معرکۂ بدر: رمضان 2ہجری میں مدینہ سے 80میل دور بدر کے مقام پر حق و باطل کے درمیان وہ محیرالعقول معرکہ پیش آیا، جس نے عقلِ انسانی کو حیران اور دنیا کو انگشتِ بدنداں کردیا۔ کفارِ قریش کے ایک ہزار کے لشکر کے مقابلے میں 313 مجاہدین کو عظیم الشان فتح نصیب ہوئی اور ابو جہل سمیت قریش کے تمام نام ور جنگ جُو سپہ سالار، اہم سردار، رؤسائے شہر واصلِ جہنم ہوگئے۔ اس معرکے میں مشرکینِ مکّہ کے 70افراد قتل اور 70ہی گرفتار ہوئے، جب کہ 14صحابہؓ شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے۔ 2ہجری کو رمضان کے روزے فرض اور صدقۂ فطر کا حکم ہوا۔
زکوٰۃ کے نصاب کا تعین کیا گیا۔ رسول اللہﷺ نے عیدگاہ میں پہلی نماز عید کی امامت فرمائی۔ اس سال پہلی عیدالاضحی بھی منائی گئی۔ حضوراکرمﷺ کی صاحب زادی، حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح حضرت علیؓ سےہوا۔ غزوئہ اُحد 7شوال3ہجری کو کوہِ اُحد کے دامن میں ہوئی۔ مشرکین ِمکّہ اپنے سردار، ابو سفیان کی قیادت میں 3ہزار جنگجوؤں اور جدید ترین ہتھیار سے لیس ہوکر مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔
ابتدا میں مجاہدین کی تعداد ایک ہزار تھی، لیکن منافق اعظم عبداللہ بن اُبی اپنے تین سو منافقین کو لے کر میدانِ جنگ سے فرار ہوگیا۔ مجاہدین کی تعداد صرف سات سو رہ گئی۔ اس جنگ میں جبلِ رماۃ پر متعین چند مجاہدین کی غلطی سے مسلمانوں کو شدید جانی نقصان ہوا۔ رسول اللہﷺ کے چچا، حضرت حمزہؓ سمیت 70صحابہؓ شہید ہوئے۔ خود رسول اللہﷺ کے چہرئہ اقدس پر زخم آئے اور دندانِ مبارک شہید ہوئے۔ اس سال وراثت کا حکم نازل ہوا۔
حضرت عمر فاروقؓ کی صاحب زادی، حضرت حفصہؓ سے حضوراکرمﷺ کا نکاح ہوا۔ رسول اللہﷺ نے اپنی صاحب زادی، حضرت امِّ کلثومؓ کا نکاح حضرت عثمانؓ سے کیا۔ ان سے پہلے حضوراکرمﷺ کی صاحب زادی حضرت رقیّہ، حضرت عثمانؓ کے نکاح میں تھیں۔ بدر والے دن ان کا انتقال ہوا تھا۔ غزوئہ احزاب (جنگِ خندق) ذی قعدہ5ہجری میں ہوئی۔ اس جنگ میں ابو سفیان نے عرب کے تمام قبائل سے 10ہزار ماہر جنگجوئوں کو جمع کیا اور مدینے پر چڑھائی کردی۔
رسول اللہﷺ نے حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے پر مدینہ کے گرد ساڑھے تین میل لمبی، پانچ گز چوڑی اور پانچ گز گہری خندق کھدوائی۔ رسول اللہﷺ اور تین ہزار صحابہؓ نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر شب و روز محنت کرکے یہ عظیم کام کیا۔ مشرکین نے ایک ماہ تک مدینے کا محاصرہ جاری رکھا، لیکن خندق پار نہ کرسکے۔ آخرکار، اللہ کی نصرت آئی۔
مشرکینِ مکہ اور ان کے حلیف قبیلوں پر ایک شدید اور سرد طوفانی آندھی مسلّط کردی گئی، جس سے اُن کے خیمے اکھڑگئے، ہانڈیاں الٹ گئیں،جس سے ان کے حوصلے ایسے پست ہوئے کہ وہ محاصرہ ختم کر کے میدانِ جنگ سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
5 ہجری میں پردے کا حُکم نازل ہوا۔ رسول اللہﷺ نے حضرت زینبؓ بنتِ جحش سے نکاح فرمایا۔صلحِ حدیبیہ اور بیعتِ رضوان ذی قعدہ6ہجری کو ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو فتح ِمبین سے تعبیر فرمایا اور پھر یہ صلح ہی فتحِ مکّہ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ اسی سال رسول اللہﷺ نے رؤسائے عرب اور بیرونی ممالک کے بادشاہوں کو خطوط لکھے۔ اسی سال رسول اللہ ﷺ نے حضرت ماریہؓ قبطیہ کو مسلمان کرکے اُن سے نکاح فرمایا اور اُن ہی کے بطن سے آپؐ کے صاحب زادے، حضرت ابراہیمؓ پیدا ہوئے۔
فتحِ خیبر محرم، 7ہجری میں ہوئی۔’’ خیبر‘‘ مدینہ کے شمال میں150کلو میٹر کے فاصلے پریہودیوں کی آبادی اور مضبوط ترین فوجی چھائونی تھی، جس کے قلعے ناقابلِ تسخیر تھے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ خیبر کی فتح کا سہرا سیّدنا علی مرتضیٰؓ کے سر رہا۔ جنگی قیدیوں میں یہودیوں کے سردار اور مذہبی رہنما حئی بن اخطب کی صاحب زادی، حضرت صفیہؓ بھی تھیں، آپؐ نے اُنہیں آزاد کردیا تھا، لیکن اُن کے قبیلے کے تمام افراد مارے جاچُکے تھے، چناں چہ اُنہوں نے واپس جانے کے بجائے اسلام قبول کرکے مسلمانوں کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور پھر صحابہؓ کے مشورے پر آپﷺ نے اُن سے نکاح فرمالیا۔ عمرہ قضا ادا کرنے کے لیے رسول اللہﷺ 2ہزار صحابہؓ کے ساتھ مکّہ مکرّمہ پہنچے اور تین دن وہاں قیام فرمایا۔
اِسی دوران آپﷺ نے اپنے چچا، حضرت عباسؓ کی درخواست پر حضرت میمونہؓ سے نکاح فرمایا۔ مکّے سے باہر ’’سرف‘‘ کے مقام پر دعوتِ ولیمہ دی۔ حضرت میمونہؓ آپؐ کی آخری زوجہ محترمہ تھیں، اُن کا انتقال51ہجری میں80سال کی عُمر میں ’’سرف‘‘ ہی میں ہوا۔ (بخاری 4258)۔ غزوئہ موتہ، جمادی الاول 8ہجری کو ہوا۔ اس جنگ میں قیصر ِروم، ایک لاکھ آہن پوش اور ایک لاکھ قبائلی فوجیوں کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہوا۔
گھمسان کی اس جنگ میں سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہؓ شہید ہوئے۔ حضرت جعفرؓ نے علَم اٹھالیا، وہ بھی شہید ہوگئے، پھر حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے علَم بند کیا، وہ بھی شہادت کا رُتبہ پاگئے، تو مجاہدین نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو امیر چُن لیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے دشمن کی صفوں میں داخل ہوکر لاشوں کے ڈھیر لگا دیے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ خود فرماتے ہیں کہ ’’جنگ موتہ والے دن میرے ہاتھ میں 9تلواریں ٹوٹیں، حتیٰ کہ میرے پاس محض ایک چھوٹی سی تلوار رہ گئی۔ ‘‘ (صحیح بخاری، 4265)
اس غزوہ میں دو لاکھ رومیوں کے مقابلے میں اللہ نے تین ہزار مجاہدین کو فتح عطا فرمائی۔ چناں چہ معرکے سے واپسی پررسول اللہﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو ’’سیف اللہ‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ یہی وہ عظیم فیصلہ کُن معرکہ ہے، جس نے اسلامی ریاست کی سرحدوں کو شام تک پھیلا دیا اور رومی سلطنت کی ناقابلِ تسخیر سمجھی جانے والی طاقت کا طلسم توڑ کر دنیا میں اللہ کی حاکمیت اور توحید کا پرچم بلند کرنے کی راہ ہم وار کی۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنی زندگی میں تین سو سے زیادہ جنگوں میں لگا تار کام یابیاں حاصل کیں۔ یہاں تک کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین طویل مدّت تک اُن کے نام سے لرزہ براندام رہے۔ (تاریخ ابن کثیر، 201/4)۔20رمضان المبارک8ہجری کوواقعۂ فتح مکّہ ہوا۔
رسول اللہﷺ 10 ہزار سے زیادہ صحابہؓ کے ساتھ مکّے میں داخل ہوئے۔ بیت اللہ کا طواف فرمایا۔ آپؐ کے ہاتھ میں کمان تھی، جس کے اشارے سے بیت اللہ شریف کے آس پاس اور چھت پر موجود360بُتوں کو گرایا۔ کعبے کے اندر نوافل ادا فرمائے۔
کعبے کے دروازے پر کھڑے ہوکر مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے عام معافی کا اعلان کیا۔کعبے کی کنجی، حضرت عثمان بن بن طلحہؓ کے حوالے کی۔ نماز کا وقت تھا، حضرت بلالؓ نے کعبے کی چھت پر چڑھ کر اذان دی۔ ہزاروں اہلِ ایمان نے آپؐ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔
رسول اللہﷺ نے 19روز تک مکّے میں قیام فرمایا۔ شوال،8ہجری میں غزوئوہ حنین ہوا۔ رسول اللہﷺ 12ہزار مجاہدین کے ساتھ وادئ حنین کی جانب روانہ ہوئے۔ حنین کی جنگ میں کفّار کے چھے ہزار افراد کو قیدی بنایا گیا تھا، جن میں آپؐ کی رضاعی بہن شیما بنتِ حارث بھی تھیں، اپنی بہن کی محبت میں آپؐ نے تمام قیدیوں کو رہا کردیا اور تمام مالِ غنیمت بھی واپس کردیا۔
غزوئہ حنین سے فارغ ہوکر آپؐ نے طائف کا رُخ فرمایا۔ طائف کی فتح کے بعد آپؐ واپس مکّہ مکرّمہ تشریف لے آئے۔ فتحِ مکہ کے بعد اہم غزوات، قبائلی معاملات اور مکّے کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل میںتقریباً 2ماہ اور 16دن صرف ہوئے، جس کے بعد24ذی قعدہ، 8ہجری کو حضور نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ آپؐ کی غیر موجودگی میں حضرت ابو رہم غفاریؓ مدینے کے گورنر تھے۔ (تاریخ امتِ مسلمہ، 357/1)۔
حضرت محمد ﷺ نے فتحِ مکّہ کے موقعے پر جب نوعمر صحابی، حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکّہ مکرّمہ کا پہلا گورنر مقرر فرمایا، تو اُن کی عُمر اُس وقت تقریباً 20سے 22سال کے درمیان تھی، لیکن صرف25سال کی عُمر میں اُن کا انتقال ہوگیا۔ (تاریخ ابنِ خلدون، 466/2)۔ حضرت ابراہیمؓ، حضوراکرم ٰﷺ کی آخری اولاد تھے۔ وہ8ہجری کو حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے، لیکن صرف ڈیڑھ سال کی عُمر میں اُن کا انتقال ہوگیا۔ رسول اللہﷺ کو اُن سے بڑی محبّت اور قلبی لگائو تھا۔
رجب،ہجری کو غزوئہ تبوک ہوئی۔ جنگِ موتہ کے بعد رومی سلطنت نے مدینہ منورہ پر حملے کا منصوبہ بنایا، جس کی سرکوبی کے لیے رسول اللہﷺ بنفسِ نفیس 30ہزار مجاہدین کے ساتھ مدینے سے روانہ ہوئے۔ تبوک، مدینے سے623کلو میٹر کے فاصلے پر مدینہ اور دمشق کی درمیان واقع ہے، یہاں رومیوں کی حکومت تھی، جو روئے زمین پر دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت تھی۔ 8ہجری میں بھی ان لوگوں سے ایک خوں ریز جنگ ہوئی۔ رسول اللہﷺ نے تبوک میں 20دن تک قیام فرمایا، لیکن رومیوں کو مقابلے کی ہمّت نہ ہوئی۔ قیصرِ روم، ہر قل، رسول اللہﷺ کی آمد کا سُن کر میدانِ جنگ سے فرار ہوگیا۔
وادئ قباء میں منافقین کی ایک مسجد،مسجدِ ضرار تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سورئہ توبہ میںرسول اللہﷺ کو اس مسجد کی حقیقت سے آگاہ فرما دیا تھا، چناں چہ غزوئہ تبوک سے واپسی پر آپؐ نےاس مسجد کو زمیں بوس کرکے آگ لگانے کا حکم جاری فرمایا۔ پندرہ سو برس گزرجانے کے باوجود آج بھی یہ جگہ مسجد قباء سے کچھ فاصلے پر خالی اور ویران پڑی ہے۔’’حجتہ الوداع‘‘ بعثت کے بعد رسول اللہﷺ کی زندگی کا پہلا اور آخری حج تھا۔
حج کے اس سفر میں ازواجِ مطہراتؓ کے علاوہ آپؐ کے ساتھ ایک لاکھ چوبیس ہزار جانثارانِ مصطفیٰ ؐکا ایک قافلۂ عظیم شامل تھا۔9ذی الحجہ کو آپؐ نے میدانِ عرفات میں حج کا خطبہ دیا، جس کی تاریخ میں بڑی اہمیت ہے کہ یہ مسلمانوں کے لیے بہترین اصولوں پر مبنی ایک دستورِ عمل ہے۔ حج سے واپس آنے کے بعد رسول اللہﷺ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کی قیادت میں مجاہدین کے ایک بڑے لشکر کو رومیوں سے مقابلے کے لیے روانہ کیا۔
سرورِ کونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، رفیقِ اعلیٰ کی جانب
دعوتِ دین کا کام مکمل ہوچکا تھا، اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچ چکا تھا، اب ربّ کے حضور پیش ہونے کا وقت تھا۔ 29صفر 11ہجری کو مرض ِوفات کا آغاز ہوا، مرض کی شدّت کے سبب وفات سے سات دن قبل تمام ازواجؓکی اجازت سے حضرت عائشہؓ کے حجرے میں منتقل ہوگئے اور وفات تک اسی حجرے میں قیام فرمایا۔ (صحیح بخاری، 198)۔
وفات سے چار دن پہلے یعنی جمعرات کو آپؐ نے چار نمازوں کی امامت فرمائی۔ مغرب کی نماز میں سورۃ المرسلات عرفا کی تلاوت کی۔ رحلت سے پہلے یہ آخری نماز کی امامت تھی۔ پھر آپؐ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کونماز پڑھانے کا حکم فرمایا۔
وفات والے دن فجر کے وقت حجرئہ مبارک کا پردہ اٹھاکر دیکھا، لوگ نماز میں مشغول تھے۔ آپؐ نے تبسّم فرمایا۔ حضرت فاطمہؓ کو بلایا، اُن سے کچھ سرگوشی کی۔ حضرت حسنؓ و حسینؓ کو بلاکر پیار کیا، بوسہ لیا، تمام ازواج مطہراتؓ کو بلاکر وعظ و نصیحت فرمائی۔
حضرت عائشہ سے مسواک لے کر مسواک کی، پھر انگلی اٹھائی۔نگاہ چھت کی طرف بلند کی اور دونوں لب مبارک میں کچھ حرکت ہوئی۔ سیّدہ عائشہ صدیقہؓ نے جلدی سے ہونٹوں پر کان لگایا، تو محسن ِانسانیت، رحمۃ للعالمین، حضرت محمد ﷺ فرما رہے تھے۔ ’’اے اللہ! ان انبیاء، صدیقین، شہدا اور صالحین کے ساتھ جنہیں تُونے انعام و اکرام سے نوازا، مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیقِ اعلیٰ (سب سے بلند ساتھی یعنی اللہ کے قُرب) تک پہنچا دے۔‘‘ (صحیح بخاری، حدیث 4440.4449)
آپؐ نے آخری فقرہ تین بار دہرایا۔ (صحیح بخاری، 4438) اور اسی وقت ہاتھ مبارک جھک گیا… اور روحِ پاک عالمِ قدس میں رفیق اعلیٰ کے حضور محوِ پرواز ہوگئی۔ یہ سانحۂ عظیم 12 ربیع الاول، 11ہجری بروز پیر پیش آیا۔ اُس وقت آپ کی عُمر مبارک63برس 4دن تھی۔
تجہیز و تکفین
رسول اللہﷺ کے جسمِ اطہر کو کپڑے اتارے بغیر بئرغرس کے سات کنووں سے غسل دیا گیا۔ یہ خدمت ِخاص وصیت کے مطابق عزیزو اقارب نے انجام دی، جن میں حضرت عباسؓ، حضرت علیؓ، حضرت عباسؓ کے دو صاحب زادے حضرت فضل ؓ اورحضرت قثمؓ اور رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت شقرانؓ اور حضرت اسامہ بن زیدؓ شامل تھے۔ انصار کے اصرار پر حضرت علیؓ نے بدری صحابی، حضرت اوسؓ بن خولی انصاری کو بھی شامل کرلیا تھا۔
اس کے بعد آپ ؐ کو تین سفید یمنی چادروں میں کفنایا گیا، ان میں کُرتا اور عمامہ نہ تھا۔ حضرت ابو طلحہؓ نے جسمِ اطہر کی جگہ پر بغلی قبر تیار کی۔ آپؐ کی نمازِ جنازہ باقاعدہ کسی ایک امام کے پیچھے نہیں پڑھی گئی۔ صحابہ کرامؓ بغیر کسی امام کے ٹولیوں کی شکل میں باری باری اندر داخل ہو کر ٹولیوں میں حجرے میں داخل ہوتے اور نماز جنازہ پڑھ لیتے۔
منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو نصف شب کے قریب تدفین ہوئی۔ آپؐ کو قبرِ اطہر میں اُتارنے والے لوگوں میں حضرت علیؓ، فضل بن عباسؓ، قثم بن عباسؓ اور حضرت شقرانؓ شامل تھے۔ (سیرت، سرور عالم ؐ 360/3)۔
سرکارِدوجہاں ﷺ کی ایک جھلک
صفات ِشمائل و خصائل: رسولﷺ کی ذاتِ بابرکات عالی صفات، تمام اخلاق و خصائل، صفات و جمال میں اعلیٰ و اشرف واقویٰ ہے۔ ان تمام کمالات و محاسن کا احاطہ اور اُنھیں بیان کرنا انسانی قدرت و طاقت سے باہر ہے، کیوں کہ وہ تمام صفات، شمائل و کمالات، جن کا تصوّر ممکن ہوسکتا ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبیؐ کو عطا فرمادیئے تھے۔
’’لقدکان لکم فی رسول اللہ اسوئہ حسنہ‘‘ (سورئہ احزاب) ’’یقیناً تم لوگوں کے لیےرسول اللہﷺ (ذات اقدس) میں ایک عمدہ اور بہترین نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ ویسے تو قرآن کا یہ فرمان حُکمِ عام ہے، لیکن مسلمانوں کے لیے آپﷺ کی اقتداء لازم و ملزوم ہے، چاہے اس کا تعلق عبادت سے ہویا معاشرت، معیشت، سیاست، غرض زندگی کے ہر شعبے میں آپؐ کی ہدایات واجب الاتّباع اور جنّت کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔ (جاری ہے)