کا کوئی ٹھکانہ تھا، نہ ہی سر چُھپانے کے لیے کوئی محفوظ چھت۔ روزگار کے ذرائع بھی ناپید تھے، جس کے باعث گھر کا چولھا جلانا اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کا حصول بھی جوئے شِیر لانے کے مترادف تھا۔ اس روزمرّہ تگ و دو اور ہنگامہ خیز مسائل کے گرداب میں عیدالفطر کے بابرکت دن انتہائی تیزی سے قریب تر آتے جارہے تھے۔
ماہِ صیام اپنے اختتام کی آخری منزل پر تھا، مگر ہمارے گھرانے کے مکینوں کے لیے خوشیوں کے بجائے فاقہ کشی اور بے بسی کے سائے مزید گہرے ہو رہے تھے۔ اس کسمپرسی کے عالم میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عید سے قبل کسی نہ کسی طرح ہمارے لیے نئے کپڑے تو تیار ہوچکے تھے، مگر اب تک نئے جوتوں کا بندوبست نہیں ہوسکا تھا۔ ہم اس کے لیے روز والد صاحب سے ضد کرتے تو وہ ’’ہاں بیٹا! کل چلیں گے، ابھی عید میں کچھ روز باقی ہیں، بے فکر رہو۔‘‘ کہہ کر تسلّی دے دیتے۔
بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں او چاند رات آ گئی، تو والد مجھے حیدرآباد کے شاہی بازار لے کر گئے، جہاں جوتوں کی ایک دُکان نے اُن کی توجّہ فوراً اپنی جانب مبذول کروالی، دُکان کے سائن بورڈ پر ایک انتہائی دل چسپ اور منفرد جملہ درج تھا ’’زخمی جوتوں کا اسپتال‘‘ عام دکانوں کے برعکس، جہاں شوکیس میں چمکتے دمکتے اور نئے ڈیزائن کے جوتے سجے ہوتے ہیں، اُس دکان کا منظر بالکل مختلف تھا۔
بہرحال، ہم دُکان کے اندر داخل ہوئے، تو وہاں روایتی چمک دمک کے بجائے پرانے، مرمت شدہ اور نسبتاً کم چمک والے جوتے نظر آئے، جو اس دُکان کے منفرد نام کی عکّاسی کر رہے تھے۔ دُکان کے روشن تختہ پوش پر دُکان دار ایک کے بعد ایک جوتا نکال کر ہمارے سامنے رکھتا چلا گیا، مگر ہر بار مَیں نفی ہی میں جواب دیتا۔ ’’نہیں، یہ مجھے پسند نہیں۔‘‘ ننھے ذہن پر تو دوستوں کے پیروں میں سجے چمک دار جوتوں کا سحر طاری تھا۔
والد اور دُکان دار دونوں ہی کافی دیر تک میری اس ضد کو توڑنے اور وہاں دست یاب جوتوں میں سے کسی ایک پر رضامند کرنے کی تگ و دو کرتے رہے، لیکن اَنا اور خواہش کے توازن میں الجھا بچپن، ہار ماننے کو تیار نہ تھا کہ اس وقت میرے ذہن میں اپنے دستوں کے جوتے سمائے ہوئے تھے۔ بہرحال، کافی دیر تک دُکان دار اور میرے والد مجھے انہی جوتوں میں سے کوئی جوتا پسند کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن مجھے وہاں کے جوتے بالکل پسند نہیں آرہے تھے۔
بالآخر، میرے والد نے لڑکھڑاتے قدموں اور شکست خوردہ خاموشی کے ساتھ میرا ہاتھ تھاما اور بوجھل قدموں کے ساتھ دُکان سے باہر آگئے۔ دُکان سے نکل کر ابھی چند قدم ہی کا فاصلہ طے کیا تھا کہ اچانک نو عمری کی اس دُھند میں جو حقیقت مجھ پر منکشف ہوئی، اس نے دل کی دنیا بدل دی۔ مجھے ایک دم ہی احساس ہوگیا تھا کہ والد کی خاموشی دراصل اُن کی بے بسی ہے؛ وہ میرے دوستوں جیسے منہگے جوتے دلانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
اسی مجبوری کے تحت وہ مجھے اس مقام پر لائے تھے، جہاں پُرانےجوتوں کی مرمّت کرکے انہیں دوبارہ فروخت کے قابل بنایا جاتا تھا، اور شاید اسی تلخ سچّائی کی غمازی کرتی اس دُکان کا نام علامتی طور پر ’’زخمی جوتوں کا اسپتال‘‘ رکھا گیا تھا۔ اس حقیقت کا اِدراک ہوتے ہی میرے دل و دماغ میں تیزی سے ایک خیال کوندا اور نظریں والدِ محترم کے چہرے کی طرف اُٹھ گئیں، جو کسی گہری فکر اور سوچ میں دکھائی دے رہے تھے۔
اُسی لمحے مَیں نے اچانک والد سے مخاطب ہوکر کہا۔ ’’ابو! وہ تیسرا جوتا، جو دُکان دار نے دکھایا تھا، وہی مجھے دلا دیں۔‘‘ میرے اس جملے نے والد صاحب کے پژمُردہ اور تھکے ہارے وجود میں جیسے نئی زندگی پھونک دی۔ انہوں نے فوراً میرا ہاتھ پکڑ کر تیز قدموں سے دکان کا رُخ کیا کہ کہیں تاخیر کی وجہ سے میرا ارادہ بدل نہ جائے۔ پھر انھوں نے اُس دُکان سے وہ جوتا خرید لیا، جو کہ یقیناً نئے جوتے کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت میں ملا ہوگا۔
پرانے جوتے لینے کے بعد اپنے والد کے چہرے پر اطمینان و خوشی دیکھ کر مجھے جو راحت و تسکین ملی، وہ یقیناً نئے جوتے لے کر بھی نہیں ملتی۔ ایک پُرانی دکان سے انتہائی کم قیمت پر خریدا گیا پرانا جوتا، نئے جوتے کی چمک دمک سے کہیں بڑھ کر والد کے چہرے پر جو اطمینان اور خوشی سجا گیا، وہ میرے لیے ابدی سکون کا باعث بنے۔‘‘
یہ واقعہ سناتے ہوئے میرے والد آب دیدہ ہوگئے تھے، پھر انھوں نےگلوگیر لہجے میں کہا۔ ’’اگر انسان کے دل میں احساس کا جذبہ سچائی کے ساتھ زندہ ہو، تو وہ رشتوں میں آسانیاں اور خوشیاں بانٹ سکتا ہے۔ بلاشبہ، مادّی اشیاء اور تحفے اُتنی خوشی اور تسکین نہیں دیتے، جتنی خلوص اور احساس کا رشتہ دیتا ہے۔‘‘ (شکیل احمد راجپوت، حیدرآباد)
سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!
اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدو معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔
ایڈیٹر، ’’سنڈے میگزین‘‘
صفحہ ناقابلِ فراموش، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔