کراچی (محمد منصف) مقتول میر رضا کے دوست و کاروباری شراکت دار محمد احمد بھردے نے جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کے روبرو پیش ہو کر اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا مشترکہ کاروبار نفع بخش اور ٹھیک چل رہا ہے البتہ والد میر حسین کا کاروبار نقصان تھا جس کی وجہ سے میر رضا سمیت پوری فیملی مالی دباؤ کا شکار تھی ، میر رضا شراکت داری کے علاوہ کرپٹو کرنسی کی ٹریڈنگ کرتا تھا، گمشدگی کی اطلاع ملنے اہلخانہ کی موجودگی میں میر رضا کے کمرے کی تلاشی لی جہاں شیلف میں رکھی گئی سگریٹ کے پیکٹ میں چرس برآمد ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی سربراہ جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں اجلاس شروع ہوا۔ میر رضا کے اہلخانہ وکیل جبران ناصر، سندھ حکومت کے فوکل پرسن ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ایس ڈی پی او شارع فیصل ارشد آفریدی، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال، میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد بھردے اور عبد اللہ، میر رضا کے دوست رازق، حیصم اور میر رضا کو رائیڈ فراہم کرنے والے ڈرائیور احسان علی بھی کارروائی میں شریک ہوئے۔ کمیشن نے بزنس پارٹنر محمد احمد بھر دے کو طلب کرلیا۔ جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ کب سے میر رضا کو جانتے ہیں؟ محمد احمد نے کہا کہ میر رضا کو بچپن سے جانتا ہوں، پہلی کلاس سے ساتھ ہے۔