مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
پاکستان 79برس کا ہو چکا ہے۔ اور 14اگست محض ایک تاریخ یا دن نہیں، بلکہ اُس خواب کی سنہری تعبیر ہے، جس کے لیے لاکھوں جانوں نے ہجرت کا جوکھم اُٹھایا۔ قیامِ پاکستان سے قبل ہندوستان کے ضلع ہوشیار پور میں مقیم میرے پڑنانا، میاں برکت علی، جسے ایک عارضی ہجرت سمجھ کر نکلے تھے، وہ ایک مستقل وطن کی بنیاد بن گئی۔ سو، پاکستان کا تصوّر محض ایک دن کی تقریبات یا علامات تک محدود نہیں۔
یہ دن ہمیں ہر برس یاد دلاتا ہے کہ لاکھوں انسانوں نے اسی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر ڈالا تھا۔ تقسیم کے وقت لدھیانہ اور ہوشیار پور سمیت پورے پنجاب کے مسلمانوں نے سخت کرب والَم خوف کا سامنا کیا۔ ابتداً لوگ سمجھ رہے تھے فسادات عارضی ہیں، حالات ٹھیک ہونے پر وہ گھروں کو واپس آجائیں گے۔ کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ سفر واپسی کا نہیں، بلکہ ایک طویل اور دائمی ہجرت کا ہے۔ بزرگوں کے سینوں میں دفن وہ کہانیاں جب لبوں پر آتی ہیں، تو تاریخ کا ہر ورق لہو سے تر محسوس ہوتا ہے۔
میرے پڑنانا، میاں برکت علی کا قافلہ، جو ہنستے بستے آنگنوں، لہلہاتے کھیتوں اور اپنی دھرتی کی مٹّی سے جُڑا تھا، یوں لگا، اچانک آندھی کی زد میں آگیا۔ کاروبار، گھر بار اور صدیوں پرانی جڑیں چھوڑ کر جب وہ بیل گاڑی پر سوار ہوئے، تو اُن کی آنکھوں میں خوف نہیں، ایک گہرا سنّاٹا اور بے یقینی کا سمندر تھا۔ اُس کٹھن سفر میں ظلم کے اندھیرے بھی گہرے تھے۔ متعصّب جتھوں نے قدم قدم پر گھات لگائی، خون کی ہولی کھیلی گئی، اور ہر لمحہ موت کا سایا سر پر منڈلاتا رہا۔
یہ ایک کرامت ہی تھی کہ میاں برکت علی کا خاندان جان بچانے میں کام یاب رہا، مگر اس بقا کی بھی ایک بھاری قیمت چکانی پڑی۔ قافلے کے معصوم بچّوں میں سے ایک پھول جیسی بچّی اس سفرِ جانکاہ کی صعوبتیں برداشت نہ کرسکی اور راستے ہی میں مرجھا گئی۔
وہ لوگ کب تک اس پھول سی بچّی کے بے جان جسم کو سفر کا بوجھ بناتے، اور کب تک ان کا ظرف اس بے نام مٹّی پر اُسے تنہا چھوڑنے کی اجازت نہ دیتا، بالآخر بے رحم وقت کی ڈھال نے انہیں توڑ ڈالا، اور تقدیر کے جبر نے انہیں اُس امانت کو اُسی سنسان راہ دفنانے پہ مجبور کردیا۔ آج جب اس کرب کو یاد کرتے ہیں، تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
وہ کیسا قیامت خیز منظر رہا ہوگا، جب ایک معصوم کلی کی لاش چھوڑ کر آگے بڑھنا پڑا ہوگا، جب کہ وہاں نہ رونے کی اجازت تھی اور نہ ہی رُکنے کا وقت۔ یہ صرف ایک خاندان کی ہجرت کی کہانی نہیں، یہ اس اَن مٹ عذاب کی داستان ہے، جس پر آج بھی دل دہل جاتا ہے۔ یوں اپنے جگر کا ٹکڑا وہیں چھوڑ کر یہ اُجڑا کارواں آگے بڑھتا رہا۔
ہجرت کے عذاب جھیلتے ہوئے یہ قافلہ لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے گُلشنِ حیات، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے الہڑ پنڈ جا پہنچا۔ کچھ عرصہ وہاں قیام کیا، مگر یہاں زیرِ زمین پانی کڑوا ہونے کی وجہ سے سارا انحصار نہری پانی پر تھا،جو اکثر بندش کا شکار رہتا۔ سو، پانی کی شدید قلّت کے باعث بالآخر قافلے نے کمالیہ کے ایک گاؤں 740گ۔ ب میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
میرے پڑنانا میاں برکت علی کا مئی 1992ء میں انتقال ہوا، مگر ہجرت کے وقت اپنوں سے بچھڑنے کا غم اُن کے دل میں آخری وقت تک زندہ رہا۔ ہر سال14اگست آتی، تو جہاں پاکستان کے قیام کی خوشی ہوتی، وہیں اُن کے چہرے پر ہجرت کے دکھ اور بچھڑنے والوں کی یاد بھی نمایاں ہو جاتی۔
پاکستان کے لیے اُس نسل نے جس قدر قربانیاں دیں، اُن کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ اُن کے چھوٹے بیٹے، یعنی میرے نانا، اکثر بڑے کرب سے کہا کرتے تھے۔ ’’تم لوگ اس ارضِ پاک کی حُرمت اور قدر سے بے خبر ہو، اس کی قیمت اُن سے پوچھو، جو سب کچھ لُٹا کر، اپنے دیس کی مٹّی کو خیرباد کہہ کر یہاں پہنچے۔‘‘
اس کے برعکس، میری نانی امّاں کا معاملہ الگ تھا۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ہی اُن کے سر سے والد کا سایہ اُٹھ چکا تھا، اور کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ہندوستان ہی میں اُن کی والدہ بھی داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئیں۔ وہ والدین سے بے پناہ محبّت کرتی تھیں، اُن سے والہانہ عقیدت کا یہ عالم تھا کہ اُن کی یادوں، آخری آرام گاہوں، بچپن کی سہیلیوں اور اپنے آنگن کے در و دیوار سے جدا ہونا نہیں چاہتی تھیں، مگر وقت کی بے رحم آندھی اور حالات کے ستم نے انہیں بھی ہجرت کے اس کٹھن سفر پر مجبور کردیا۔ نانی امّاں اکثر کہا کرتی تھیں کہ ’’14اگست کی خوشی اپنی جگہ، مگر یہ دن ہمیں اُن اپنوں کی یاد بھی دلاتا ہے، جن سے ہم ہجرت کے وقت ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے۔‘‘
آزادی کی خوشی کے ساتھ اُن کے دل میں جدائی کا ایک ایسا دُکھ بھی تھا، جو زندگی بھر اُن کے ساتھ رہا۔ آج جب ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں، تو شاید ہمیں ان قربانیوں کا بالکل احساس نہیں ہوتا، جو ہمارے بزرگوں نے اس وطن کے حصول کے لیے دیں۔ کسی نے اپنا گھر چھوڑا، کسی نے زمین، کاروبار اور مال مویشی قربان کیے، کسی نے اپنے پیاروں کو راستے میں کھو دیا اور کسی نے اپنے آبائی وطن، والدین کی قبروں اور عزیزوں سے ہمیشہ کی جدائی برداشت کی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان صرف ایک خطّۂ زمین کا نام نہیں، یہ لاکھوں انسانوں کی قربانیوں، ہجرتوں، جدائیوں اور بے شمار قربانیاں دینے والے بزرگوں کی امانت ہے۔
آزادی کی اصل قدر وہی جان سکتا ہے، جس نے غلامی دیکھی ہو، ہجرت کا دُکھ سہا ہو۔بارگاہِ الٰہی میں ہماری عاجزانہ التجا ہے کہ وہ تحریکِ پاکستان کے تمام پروانوں، جاں باز شہداء اور امتحان کی گھڑیوں میں استقامت کا پیکر بننے والے بزرگوں کی گراں قدر قربانیوں کو شرفِ قبولیت بخشے۔
اُن سب عظیم ہستیوں کے صدقے، جنہوں نے اس چمن کی آب یاری کے لیے اپنا تن، مَن، دھن سب نچھاور کر دیا، آزادی کی سحر دیکھنے کے لیے اپنے لہو کے چراغ جلائے۔ قافلۂ حق میں شامل ہو کر کٹھن راستوں کو آسان بنایا اور اپنی بصیرت اور قربانیوں سے اس ریاست کی بنیادوں کو سنگِ مرمر کی طرح مضبوط کیا، اللہ تعالیٰ! ہمارے اس پیارے وطن کو تا ابد امن کا گہوارہ، سلامتی کا استعارہ بناکر اندرونی و بیرونی فتنوں سے محفوظ و مستحکم اور تاقیامت تروتازہ اور شاداب رکھے۔ آمین، یا ربّ العالمین۔ (ساجد مجید انور، ٹوبہ ٹیک سنگھ)
سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!
اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدو معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔
ایڈیٹر، ’’سنڈے میگزین‘‘
صفحہ ناقابلِ فراموش، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔