تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈل: زیبی خان
ملبوسات: HS collection by CVW
آرائش: Touch oon style by Raihma butt
عکّاسی: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
تاریخ کے ہر دَور میں، دنیا کی ہر تہذیب اور علمی شعبوں نے آنکھوں کو ایک طلسماتی، کرشماتی اور مرکزی حیثیت دی ہے۔ انسانی وجود میں آنکھیں بینائی کا ایک مادی وسیلہ تو ہیں ہی، ساتھ ہی ہمیشہ سے فلاسفہ، ادباء اور شعراء کی بھرپور توجّہ کا مرکز بھی رہی ہیں۔ مفکرین نے آنکھوں کی سچائی، گہرائی اور اُن کی زبان سے متعلق بہت کچھ کہا۔
صوفی ازم میں آنکھوں کی بنیادی اہمیت یوں بھی ہے کہ عرفانِ الٰہی کے حصول کی خاطر باطنی بےداری کے بعد، یہ رُوح کے سفر پر گام زن ہونے کا گیٹ وے ہیں بلکہ صوفی ازم میں تو ایک بڑی پیاری اصطلاح ’’چشمِ دل‘‘ بھی استعمال ہوتی ہے کہ جس میں مشاہدے کی بجائے دیدار کا دل پذیر عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جیسے رومی کہتے ہیں۔ ’’آنکھ وہ دریچہ ہے، جہاں سے دنیا اندر جھانکتی ہے، اور دل وہ مقام ہے، جہاں سے محبّت دنیا کو دیکھتی ہے۔‘‘ اور بات محبت، رومانس اور شعری تخیّل کی ہو، تو آنکھوں کا ذکر کیے بغیر کوئی غزل، کوئی داستانِ عشق مکمل ہو نہیں سکتی۔
شاعری نے آنکھوں کے سحر کو جاودانی عطا کی۔ ہر جنبشِ چشم ایک ادا ٹھہری اور ہر ادا ایک پیام یا استعارہ۔ یوں نینوں نے اپنی ہی اک لغت ترتیب دے ڈالی کہ پلکوں کا اُٹھنا اقرارِ محبّت اور حیا سے جُھکنا اظہارِ الفت، کبھی ساکن سمندر اور کبھی برستی برسات یا پھر مے خانہ و پیمانہ۔ بقول احمد فراز ؎ سُنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں… سُنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں۔ یا جیسے عربی میں یہ خوب صورت اعتراف ہے ’’عیناک حرب، لا ابالي ان لقيت فیھا مصرعی‘‘ (تمہاری آنکھیں، ایک جنگ ہیں… اور مجھے اس (جنگ) میں مرنے پر کوئی اعتراض نہیں)۔
آنکھیں کبھی کبھار مَن کا بھید بھی دے جاتی ہیں۔ زندگی کے سفر میں جب ایسے درد بھرے لمحے در آئیں کہ الفاظ بھی گرفت میں نہ آنے پائیں اور زبان پر مصلحت، زبان بندی کے قفل لگا دے، تب نیناں باغی ہو کر خاموشی کی گفتگو میں گویا ہوتے ہیں اور نہ کہتے ہوئے بھی، سب کہہ دینے کی عجب ادا دِکھا جاتے ہیں۔ بقول فرانسیسی شاعر پیرے میتھیو ’’کوئی پردہ، کوئی نقاب اتنا گہرا نہیں ہوتا کہ وہ آنکھوں کی سچائی چُھپا سکے۔‘‘ اور جارج ایلیٹ، اصل نام میری این ایوانز ( Mary Ann Evans) کے مطابق ’’خاموشی کی بھی ایک اپنی آواز ہوتی ہے، اور وہ سب سے زیادہ واضح طور پر انسان کی آنکھوں سے سنائی دیتی ہے۔‘‘
اِسی طرح اپنی طرز کی منفرد شاعرہ جہاں آرا تبسم کےاشعار ہیں۔ ؎ تاکتی جھانکتی رہی آنکھیں… جانے کیا کھوجتی رہی آنکھیں… خواب آنکھوں میں سو گئے لیکن… رات بھر جاگتی رہی آنکھیں… آنکھوں آنکھوں میں کیا کہا اس نے… دیر تک سوچتی رہی آنکھیں… اس کی گہری سی جھیل آنکھوں میں… ڈولتی ڈوبتی رہی آنکھیں… جانے کیا دیکھنے کی حسرت ہے… جانے کیا دیکھتی رہی آنکھیں… جھوٹ پر جھوٹ بولتی ہی رہی… سچ مگر بولتی رہی آنکھیں… دُور تک دیکھتے رہے اس کو… دیر تک بھیگتی رہی آنکھیں… وہ الجھتے رہے تبسمؔ سے… اور دُکھ جھیلتی رہی آنکھیں۔
آج کی بزم ہلکے پُھلکےفیبرک سے یوں سجی ہے، گویا اِک حسین کلام، جو ہواؤں کے ورق پہ لکھا گیا ہو، لیکن اس کا اصل لُطف لینے کے لیے آنکھوں کے رستے دل میں اُتر جانے کی راہ آپ کو خُود ہی دینی ہوگی۔ سیاہ اور اسکن رنگ کا دل کش امتزاج ملاحظہ فرمائیے۔ اول تو پریمیم کوالٹی کا فیبرک ہی کسی شاہ کار سے کم نہیں، اُس پر کلاسک پرنٹ کے ساتھ گلے اور دامن کے نفیس ترین بلیک لیس اینڈ مِررورک اور مشین ایمبرائڈری نے اس کی خُوب صُورتی کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔
بزم کا دوسرا حسین ترین پہناوا، آتشیں سُرخ رنگ غرارہ اسٹائل ٹراؤزر کے ساتھ لانگ شرٹ ہے، جس پر گولڈن رنگ شان دار بُنت کے ساتھ بیش قیمت ایمبرائڈری ہے، خصوصاً گلے کا بھاری کام اور فرنٹ کی نفاست تو دل ہی موہ رہی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے، جیسے یہ ڈریس بنا ہی خوشیوں، مسرتوں کے لیے ہے۔ کسی بھی اہم تہوار پر مرکزِنگاہ بننے کی خواہش ہو تو اس سے بہترین انتخاب اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ لائٹ کریم رنگ اور انتہائی نرم و ملائم سا فیبرک۔
قمیص کے دامن پرآرگنزا کٹ ورک، پورے فرنٹ پر پیسٹل پھولوں کی کڑھت اور لیس کی جاذبیت، سب مل کے پہناوے کو بہت دل نشین اور ماڈرن لک دے رہے ہیں۔ یوں کہیے، ڈے فنکشنز، سمر پارٹیز کے لیے یہ ایک آئیڈیل انتخاب ہے۔ اِسی طرح پِیچ اور ہلکے گلابی رنگ کا حسین امتزاج دیکھتے ہی آنکھوں کو طراوت کا سا احساس ہورہا ہےاور پھر اس پر بکھرا رنگ برنگ پھولوں کا پرنٹ اور گلے پرہینڈ ورک کی باریکیاں اس کے حُسن و دل کشی کو جیسے دوآتشہ کیے دے رہی ہیں۔
یہ جوڑا دوپہر کی تقریبات کے لیے نہایت موزوں رہے گا۔ اور… گہرا شاہی نیلا رنگ اور ٹرانس پیرنٹ نیٹ کا نفیس فیبرک۔ پہناوے پر ڈیزائننگ اور نفاست ختم ہے کہ بھاری سلورموتی ورک کچھ اس عمدگی سے کیا گیا ہے کہ اُس نے پہناوے کی شان ہزار گنا تک بڑھا دی ہے۔ ہمارے خیال میں تو ولیمہ ریسیپشن، یا کسی بڑی بارات کی تقریب کے لیے یہ ایک پرفیکٹ وئیر ہے۔ ان رنگ وانداز سے سجنے سنورنے کے لیے لازم نہیں کہ ’’لڑکی اکھیوں سے گولی مارے‘‘، یہ عام کجرارے نینوں کے ساتھ بھی خُوب جچیں گے۔ یوں بھی اصل حُسن تو دیکھنے والی آنکھ میں ہوتا ہے۔