• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ اسمبلی، صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور، ایم کیو ایم کا واک آؤٹ

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی ،ایوان نے ایک طویل اور تاریخی بحث کے بعد سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرلی جبکہ ایم کیو ایم نے واک آؤٹ کیا۔ قرارداد پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نثار کھوڑو نے پیش کی تھی۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، صوبے کی تقسیم سے متعلق اقدام منتخب ایوان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔ فریال تالپور، شرجیل میمن، ضیا الحسن لنجار، سعید غنی، سردار شاہ اورمکیش کمار چاولہ نے کہا کہ ہماری زندگی بھی سندھ کی وحدانیت سے بڑھ کر نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اپوزیشن اراکین سے کہا مل کر ایک مشترکہ قرارداد منظور کرلیں، نثار کھوڑو نے قرارداد کا مسودہ قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے آئین دیا۔ اس آئین میں صوبوں کی تقسیم کا اختیار قومی اسمبلی کو بھی نہیں تھا۔ بعد میں جنرل ضیا نے ترمیم کر کے یہ اختیار قومی اسمبلی کو دیا لیکن شرط رکھی کہ صدر دو تہائی اکثریت کے بغیر دستخط نہیں کریں گے۔اسی لئے ہم بار بار قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں کہ خبردار سندھ کی تقسیم پر بات بھی نہ کرنا۔اپوزیشن نے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات شامل کرنے کی تجویز دی، انتظامی یونٹس کے قیام کو سندھ کی تقسیم کے بنیادی معاملے کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں، انتظامی یونٹس کے قیام پر الگ بحث کرنی تھی تو علیحدہ قرارداد لائی جاسکتی تھی۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کی وحدت کے دفاع کا اعلان کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور صوبے کی تقسیم سے متعلق کوئی بھی اقدام سندھ کے منتخب ایوان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں، سندھ اسمبلی اپنے آئینی حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔ ایم کیو ایم نے لیکن بدنیتی دکھانی تھی، وہ انہوں نے دکھادی اور واک آوٹ کرگئے۔ یہ لوگ اسمبلی میں آکر کہتے ہیں کہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے لیکن باہر جا کر کہتے ہیں کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس بن جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے، آئین میں ترمیم کرکے قومی اسمبلی کو صوبوں کی حدود سے متعلق قانون سازی کا اختیار دیا گیا اور صدرِ مملکت کی منظوری کے لئے دو تہائی اکثریت کی شرط رکھی گئی ہے۔انہوں نے یہ باتیں جمعرات کو سندھ اسمبلی میں ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق نثار کھوڑو کی تحریک التوا پر گزشتہ چار روز سے جاری بحث کے اختتام پر اپنے کلیدی خطاب میں کہیں ۔

اہم خبریں سے مزید