اسلام آباد(مہتاب حیدر)ریلوے لائن ML1 منصوبہ کیلئے پاکستان نے ڈھائی ارب ڈالر قرض کیلئے عالمی کنسورشیم کے ذریعے درخواست کردی۔اے ڈی بی ایک ارب ڈالر سے زائد قرض فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا، ورلڈ بینک،اے آئی آئی بی اور دیگر عالمی ادارے بھی فنڈنگ کنسورشیم میں شامل ہوں گے۔وفاقی وزیر احد چیمہ اور اے ڈی بی وفد کا اجلاس، ایم ایل ون منصوبے کا جائزہ،ایشیائی ترقیاتی بینک کی بروقت پیش رفت کیلئے حکومت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی ،دو دہائیوں سے تاخیر کا شکار منصوبے کا ڈیزائن اکتوبر تک مکمل کرنیکا ہدف، خریداری و دیگر مراحل کا تیز آغاز ہوگا،وزیراعظم شہباز شریف نے منصوبے کو جلد عملی شکل دینے پر زوردیا ہے۔ اسلام آباد نے پاکستان ریلوے کی طویل انتظار کے بعد شروع ہونے والی مین لائن (ایم ایل 1) کی تعمیر کے پہلے مرحلے کے لیے بین الاقوامی قرض دہندگان کے ایک کنسورشیم کے ذریعے 2.5 ارب ڈالر کے قرض کی درخواست کی ہے۔ توقع ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) دیگر کثیرالجہتی قرض دہندگان، جن میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی)، عالمی بینک اور دیگر ادارے شامل ہیںکے ساتھ مل کر سرکردہ بین الاقوامی قرض دہندہ کا کردار ادا کرے گا۔حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بدھ کے روز ’دی نیوز‘ کو مختصر جواب میں بتایاکہ پہلی قسط کے لیے اندازاً 2.5 ارب ڈالر کی فنڈنگ درکار ہوگی، جو بین الاقوامی قرض دہندگان کے ایک کنسورشیم کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔ اے ڈی بی اہم کردار ادا کرے گا اور ممکنہ طور پر ایک ارب ڈالر سے زائد قرض فراہم کرے گا۔ملک میں ML1 کی اپ گریڈیشن اب تک عملی شکل اختیار نہیں کرسکی۔ یہ منصوبہ تقریباً دو دہائیاں قبل مشرف،شوکت عزیز حکومت کے دور میں نیشنل ٹریڈ کوریڈور (این ٹی سی) کے تحت تصور کیا گیا تھا، جس میں اے ڈی بی اس منصوبے کے لیے مالی معاونت کا انتظام کرنے والا سب سے نمایاں ادارہ تھا۔ بعد ازاں اسلام آباد کی درخواست پر چین نے اسے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اپنے اہم منصوبوں میں شامل کرلیا، لیکن 2014 سے 2026 تک اس کی مالی معاونت کا انتظام حتمی شکل اختیار نہ کرسکا۔