دبئی (عبدالماجد بھٹی) انگلینڈ میں پاکستان کی شکست پر پینک بٹن دبادیا گیا ہے۔ سارا قصور امام الحق اور محمد رضوان کا سمجھ کر ان کے گرد شکنجہ کسنے کی تیاری ہے۔ 2023سے 2026کے دوران پاکستان نے 20 ٹیسٹ میچز کھیلے ، 15 میں شکست ہوئی۔اس دوران پانچ ہیڈ کوچز تبدیل کیے جن میں محمد حفیظ، جیسن گلسپی، عاقب جاوید اور اظہر محمود شامل ہیں۔ شان مسعود، سلمان آغا اور بابر اعظم نے کپتانی کی۔ اس دوران سلیکشن کمیٹی میں 17 مختلف افراد شامل رہے جن میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ 13کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کیپ دی گئی۔ تحقیقات کے بعد امام الحق پر ایک سے دو سال کی پابندی کا امکان ہے۔ وکٹ کیپر محمد رضوان کے ڈسپلن کے حوالے سے بورڈ کو شدید تحفظات ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 31 اگست کو سلیکٹرز کو نوٹس کےذریعے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دورے کیلئے محمد رضوان اور امام الحق کو منتخب کرنے کی 24 گھنٹے میں تحریری وضاحت طلب کی تھی ۔ یہ بات حیران کن ہے کہ آخر انہی دو کھلاڑیوں سے متعلق جواب طلبی کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے ؟ ۔ جبکہ سلیکشن کمیٹی کے ہر اجلاس کے منٹس بورڈ کو جمع کرائے جاتے ہیں جس میں تمام تفصیل ہوتی ہے ۔ سلیکشن کے وقت بورڈ کی جانب سے کھلاڑی کی پرفارمنس اور فٹنس کا ریکارڈ فراہم جاتا ہے ۔ منتخب ٹیم پی سی بی چیئرمین کے پاس حتمی منظوری کے لیے جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ٹیم درست سلیکٹ نہیں ہوئی تھی تو اس کی منظوری کیوں دی گئی؟۔ امام الحق اور محمد رضوان کی کارکردگی پر نوٹس حیران کن لگتا ہے کیونکہ امام الحق نے گزشتہ فرسٹ کلاس سیزن میں پانچ سنچریوں کی مدد سے گیارہ سو سے زائد رنز بنائے تھے ۔ محمد رضوان کی بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کے خلاف دو سیریز میں تین نصف سنچریاں تھیں۔