شہرِ قائد میں ترقیاتی کاموں کا ذمّےدار اہم ادارہ، کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) ایک طویل عرصے سے شدید مالی بُحران سے دوچار ہے۔ حکومتِ سندھ اس ادارے کو ہر ماہ تقریباً 40 کروڑ روپے کی گرانٹ دیتی ہے، جس سےبمشکل عملے کی تن خواہیں اور پینشن ادا کی جاتی ہے، جب کہ مالی وسائل نہ ہونے کے سبب تقریباً 5 سال قبل ریٹائر ہونے والے افسران و ملازمین کے واجبات تک ادا نہیں کیے جاسکے اور وہ اپنی بچیوں کی شادی بیاہ اور دیگر ضروری امور کی عدم تکمیل کےسبب انتہائی پریشان حال ہیں۔
یاد رہے، کے ڈی اے کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ شہریوں کے لیے نئی رہائشی اسکیمز کی پلاننگ اور ان میں ترقّیاتی کام کرکے پلاٹس کی فروخت تھی، لیکن ملیراور لیاری ڈیویلپمنٹ اتھارٹیز کے وجود میں آنے کے بعد کے ڈی اے کے پاس کوئی ایسی اراضی موجود نہیں کہ جس کے ذریعے وہ اپنی آمدن میں اضافہ کرسکے اور اس وقت کے ڈی اے کی آمدنی کا محدود ذریعہ پراپرٹی ٹرانسفر، میوٹیشن، لیز اور دیگر سروسز چارجز وغیرہ ہیں، جن سے اخراجات تک پورے نہیں کیے جاسکتے۔ کے ڈی اے کی اس ابتر صُوررتِ حال کی متعدّد وجوہ ہیں۔
زیرِ نظر مضمون میں کے ڈی اے کو مالی بُحران سے نکالنے اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے ضمن میں چند تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔ مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو کے ڈی اے کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے پڑیں گے اور نہ ہی اس ادارے پر مزید رقم خرچ کرنا پڑے گی، جب کہ اس کے برعکس حکومتِ سندھ کو مستقل آمدنی ہوتی رہے گی، جس سے نہ صرف متعدد ترقّیاتی کام ہوسکیں گے بلکہ عملے کی تن خواہ کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔
عصرِحاضر میں دُنیا بَھر میں ساحل کے سامنے ہاؤسنگ اسکیمز بنانےکا رُجحان عام ہے اور دل کَش لوکیشن کی وجہ سے یہ پلاٹس انتہائی منہگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں متعدد ممالک میں ساحلی علاقوں میں سمندری پانی میں ریت وغیرہ بَھر کر ( Reclamation of Land) کی گئی اور اس قابلِ استعمال بنائی گئی اراضی پر ترقّیاتی کام کرکے وہاں انتہائی منہگی اور پُرتعیّش ہاؤسنگ اسکیمز اور تفریحی مقامات تعمیر کیے گئے، جس سے نہ صرف ان ممالک کو اربوں ڈالرز کا فائدہ ہوا بلکہ اب سیّاحت کی وجہ سے اُنہیں مستقل آمدنی بھی ہورہی ہے۔
ساحلی علاقے سے فائدہ اُٹھانے کی تازہ ترین اور بہترین مثال دُبئی کا مشہورِ زمانہ میگا پراجیکٹ، ’’پام جمیرہ‘‘ ہے، جہاں مقامی حکومت نے نہایت شان دار اور پُرتعیّش ہاؤسنگ اسکیم اور تفریح گاہیں بنائی ہیں، جس میں 2000 سے زیادہ لگژری وِلاز، ہزاروں اپارٹمنٹس، کم و بیش 30 شان دار ہوٹلز اور متعدد ریزورٹس شامل ہیں۔
یہاں دُبئی کی حکومت کی جانب سے اعلیٰ درجے کی جدید سہولتیں فراہم کرنےکی وجہ سے دُنیا بَھر کے امیر ترین افراد اور سرمایہ داروں نے پراپرٹی خرید کر سرمایہ کاری کی، جس سے دُبئی حکومت کو نہ صرف اربوں ڈالرزکی آمدنی ہوئی بلکہ کثیر زرِ مبادلہ بھی حاصل ہوا۔
مذکورہ منصوبہ 2001ء میں شروع کیا گیا اور صرف 5 سال کے عرصے میں یعنی2006ء میں جائیدادوں کے قبضے دینے شروع کردیے گئے تھے۔ اس پراجیکٹ کا ماسٹر پلان ایک امریکی کمپنی، Helman Hurley Charvet Peacock نے تیار کیا تھا، جب کہ ہالینڈ کی کمپنیز، Van Oord اور Jan De Nul نے سمندری زمین کو قابلِ استعمال بنایا۔ واضح رہے،متحدہ عرب امارات نے قیامِ پاکستان کے 24 سال بعد یعنی 1971ء میں برطانیہ سےآزادی حاصل کی۔
اگر پاکستان کی بات کی جائے، تو ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) نے کراچی میں ری کلیمیشن کے ذریعے ڈیفینس میں تقریباً 200 رہائشی اور کمرشل پلاٹس تیارکرکے فروخت کیے۔ علاوہ ازیں، کراچی ہی کے ساحل پر دُبئی کی کمپنی، ’’EMAAR‘‘ ایک ہاؤسنگ اسکیم ’’کریسنٹ بے‘‘ کے نام سے تعمیر کررہی ہے، جس میں تقریباً 4ہزار اوشین فرنٹ کثیرالمنزلہ لگژری اپارٹمنٹس شامل ہیں، جن کی قیمت ساڑھے پانچ کروڑ سے 25 کروڑ تک ہے اور صرف اس ایک پراجیکٹ کی مدد سے اس کمپنی نے ہمارے سمندر کی بحال شُدہ زمین سے اربوں ڈالرز کا فائدہ اٹھایا ہے۔
مندرجہ بالا مثالوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ وہ ’’ری کلیمیشن‘‘ کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اپنی اسکیم کلفٹن کے بلاک نمبر 1 سے 4 تک سے، جو نہ صرف بحیرۂ عرب کے ساحلی علاقے میں واقع ہے بلکہ کے ڈی اے کے کنٹرول میں بھی ہے، بھرپور استفادہ کرے۔ الحمدُللہ، ہمارے مُلک میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں۔ اگر ہم خلوصِ نیّت اور محنت سے کام کریں، تو عوام اور حکومت کی بہتری کے لیے بہت سی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے فنڈز کی ضرورت نہیں۔
مندرجہ بالا علاقے کو ری کلیم کر کے ایک شان دار رہائشی اور تفریحی اسکیم بنانے کے لیےکے ڈی اے حکومتِ سندھ کے تعاون سے ماہر بین الاقوامی کمپنیوں سے B.O.T( Built- Operate- Transfer) کی بنیاد پر ٹینڈرطلب کرے اور اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ جیسا کہ اُوپر بیان کیا جا چُکا ہے کہ بی او ٹی کی بنیاد پرکے ڈی اے کو مزید فنڈز کی ضرورت نہیں ہوگی، کیوں کہ دُنیا میں بہت سے اداروں نے اِسی طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے متعدد تعمیراتی منصوبے اپنے فنڈز سے مکمل کیے۔
بی او ٹی کے معاہدے میں یہ شرط بھی شامل کی جاتی ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد کمپنی اس کے ٹرانسفر ہونے تک آمدنی کا ایک خاص طے شدہ حصّہ حکومت یا متعلقہ ادارے کو دیتی رہے گی اور معاہدے کی مدّت ختم ہونے کے بعد پورا پراجیکٹ حکومت کےحوالے کردیا جائے گا۔ لہٰذا، کے ڈی اے اور حکومتِ سندھ کو پراجیکٹ مکمل طور پر ٹرانسفر ہونے تک بغیر کچھ خرچ کیے مالی فائدہ ہوتا رہے گا۔
دُنیابَھر میں متعدد تعمیراتی منصوبے بی او ٹی کی بنیاد پر مکمل کیے گئے اور ان میں سرمایہ کاری بھی تعمیراتی کمپنیز ہی نے کی۔ اس ضمن میں بنکاک ماس ٹرانزٹ سسٹم (تھائی لینڈ)، نارتھ ساؤتھ ایکسپریس وے (ملائیشیا)، ممبئی پونا ایکسپریس وے ( بھارت) ، پاور پلانٹ ڈیویلپمینٹس (فلپائن)، ہاربر کراس ٹنل (ہانگ کانگ) اورحب ریور پاور پلانٹ (پاکستان) قابلِ ذکر ہیں۔
مندرجہ بالا تعمیراتی منصوبوں میں اکثر کمپنیز نے فنڈز کا خود بندوبست کیا اور تکمیل کے بعد اپنی خرچ کی گئی رقم ٹیکس، کرائے اور یوٹیلٹی چارجز وغیرہ کے ذریعے وصول کی اور باہمی معاہدے کے تحت پراجیکٹ حکومت کو ٹرانسفر ہونے تک منافعے سے طے شدہ حصّہ حکومت یا متعلقہ ادارے کو ادا کیا۔
لہٰذا، حکومتِ سندھ سے ہماری درخواست ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ری کلیمیشن کی ماہر کمپنیز سے ٹینڈر طلب کرکے اس جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اُٹھائے تاکہ نہ صرف کے ڈی اے کے مالی بُحران پر قابو پایا جائے بلکہ شہر میں ترقّیاتی کام بھی بآسانی سرانجام دیے جاسکیں۔ ہمیں یقین ہے کہ مذکورہ بالا تجاویز پر عمل درآمد سےصوبے میں سیّاحت کو بھی فروغ ملے گا، جس سے عوام بھی خوش حال ہوں گے۔ (مضمون نگار، سابق ڈائریکٹر کے۔ ڈی۔ اے ہیں)