دبئی(نمائندہ خصوصی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے پی سی بی ، پوری انتظامیہ اور عاقب جاوید کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اب بھی ان کا ہزاروں ڈالرز کا مقروض ہے۔پاکستان کرکٹ کے مسائل کی جڑ عاقب جاوید ہیں، میرے بارے میں بولنا بند نہ کیا، تو قانونی کارروائی سے گریز نہیں کرونگا ۔ خاموش رہ کر تنخواہ گھر لے جا سکتا تھا، مگر میں یس مین نہیں، اندازہ تھا کہ چند ماہ میں برطرف کیا جا سکتا ہے ۔ ذمے داریاں سنبھالنے سے قبل مجھے کئی معاملات کی وجہ سے خبردار کر دیا گیا تھا۔ ٹیسٹ ٹیم کو بہتر بنانے کا موقع سمجھ کر کوچنگ قبول کی، یہ میرے کیریئر کی بڑی کامیابیوں میں سے ہونے والی تھی ۔ پاکستان میں فاسٹ بولنگ واپس لانا میرے مینڈیٹ کا حصہ تھا، ایسی پچز تیار کرنا چاہتے تھے جو باؤنس اور فاسٹ بولنگ کو سپورٹ کریں۔ عاقب جاوید کی تقرری نے پورا منظر نامہ بدل دیا، وہ ہر چیز کے انچارج بن گئے تھے، سلیکشن کے معاملات میں بھی میرا کوئی کردار نہیں رہا، پاکستان میں تجربے نے مجھے کوچنگ سے بددل کر دیا ۔ عاقب جاوید نے پہلی ملاقات میں اپنی بالادستی ظاہر کرنے کی کوشش کی، عاقب جاوید دوسروں کی رائے اور تجاویز قبول نہیں کرتے، میری بات مانو یا راستہ چھوڑ دو۔ میرے اور گیری کرسٹن کے معاہدوں پر تبصرہ کرنا ان کا کام نہیں تھا، ہم پاکستان میں ٹریننگ کیمپس کیلئے وقت دینے کو تیار تھے۔ وسیم اور وقار میرے ہیروز تھے، ان سے ملا تو وہی محبت اور احترام محسوس ہوا، عاقب جاوید سے مل کر ایسا محسوس نہیں ہوا، مائیک ہیسن کو مشورہ ہے اپنے فیصلوں پر اعتماد کرے، کسی کی ہاں میں ہاں ملانے والا نہ بنے، اُمید ہے صرف تنخواہ کی خاطر اس معاملے میں نہیں الجھے گا۔