ترکیہ میں ماہرین نے ایک پراسرار کشتی نما ساخت کے جدید ریڈار اسکین کے بعد زیرِ زمین ایسی ساختیں دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو ممکنہ طور پر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی باقیات سے منسلک ہو سکتی ہیں۔
یہ دریافت مشرقی ترکیہ میں دوروپینار نامی مقام پر ہوئی ہے، جو کوہِ ارارات سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے، یہ مقام کئی دہائیوں سے حضرت نوح ؑ کی کشتی کے ممکنہ آثار کی تلاش کرنے والوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔
محققین کے مطابق جدید تھری ڈی گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار کے ذریعے زمین کے نیچے کونیائی شکل کی ساختیں، راستے اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے حصے دریافت کیے گئے ہیں۔
محققین نے بتایا ہے کہ یہ ساختیں سطح زمین سے تقریباً 6 میٹر تک کی گہرائی میں موجود ہیں اور 157 میٹر طویل ساخت کے اندر کئی سطحوں کی شکل میں دکھائی دیتی ہیں۔
157 میٹر کی لمبائی نے محققین کی دلچسپی مزید بڑھا دی ہے کیونکہ یہ پیمائش حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی سے متعلق روایتی بیان کردہ طول و عرض سے قریب تر سمجھی جاتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس مقام سے حاصل کیے گئے مٹی کے نمونوں کے تجزیے میں ارد گرد کے علاقے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ نامیاتی مواد بھی پایا گیا ہے۔
محققین کے مطابق یہ نتائج ممکنہ طور پر بوسیدہ نامیاتی مواد، حتیٰ کہ قدیم لکڑی کی موجودگی سے مطابقت رکھتے ہیں۔
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ حالیہ ریڈار اسکین کے نتائج تاحال کسی مستند سائنسی جریدے میں ماہرین کی جانچ کے بعد شائع نہیں ہوئے، جبکہ اس دریافت سے لکڑی، دھات یا کسی اور انسانی ساختہ مواد کا کوئی حتمی ثبوت بھی برآمد نہیں ہوا ہے۔
’نوحز آرک اسکینز‘ منصوبے سے وابستہ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات سے حقیقت واضح ہو سکتی ہے۔
محققین زیرِ زمین موجود حصوں کا مزید جائزہ لینے اور اضافی نمونے حاصل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔