بابرسلیم خان، سلامت پورہ، لاہور
قوموں کی زندگی میں کچھ ایّام عزم و استقلال، فخر و انبساط کی علامت بن جاتے ہیں، اور جنگِ ستمبر کے 17دن بھی ہماری تاریخ کا ایسا ہی درخشندہ باب ہیں، جب پاکستان کی مسلّح افواج نے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دئیے۔ پاک فوج اور پاکستانی قوم نے جرأت و شجاعت کی وہ تاریخ رقم کی، جو آج بھی دشمن کے دل پر ہیبت طاری کیے ہوئے ہے۔
دراصل رات کی تاریکی میں حملہ کرنے والے غاصبوں کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس ارضِ پاک کے محافظ مکمل بےدار ہیں۔ دشمن تو اندھیرے ہی میں مارا گیا اور وطن کے جاں نثاروں نے اپنے لہو سے دفاع کی ایسی تاریخ رقم کی کہ جو، تاابد تاب ناک رہے گی۔
6ستمبر 1965ء کی شب، جب دشمن نے پاکستان کی سرحدوں پر حملہ کیا، تو اُس کا یہ خیال سو فی صد غلط ثابت ہوا کہ دفاعی ادارے، محافظ غفلت کی نیند سو رہے ہوں گے کہ ہماری مسلّح افواج کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور بے دار تھیں، تب ہی اس معرکے کے دوران پاک فوج کے جوانوں نے مادرِ وطن کے چپّے چپّے کی حفاظت کا فریضہ نہایت احسن طریقے سے سر انجام دیا۔
یوں تو ہماری برّی، بحری اور فضائی افواج نے دفاعِ وطن کی خاطر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا، لیکن پاک فضائیہ نے تو وہ تاریخ رقم کی، جس کی مثال ملنی ناممکن ہے۔ نمایاں ترین ہیروز میں پاک فضائیہ کے ایئر کموڈور محمد محمود عالم (ایم ایم عالم) کا نام سرِفہرست ہے۔
پاک فضائیہ کا یہ بہادر سپوت6جولائی 1935ء کو کلکتہ میں محمد مسعود عالم کے گھر پیدا ہوا۔ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈھاکا سے ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1952ء میں پاک فضائیہ جوائن کی اور2 اکتوبر 1953 ء کو کمیشن حاصل کیا۔ اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم نےامریکا، برطانیہ کے نامور عسکری اداروں سے پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔
ان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 1965ء میں رات کی تاریکی میں دشمن مُلک کی جانب سے جنگ مسلّط کیے جانے کے بعد، اُنھوں نے محاذِ جنگ پر شجاعت اور پیشہ ورانہ مہارت کی بہترین مثال قائم کی اور سرگودھا کے محاذ پر پانچ بھارتی ہنٹر جنگی طیارے ایک منٹ کے اندر اندر مار گرائے، جوکہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔اس مہم میں انھوں نے مجموعی طور پر9 طیارے گرائے اور دو کو نقصان پہنچایا، جن میں چھے ہاک ہنٹر بھی شامل تھے۔
سچ تو یہ ہے کہ1965ء کی سترہ روزہ جنگ میں پاکستانی شاہینوں نے دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ فضائی کارروائی کے دوران پانچ بھارتی طیارے گرنے کے بعد دشمن کے باقی طیارے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اور پھر بھارتی فضائیہ نے دوبارہ سرگودھا کا رُخ کرنے کی جرأت نہیں کی۔
اس جنگ میں بھارتی فضائیہ کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ مجموعی طور پر 110بھارتی طیارے تباہ ہوئے۔نیز، 149ٹینکس، 600بڑی گاڑیاں اور 60توپیں راکھ کا ڈھیر بنیں، جب کہ فضائیہ اپنے کئی تجربے کار ہوا بازوں سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
حکومتِ پاکستان نے اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کو ان کی شان دارکارکردگی پر ستارۂ جرأت سے نوازا، تولندن کے رائل کالج آف ڈیفینس اسٹڈیز کی ایک رپورٹ میں ایم ایم عالم کا موازنہ برطانوی فوجی کمانڈر فیلڈ مارشل ’’وسکاؤنٹ سلم‘‘ سے کیا گیا۔
بلاشبہ، ہوا بازی کی تاریخ پاک فضائیہ کے کارناموں بالخصوص ایم۔ ایم عالم کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے۔