کراچی(طاہر عزیز…اسٹاف رپورٹر) کمپیٹیٹواینڈ لیوایبل سٹی آف کراچی (CLICK) کےعملے کے بعض ارکان کی کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپرومنٹ پروجیکٹ( KWSSIP )میں دوبارہ بھاری تنخواہوں پر تقرری کا معاملہ، ذرائع ا سے وزیراعلیٰ سندھ کی منظور شدہ سمری کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں اطلاعات کے مطابق یہ تقرریاں انتہائی بھاری تنخواہوں پر کی جا رہی ہیں، جس پر انتظامی اور مالی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی گئی اور بعد ازاں منظور ہونے والی سمری میں محکمہ خزانہ نے واضح طور پر شرط عائد کی تھی کہ CLICK منصوبے کی توسیعی مدت کے دوران صرف کم سے کم ضروری عملہ رکھا جائے گا اور اس عملے کو صرف منصوبے کی بندش، باقی ماندہ کاموں کی نگرانی، ریکارڈ، آڈٹ اور متعلقہ امور تک محدود رکھا جائے گا۔ دریں اثنا کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپرومنٹ پروجیکٹ کے ترجمان نے دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ منظور شدہ فریم ورک یا مقررہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی تقرری یا تعیناتی نہیں کی گئی ہر تعیناتی کو مقررہ انتظامی اور پروکیورمنٹ طریقہ کار کے تحت مکمل کیا گیا اسے باقاعدہ دستاویزی شکل دی گئی اور مجاز اتھارٹیز، بشمول ورلڈ بینک سے مطلوبہ منظوری حاصل کی گئی چنانچہ یہ تاثر کہ تقرریاں بغیر اجازت کی گئیں، منظور شدہ انتظامات کی خلاف ورزی کی گئی، یا کوئی فرد بیک وقت دونوں منصوبوں سے تنخواہ وصول کر رہا ہے۔