• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہجرت محض ایک سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ نقل مکانی انسان کی زندگی میں ایک نفسیاتی، سماجی اور جذباتی بُحران پیدا کردیتی ہے۔ منزل کے حصول کے باوجود بھی اضطراب ختم ہونے کا نام نہیں لیتا بلکہ یہ اندر ہی اندر انسان کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ جیت کر بھی سب کچھ ہار گیا۔

لہٰذا ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہجرت کے نفسیاتی پہلوئوں اور گہرے اثرات کو سمجھا جائےتاکہ مہاجرین اور پناہ گزین افراد کو درپیش جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی مسائل کا بروقت ادراک کر کے اُن کی مؤثرنفسیاتی معاونت کی جاسکے۔

اس مقصد کے لیے متعدد بین الاقوامی تنظیمیں، عالمی ادارۂ صحت اور اقوام متحدہ جیسے ادارے سرگرمِ عمل ہیں اور انسانی ہم دردی کی بنیاد پر دُنیا بَھر میں موجود مہاجرین کو سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں، جو ایک قابلِ ستائش عمل ہے لیکن دوسری جانب بعض لالچی، جُھوٹے اور مکار لوگ اس صُورتِ حال سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مستحقین کے حق پر ڈاکا ڈالتے ہیں اور تمام تر سہولتیں حاصل کرنے کے بعد اپنے وطن کا رُخ کرتے ہیں، جو کہ صریحاً بددیانتی ہے۔

ہجرت کا فیصلہ دراصل ہر شخص کےحالات، مقاصد، ذمّے داریوں اور شخصیت پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ قدم انتہائی سوچ بچار،غوروفکر اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے بعد اٹھایا جانا چاہیے، وگرنہ ناقابلِ تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں دُنیا کے مختلف ممالک سے کم و بیش ڈیڑھ لاکھ مہاجرین کینیڈا پہنچے اور اُن میں سے تقریباً چھیاسی ہزار افراد ترکِ سکونت کرکے اپنے وطن واپس آگئے۔

یاد رہے، پردیس میں طویل عرصے تک رہائش اختیار کرنے کے لیے صبروتحمّل، مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ خُود ہمیں بھی اس بات کا اچّھی طرح اندازہ ہے، کیوں کہ ہر بار بیرونِ مُلک روانگی کے وقت ہماری آنکھوں سے بےاختیار آنسو رواں ہوجاتے ہیں، دِل میں ایک ہُوک سی اُٹھتی ہے۔ گھر سے روانہ ہوتے وقت درو دیوار کو غور سے دیکھتے ہیں اور پھر نہایت بوجھل دِل کے ساتھ تیزی سے باہر نکل جاتے ہیں، تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے جذبات ہم سے یک سر مختلف ہوں۔

بہرکیف، ہمیشہ قانونی طریقے سے ہجرت کریں اور کسی بھی صُورت قانون ہاتھ میں نہ لیں۔ کبھی بھی ہیومن ٹریفکنگ مافیا اور ایجینٹس کے جھانسے میں نہ آئیں۔ علاوہ ازیں،بعض افراد مذہب کے لبادے میں بھی لُوٹ مارکرتے ہیں، اُن سے بھی ہوش یار رہیں۔ متعلقہ مُلک کے سفارت خانے سے خُود رابطہ کریں اور اُنہیں کبھی بھی غلط اور گم راہ کُن معلومات نہ دیں، نیز اپنا وطن چھوڑنے سے قبل اپنے خاندان، عزیزواقارب سے دُوری اور تنہائی کے اثرات کو بھی مدِنظر رکھیں اور ہمیشہ اللہ پر توکّل کریں۔

یاد رہے، ہجرت آسان نہیں ہوتی۔ جو راحت اورخوشی کھجورکا درخت عرب کے صحرا میں محسوس کرتا ہے، وہ اُسے کینیڈا میں نہیں مل سکتی۔ پنجاب کےگرم میدانی علاقوں میں آم کو جو فضا دست یاب ہے، وہ لندن میں نہیں اور بالکل یہی کیفیت انسان کی بھی ہوتی ہے۔ بعض افراد بیرونِ مُلک سکونت اختیار کرنے کے بعد اس قدر ترقّی کرتے ہیں کہ اپنے وطن میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، لیکن ہم یہ بُھول جاتےہیں کہ ہجرت وطن، والدین، بہن بھائی، عزیز و اقارب اور دوستوں سے دُور کردیتی ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات وفات کی صُورت میں ہم اپنے پیاروں کا منہ تک نہیں دیکھ پاتے۔

علاوہ ازیں، پردیس میں نئی زبان اور ثقافت سے ہم آہنگ ہونے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں، جب کہ تنہائی، ذہنی دبائو، گھر کی یاد، نسلی تعصّب، امیگریشن کے مسائل اور مالی اخراجات سمیت دیگر مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ پھر چند برس گزرنے کے بعد، بالخصوص آپ کی نئی نسل اپنی شناخت کھو دیتی ہے۔ 

درحقیقت، ہجرت آپ سے حقیقی آزادی اور ثقافتی شناخت چھین لیتی ہے۔ آپ کے بچّوں کو آپ سے وہ جذباتی لگائو نہیں رہتا، جو آپ کواپنے والدین سے تھا اورآپ جھنگ اور چنیوٹ کی مقامی زبان کے الفاظ، ’’پناہیں‘‘ یا ’’ٹچری‘‘ کی عملی تصویر بن کر بالکل بے بس ہوجاتے ہیں۔

واضح رہے، امریکا، کینیڈا اور یورپ جیسے ترقّی یافتہ ممالک میں پیسے درختوں پر نہیں لگتے، وہاں پیسا کمانے کےلیے سخت محنت کرنا پڑتی ہے، ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ ان ممالک میں فی گھنٹا کام کا معاوضہ اچّھا مل جاتا ہے اور ٹیکس ادا کرنے کے بعد بھی اتنی آمدن ہو جاتی ہے کہ اچّھی گزر بسر ہو سکے۔

چوں کہ پردیسیوں کے وہاں جانے کا مقصد ہی پیسا کمانا ہوتا ہے، اس لیے وہ بیک وقت تین تین نوکریاں کرتے ہیں اور خُوب دولت کماتے ہیں، جس سے اُن کا اپنا گزارہ بھی اچّھے طریقے سے ہوجاتا ہےاور وہ آبائی وطنوں میں موجود اپنے عزیز و اقارب کو بھی ہرماہ معقول رقم بھیجتے رہتے ہیں۔

درحقیقت، مغربی ممالک کی معیشت کی بنیاد کنویومرازم ہے، جس کے نتیجے میں وہاں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، صنعتی ترقّی ہوتی ہے، شہریوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے اور حکومت کو ٹیکس کی صُورت زیادہ آمدنی حاصل ہوتی ہے، لیکن اگ کسی وجہ سے لوگ خریداری کم کردیں، تو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور بے روزگاری بڑھ جائے گی۔ اس لیے ان ممالک میں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ خریداری کرنے اور خدمات حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

کنزیومرازم کی حوصلہ افزائی کے لیے شہریوں کو کریڈٹ کارڈز کی سہولت دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ اچّھی خاصی رقم کمانے کے باوجود بھی بچت نہیں کرپاتے۔ یاد رہے، مذکورہ بالا ممالک میں لوگوں کے پاس گھر، گاڑیوں اور موبائل فونزسمیت سب کچھ ہے، لیکن وہ ان تمام چیزوں کے مالک نہیں۔

ہر ماہ اُن کی تن خواہوں کا بیش ترحصّہ اقساط کی ادائی ہی میں خرچ ہوجاتا ہے، جب کہ ہیلتھ انشورنس، ہوم انشورنس سمیت دیگر مصارف اس کے علاوہ ہیں اور اگر کوئی شخص اپنا گھر خرید بھی لے، تو اُس پر بھی اُسے بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، جب کہ گھر کی قیمت زیادہ ہونے کی صُورت میں ٹیکس بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ یعنی مالکِ مکان ہونے کے باوجود بھی پراپرٹی ٹیکس کی شکل میں حکومت کو کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

ہمارے خیال میں تو ہمیں ہجرت کے ضمن میں فطرت سے سبق سیکھنا چاہیے۔ آج بھی پرندوں کی بہت سی اقسام اور مچھلیاں وغیرہ موسمی شدّت کے باعث دُنیا کے مختلف علاقوں کا رُخ کرتی ہیں لیکن موسم بہتر ہوتے ہی اپنے علاقوں میں واپس آجاتی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات و واقعات اور ماحول ہمیشہ یک ساں نہیں رہتے اور سازگار ہونے پر اپنے وطن کا رُخ کرلینا چاہیے۔

یہی مناسب طریقہ اور یہی فطرت کا پیغام ہے اور پھر ایسی دولت اور غیر مُلکی شہریت کا کیا فائدہ کہ جو آپ سے آزادی، ذہنی صحت اور پہچان ہی چھین لے اور آپ کے بچّے بھی آپ کےنہ رہیں۔ وہکیا ہے کہ بھاڑمیں جائے، ایسا سونا جو کانوں کو کھائے۔ بقول حبیب جالب ؎ گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے، یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو۔

سنڈے میگزین سے مزید