مرتّب: ڈاکٹر طارق سلیم
صفحات: 240، قیمت: 2200 روپے
ناشر: قلم فاؤنڈیشن، یثرب کالونی، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔
فون نمبر: 0515101 - 0300
زیرِ نظر کتاب پاکستان کے نام وَر صحافی اور دانش وَر، الطاف حسن قریشی کی قومی و ملّی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے شائع کی گئی ہے، جس کاانتساب اُمرائے جماعتِ اسلامی پاکستان، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمّد، قاضی حسین احمد، سیّد منور حسن، سراج الحق اور حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کیا گیا ہے۔
کتاب کے مرتّب، امیرِجماعتِ اسلامی(پنجاب) ڈاکٹر طارق سلیم بھی خراجِ تحسین کے حق دار ہیں کہ اُنہوں نے الطاف حسن قریشی کی وفات کے فوراً بعد، اِس کتاب کی اشاعت کا سوچا۔ زیرِنظر کتاب میں حافظ نعیم الرحمٰن، جبّار مرزا اور کامران الطاف کے فلیپ شامل ہیں۔ یہ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔ اکابرینِ جماعتِ اسلامی کا خراجِ تحسین، قومی دانش وَروں کاخراجِ تحسین اور اُن سے کیے گئے انٹرویوز کے علاوہ الطاف حسن قریشی کی وہ سدا بہار تحریریں، جو تاریخ کے سینے میں اُترتی چلی گئیں۔
پاکستان کے جن صحافیوں کو’’صحافت کی آبرو‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے، اُن میں الطاف حسن قریشی کا نام اہم بھی ہے اور معتبر بھی۔ وہ مولانا ظفر علی خان، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا چراغ حسن حسرت اور شورش کاشمیری جیسے نام وَر صحافیوں کے مقلّد تھے۔ بلاشبہ اُنہیں نظریاتی صحافت کا سُرخیل قرار دیا جاسکتا ہے، اِس ضمن میں اُن کا تاریخ ساز کردار لائقِ ستائش ہی نہیں، قابلِ تقلید بھی ہے۔
اُنہوں نے قلم سے تلوار کا کام لیا، اُن جیسے جرأت مند، نڈر اور بےباک صحافی صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگر’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ میں شائع ہونے والی اُن کی تمام تحاریر یک جا کی جائیں، تو پاکستان کی سیاسی، سماجی اور معاشی تاریخ باآسانی مرتّب ہوسکتی ہے۔
الطاف حسن قریشی ایک سچّے اور کھرے پاکستانی تھے، اِسی لیے اُن کی تحریروں میں حب الوطنی اور پاکستانیت نمایاں ہے اور اُنہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی جن اہم شخصیات کے انٹرویوز کیے، اُن کی تاریخی حیثیت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔
یہ سچ ہے کہ اُنہوں نے ہرآمرِوقت کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا۔ ہر حُکم راں کی غلطیوں، کوتاہیوں کی نشان دہی کی، جس کی پاداش میں اُنہیں کئی بار پابندِ سلاسل بھی کیا گیا، لیکن اُن کے پائے استقامت میں کبھی لرزش نہیں آئی اور وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ اسلام اور پاکستان اُن کے بنیادی موضوعات تھے۔
اُنہوں نے شاعری بھی کی، لیکن اُسےاپنی ذات تک محدود رکھا اور بحیثیت شاعر کبھی سامنے نہیں آئے۔ بقول حافظ نعیم الرحمٰن’’الطاف حسن قریشی، پاکستان کی نظریاتی صحافت، فکری رہنمائی اور قومی شعورکی ایک درخشاں علامت تھے۔ یہ کتاب صرف الطاف حسن قریشی کی خدمات کا تذکرہ نہیں، بلکہ اُن اقدار، نظریات اور صحافتی روایات کی بھی یاد دہانی ہے، جن کے لیے اُنہوں نے پوری زندگی جدو جہد کی۔‘‘
ہمیں یقین ہے کہ یہ کتاب صحافیوں، طلبہ، محقّقین اور پاکستان کے فکری سفر سے دل چسپی رکھنے والے تمام قارئین کے لیے ایک اہم دستاویز ثابت ہوگی۔ نیز، ناشر علّامہ عبدالستارعاصم بھی خراجِ تحسین کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے الطاف حسن قریشی کی کتابیں تواتر کے ساتھ شائع کیں اور بعد ازمرگ بھی اُن سے متعلق کتاب کی اشاعت یقینی بنائی۔