محمد سرفراز عالم
تاریک اور گہری سرنگوں کے حبس زدہ سینوں میں، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کوئلہ نکالنے والے پاکستانی کان کن، موت کے دہانے پر زندگی تلاش کرتے ہیں۔ یہ محنت کش اندھیروں کے مسافر ہیں، جن کا ہر دن سسکتی سانسوں اور اَن گنت محرومیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
زمین کے سینے میں اترنے والے یہ غریب مزدورکسی بھی قسم کے جدید حفاظتی آلات کے بغیر موت کے منہ میں کام کرتے ہیں کہ کانوں کے اندر نہ صاف ہوا کا انتظام ہوتا ہے اور نہ ہی کسی حادثے کی صُورت میں بروقت طبّی امداد کی کوئی سبیل۔اور پھر دن رات خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود ان کے حصّے میں آنے والی اجرت بھی اتنی کم ہوتی ہے کہ دو وقت کی روٹی بھی پوری نہیں ہوتی۔زہریلی گیسز اور کوئلے کی گرد سے اُن کے پھیپھڑے چھلنی ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ جوانی ہی میں لاعلاج بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کی معدنی دولت کے کھربوں روپے کے دعووں اور اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے پس منظر میں انسانی جانوں کی بے قدری ایک تلخ حقیقت ہے۔ معاشی ترقی اور روزگار کے بڑے دعوے ان کان کنوں کی زندگیوں کا احاطہ کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں، جو انتہائی خطرناک حالات میں زمین کے سینے سے یہ وسائل نکالتے ہیں۔
درحقیقت ان دعوووں کے پیچھے ایک ایسی تلخ حقیقت پنہاں ہے، جسے ہم عموماً نظرانداز کردیتے ہیں کہ زمین سے قیمتی معدنی وسائل نکالنے والے انسانوں کی زندگی انتہائی سستی ہے۔
جیسا کہ بلوچستان کے علاقے، سورینج میں کوئلے کی کان کے حالیہ حادثے میں 34کان کن جاں بحق ہو گئے، جن میں سے 28کا تعلق شانگلہ کے ایک ہی گاؤں پیر آباد سے تھا۔ درجنوں جنازوں کا ایک ساتھ اُٹھنا محض حادثہ نہیں، بلکہ مزدوروں کے تحفّظ اور ریاستی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔سو، اسے محض ایک حادثہ کہنا، زمینی حقائق اور انسانی المیے کی سنگینی کو کم کرنے کے مترادف ہے۔
یہ سانحہ ملکی معیشت کے محرک طبقے اور ریاست کی ذمّے داریوں کا کڑا امتحان ہے۔پیر آباد میں ہونے والے اس حادثے کے حوالے سے جب متاثرہ خاندانوں سے بات کی گئی، تو ایک ہی حقیقت بار بار سامنے آئی۔’’لوگ موت کے لیے کان میں نہیں جاتے، روٹی کے لیے جاتے ہیں۔‘‘ طالبِ علم، سفیان بھی اُن ہی نوجوانوں میں شامل تھا،جوروٹی کی تلاش میں کان میں اُترا اور زندگی کی بازی ہار گیا۔سفیان نے میٹرک کا امتحان پاس کر رکھا تھا اور فرسٹ ایئر میں داخلہ لینے کا خواہاں تھا۔
تعلیم جاری رکھنے اور داخلے کی فیس کے لیے ہزاروں فٹ گہری کوئلہ کان میں اترنے سے قبل اُس نے اپنے چچا سے آخری گفتگو میں کہا کہ ’’غربت کے باوجود تعلیم کے لیے پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔‘‘ تاہم، چچا کی جانب سے کان میں جانے سے منع کرنے کے باوجود سفیان نے پیٹ کی آگ اور مستقبل کی خاطر خطرناک فیصلہ کیا۔ حادثے سے اگلے روز سفیان کو کالج جانا تھا، مگر وہ موت کے منہ میں چلا گیا۔یہ اندوہ ناک واقعہ پاکستان میں مستقل بڑھتی ہوئی غربت اور بے روزگاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
واضح رہے کہ پیرآباد میں کوئلے کی کانوں کے حادثات میں 2009ء سے اب تک 124مزدور جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ مسلسل اموات حکومتی بے توجہی، ناقص حفاظتی انتظامات اور ریاستی نگرانی کے نظام کی ناکامی کا شاخسانہ ہیں، جہاں علاقائی پس ماندگی اور غربت کے باعث مزدور جان لیوا خطرات مول لینے پر مجبور ہیں۔
جب کہ بنیادی وجوہ ناقص حفاظتی انتظامات، مزدوروں کے حقوق کا کم زور نظام، معاشی پس ماندگی، غربت اور روزگار کے متبادل ذرائع کے فقدان سمیت حکومت اور متعلقہ اداروںکی ناقص پالیسیز ہیں۔پیر آباد کے ایک اور رہائشی، فرمان الدین کے گھر سے چارافراد کے جنازے اٹھے، جن میں دو بھائی، ایک کزن اور ایک بھتیجا شامل ہیں۔ چار جنازوں کے اٹھنے کے دل خراش، لرزہ خیز واقعے نے کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے۔بلاشبہ، کان کنی دنیا کا خطرناک ترین پیشہ ہے، لیکن خطرناک اور غیر محفوظ کام میں واضح فرق ہوتا ہے۔
خطرہ اگر معلوم ہو تو اسے ٹیکنالوجی، مناسب تربیت، حفاظتی آلات اور بہتر نگرانی کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے، مگر افسوس، کان کنی کے شعبے میں خطرات کے ادراک کے باوجود ان سے نمٹنے کے لیے وہ نظام موجود نہیں، جو ایک جدید معدنی معیشت کا لازمی حصّہ ہونا چا ہیے۔ بلوچستان کی بعض کانوں کی گہرائی کئی ہزار فٹ تک پہنچ جاتی ہے۔
زیرِ زمین آکسیجن کی کمی، میتھین گیس، وینٹی لیشن کا ناقص نظام، کان کی چھت یا دیوار کا اچانک گرنا، پرانی مشینری اور ہنگامی حالات میں فوری امداد نہ پہنچ پانا، ایسے خطرات ہیں جو کسی بھی لمحے بڑے سانحے میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ میتھین گیس خاص طور پر خطرناک ہے، یہ نہ صرف دَم گُھٹنے کا باعث بن سکتی ہے بلکہ آتش گیر ہونے کے باعث معمولی چنگاری سے بھی دھماکے کا سبب بن سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب خطرات اتنے واضح ہیں تو حفاظتی نظام اتنا کم زور کیوں ہے؟
مزدور کی زندگی کی قیمت کتنی ہے؟: پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کے تحفّظ کے لیے قانونی ڈھانچا موجود ہے۔ ورکر ویلفیئر فنڈ اور سوشل سیکیوریٹی جیسے ادارے فعال ہونے کے دعوے دار ہیں، مگرکان حادثات میں جاں بحق مزدوروں کو معمولی معاوضہ دیا جاتا ہے، جب کہ حادثات کے بعد متاثرہ خاندان شدید معاشی بحران کا شکار ہوجاتے ہیں۔اسی لیےاداروں کی عدم موجودگی اور غفلت پر سنجیدہ سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ کان کنوں کی حالت دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ادارے عملی طور پر کہاں ہیں؟
حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزدور کے خاندان کو صرف معمولی معاوضہ دے دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ایک مزدور کی موت کے ساتھ اس کا پورا خاندان معاشی بحران کا شکار ہوجاتا ہے کہ خاندان کے کفیل سے محرومی کسی بھی خاندان کو شدید سماجی و معاشی بحران میں دھکیل دیتی ہے۔کسی بھی خاندان میں کمانے والے شخص کی ناگہانی موت یا معذوری پورے نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔
باپ کا سایہ اٹھنے سے جہاں بچّوں کا تعلیمی مستقبل تاریک ہو جاتا ہے، وہاں شوہر کی موت کسی بیوہ کو بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسی طرح، جوان بیٹے کا انتقال بوڑھے والدین کو بے سہارا کرجاتا ہے، جب کہ حادثے کے نتیجے میں کسی مزدور کی مستقل معذوری اسے عُمر بھر کے لیے دوسروں کا محتاج بنا دیتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ شانگلہ میں کان کنی کے حادثات محض ایک المیہ نہیں،سماجی تحفّظ (سوشل سیکیوریٹی) کا سنگین بحران بن چکے ہیں۔
یہاں ہزاروں خاندان مزدوروں کی ہلاکتوں یا معذوری کے بعد بیوگی اور یتیمی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ مزدوروں کے حقوق کی اس بُری طرح پامالی پر حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پرٹھوس عملی اقدامات اختیار کرنے چاہئیں کہ کان کنی کے خطرناک شعبے میں حادثات کی روک تھام کے لیے حفاظتی انتظامات کے ساتھ بااختیار مزدور نمائندگی یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
بلوچستان کے کان کنوں کے حقوق کے حوالے سے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کانوں میں مزدوروں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ انتظامیہ کے زیرِ اثر نام نہاد ’’پاکٹ یونینز‘‘ مزدوروں کے حقوق پر اثر انداز ہورہی ہیں۔ بنیادی حقوق سے محرومی اوریونین سازی کا حق نہ ہونے کی وجہ سے مزدور حفاظتی آلات، مناسب اجرت اور مقررہ اوقاتِ کار جیسے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے قاصر ہیں۔
ایک اکیلا مزدور اگر مالک سے حفاظتی ہیلمٹ، گیس ماسک یا بہتر وینٹی لیشن کا مطالبہ کرے، تو اسے نوکری سے نکالے جانے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اس کے برعکس، قانون کے تحت قائم مضبوط اور آزاد مزدور تنظیم کی موجودگی میں یہی انفرادی آواز ایک توانا اجتماعی طاقت بن جاتی ہے۔ لہٰذا کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اصلاحات کے نفاذ کے ساتھ ساتھ موثر اور آزاد مزدور نمائندگی بھی ناگزیر ہے، کیوںکہ قانونی پشت پناہی کی حامل آزاد مزدور یونین یا تنظیم ہی مزدوروں کے مطالبات کو ایک طاقت وَر اجتماعی شکل دیتی ہےاورپھر اُسے نظر انداز کرنا مالکان کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے۔
کم عُمر بچّوں سے مشقّت: کان کنی کے شعبے میں تیرہ سال تک کے کم عُمر بچّوں سے مشقّت کا کام لیا جانا اس بحران کا سب سے تاریک پہلو ہے۔ شدید غربت کے مارے غریب خاندان اپنے بچّوں کو کوئلے کی خطرناک کانوں میں دھکیلنے پر مجبور ہیں۔ یہ معصوم بچّے کان کنوں کے لیے کھانا پکانے، چھوٹے موٹے کام کرنے اور بعض اوقات براہِ راست جان لیوا کوئلہ نکالنے کے خطرناک عمل میں جھونک دیے جاتے ہیں۔
یہ ناخوش گوار صُورتِ حال ملکی ترقی کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ملکی مفادات، معاشی معاملات اپنی جگہ، مگر کسی بھی حال میں ملک کے مستقبل کا زیاں، بچّوں کا بچپن قربان کرنا قابلِ قبول نہیں۔ صنعتی و معاشی ترقی کے نام پر ایسے طرزِ عمل پہ سنجیدگی سے سوال اٹھانا اور فوری اصلاحی اقدامات کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
حکومت کی تحقیقات..... اگلا مرحلہ زیادہ اہم ہے: اگرچہ سورینج میں پیش آنے والے الَم ناک کان حادثے کے بعد بلوچستان حکومت نے وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کو تحقیقات کی ذمّے داری سونپ دی ہے اور محکمۂ معدنیات نے بھی کارروائی کرتے ہوئے مبیّنہ طور پر چار کانیں سیل کردیں، لیکن یہ اقدامات محض ابتدائی طورپر خوش آئند، اصل سوال تحقیقات کے اعلان کا نہیں، ان کے منطقی انجام اور عمل درآمد کا ہے۔
ماضی کے تلخ تجربات گواہ ہیں کہ بڑے سانحات کے بعد بننے والی رپورٹس اکثر وقت کی گرد میں دب جاتی ہیں۔ اس بار عوام کی نظریں صرف تحقیقات پر نہیں، بلکہ حقیقی انصاف پر مرکوز ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ فوری طور پر عام کرکےحادثے میں ملوث افراد، کان مالکان اور متعلقہ حکام کو بے نقاب کیا جائے،جب کہ غفلت برتنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
بلوچستان کی معدنی دولت اور جدید ٹیکنالوجی: وقت آچکا ہے کہ پاکستان کو معدنی ترقی کی راہ پر گام زن کرنے کے لیے فرسودہ کان کنی نظام سے چھٹکارا پایا جائے، کیوں کہ عالمی سطح پر اب مائننگ کا شعبہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سے تبدیل ہو چکا ہے۔ ملک میں جدید سینسرز، خودکار انتباہی نظام اور ڈیجیٹل سیفٹی ریکارڈز کے ذریعے نہ صرف قیمتی معدنیات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے بلکہ کان کنوں کی زندگیاں بھی محفوظ بنائی جا سکتی ہیں۔
دنیا میں مائننگ اب صرف بیلچے، ڈرلز اور مزدور کی محنت کا نام نہیں رہی۔ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، روبوٹکس، خودکار مشینری، ڈرونز، سینسرز، ڈیجیٹل میپنگ اور رئیل ٹائم ڈیٹا مانیٹرنگ نے اس شعبے کی نوعیت یک سربدل دی ہے۔ پاکستان میں بھی کانوں کے اندر میتھین، آکسیجن، درجۂ حرارت اور دیگر خطرناک عوامل کی مسلسل نگرانی کے لیے جدید سینسرز نصب کیے جاسکتے ہیں۔ اگر گیس کی سطح خطرناک حد تک بڑھ جائے تو خودکار نظام فوری طور پر انتباہ جاری کرسکتا ہے اور کان کنوں کے انخلا کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح ہر کان کا ڈیجیٹل سیفٹی ریکارڈ ہونا چاہیے، جس میں مزدوروں کی تعداد، کان کی گہرائی، حفاظتی معائنے، گیس کی سطح، مشینری کی حالت اور سابقہ حادثات کا مکمل ڈیٹا موجود ہو۔
نیز، مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ کان کنی کے شعبے کے لیے ایک قومی ڈیجیٹل مائننگ روڈ میپ تشکیل دیا جانا بھی بہت ضروری ہے، جس میں پانچ بنیادی نکات شامل ہونے چاہئیں۔ 1۔ ہر کان کی ڈیجیٹل رجسٹریشن اور سیفٹی پروفائل۔2۔ جدید گیس سینسرز اور رئیل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم۔3۔ کان کنوں کے لیے لازمی حفاظتی تربیت اور جدید سمیولیٹرز کے ذریعے عملی مشق۔4۔ مزدوروں کی صحت، اجرت، کام کے اوقات اور حادثات کا قومی ڈیٹا بیس اور 5۔سرکاری اداروں، جامعات، ٹیکنالوجی کمپنیز اور نجی کان کنی صنعت کے درمیان مستقل شراکت داری۔
واضح رہے، یہ اصلاحات صرف جانیں بچانے کے لیے نہیں، پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بھی ضروری ہیں کہ اس جدید ٹیکنالوجی سے حادثات کم ہوں گے، پیداوار بڑھے گی، اخراجات گھٹ جائیں گے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔