پشاور (نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشدعلی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ضم اضلاع کے پراجیکٹ ملازمین کو پلاننگ اور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ( پی اینڈ ڈی ) میں ضم کرنے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر چیف سیکرٹری خیبرپختون خوا کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ۔دو رکنی بنچ نے خیبر پختون خوا پلینرز ایسوسی ایشن کے صدر حامد نوید کی جانب سے دائر رٹ کی سماعت کی ۔دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل علی گوہردرانی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل پی اینڈ ڈی کے ملازمین ہیں جو پبلک سروس کمیشن یا سینیارٹی کی بنیاد پر پلاننگ ڈیپارٹمنٹ اور اس کے زیر انتظام دیگر محکموں میں اس وقت خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔انہوں نےعدالت کوبتایا کہ قانون کے تحت اس کیڈر میں یا براہ راست بھرتی ہوگی یا ترقی کے زریعے اس کیڈر میں سینیارٹی کا تعین کیا جاتا ہے۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ حال ہی میں صوبائی کابینہ نے سابقہ فاٹا کے گریڈ 17، 18 اور 19 کے 68 سے زائد ملازمین کو پی اینڈڈی میں ضم کرنے کی منظوری دی جس کا باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ جو ملازمین پی اینڈ ڈی میں ضم کئے گئے ہیں وہ پراجیکٹ ملازمین ہیں اور ان کی تقرری گریڈ 17، 18 اور 19 میں براہ راست ہوئی ہے اس اقدام سے یہاں پر کام کرنے والے ملازمین بےچینی کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ اطلاعات کے مطابق انہیں سینیارٹی بھی یہاں پر دی جارہی ہے قانون کے تحت جب کوئی ایک ڈیپارٹمنٹ سے دوسرے میں ضم ہوتا ہے تو وہ سنیارٹی لسٹ میں سب سے آخر پر ہوگا کیونکہ درخواست گزار پہلے ہی وہاں پر کام کررہے ہیں اسلئے جو بھی سنیارٹی ہوگی وہ پہلے ان کو ملے گی اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت نے جو اقدام اٹھایا ہے اس میں پراونشل پلاننگ سروسز کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی اس لئے ضروری ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے انہوں نے اس ضمن میں سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ کے متعدد فیصلوں کے حوالہ دیا اس موقع پر جسٹس سید ارشدعلی نے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے پراجیکٹ میں لوگوں کو بھرتی کرتی ہے پھر انہیں سمجھ نہیں آتی کہ انہیں کہاں پر لگایا جائے چونکہ اس ضمن میں صوبائی حکومت نے اعلامیہ جاری کیا ہے لہذٰا ضروری ہے کہ صوبائی حکومت کے جواب کا انتظار کیا جائے۔ عدالت نے اس ضمن میں چیف سیکرٹری اور سیکرٹری پی اینڈ ڈی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔